لاہور ہائیکورٹ کا عوامی تحریک کو مال روڈ پر دھرنے کیلئے جاری اقدامات روکنے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ کا عوامی تحریک کو مال روڈ پر دھرنے کیلئے جاری اقدامات روکنے ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان عوامی تحریک کو لاہور میں دھرنے کے حوالے سے غیر قانونی اقدامات سے روکتے ہوئے قراردیا ہے کہ قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے ۔مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے بیان کے حوالے سے قرار دیا ہے کہ پاکستان عوامی تحریک نے جلسے کی اجازت کیلئے تاحال ضلعی انتظامیہ کو درخواست نہیں دی ہے جو کہ پنجاب سول ایڈمنسٹریشن ایکٹ مجریہ 2017ء کے سیکشن کا بنیادی تقاضہ ہے ۔عدالت نے طاہر القادری سمیت مدعا علیہان سے جواب بھی طلب کرلیا ہے ۔عدالت کو پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے بتایاگیا کہ عوامی تحریک نے چیئرنگ کراس کی بجائے ناصر باغ کے اردگرد جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم یہ جلسہ کس جگہ ہوگااس کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا ہے ۔عدالت نے وکیل کو واضح ہدایات کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ قانون پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے ۔مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ نے یہ حکم جاری کرتے ہوئے تاجر نعیم میر کی درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ حکومت اور عوامی تحریک دونوں قانون کے دائرے میں رہیں، قانون کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔فاضل جج کے روبرو درخواست گزار کے وکیل اسد منظور بٹ نے موقف اختیار کیاکہ ڈاکٹر طاہر القادری نے 16 اگست کو مال روڈ پر دھرنے کا اعلان کیا ہے،عدالتی حکم کے تحت مال روڈ پر کوئی جلسہ، جلوس اورریلی نہیں نکالی جا سکتی، عدالتی حکم پر عمل کرتے ہوئے ضلعی انتطامیہ نے مال روڈ پر دفعہ 144 کا نفاذ کر رکھا ہے جبکہ ناصر باغ اور عتیق سٹیڈیم کو جلسے ،جلوسوں کے لئے مخصوص کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ مال روڈ پر دھرنے سے دہشت گردی کا ناخوشگوار واقعہ ہو سکتا ہے جبکہ مارکیٹوں کی بندش سے کاروبار زندگی تباہ ہونے کا اندیشہ ہے، انہوں نے استدعا کی کہ طاہر القادری کو مال روڈ پر دھرنا دینے سے روکا جائے اور حکومت کو مال روڈ پر احتجاج کے خلاف عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے احکامات صادر کئے جائیں، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شکیل الرحمن خان نے حکومت پنجاب کی جانب سے جواب داخل کراتے ہوئے کہا کہ دفعہ 144کے نفاذ کے باوجود عوامی تحریک کی جانب سے دھرنے کا اعلان کیا گیا،مال روڈ پر دفعہ 144کی خلاف ورزی کرنے پر قانون کے مطابق کاروائی کی جائے گی،انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی خدشات موجود ہیں، انہوں نے عدالت میں انکشاف کیا کہ عوامی تحریک نے دھرنے کے لئے اجازت بھی طلب نہیں کی ہے جبکہ قانون کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی اجازت کے بغیر کسی قسم کا جلسہ کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی جلوس نکالا جاسکتا ہے ۔عدالتی حکم پرعوامی تحریک کی جانب سے اشتیاق چودھری پیش ہوئے اورموقف اختیار کیا کہ عوامی تحریک نے دھرنے کا مقام چیئرنگ کراس سے تبدیل کر کے ناصر باغ کے اردگرد کسی جگہ جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم یہ جگہ کون سی ہوگی تاحال حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ، انہیں پارٹی کی طرف سے حتمی ہدایات نہیں ہیں، حتمی جواب کے لئے مہلت دی جائے۔دوران سماعت عدالت کے علم میں لایا گیا کہ عوامی تحریک کی جانب سے دھرنا دینے کے انتظامات جاری ہیں جس پر عدالت نے قانون پر سختی سے کاربند رہنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ قانون کی خلاف ورزی نہ کی جائے ،عدالت نے کیس کی مزیدسماعت آج16اگست کو صبح ساڑھے 9 بجے تک ملتوی کر دی۔

مزید : صفحہ اول


loading...