این اے 120امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال شروع ، کلثوم نواز آج اور یاسمین راشد 17اگست کو طلب

این اے 120امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال شروع ، کلثوم نواز آج اور یاسمین ...

  



لاہور (جنر ل ر پو رٹر،نامہ نگار )این اے 120 کے ضمنی انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن نے اْمیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کاکام شروع کر دیا گیا ہے۔ کلثوم نواز کے سر پر نااہلی کی تلوار لٹک گئی۔ تحریک انصاف، عوامی تحریک اور پیپلز پارٹی نے کلثوم نواز کی اہلیت چیلنج کر دی۔تفصیلات کے مطابق این اے 120 کے انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن نے اْمیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کاعمل شروع کردیا، پہلے روز 26امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل کر لی گئی ہے۔ مسلم لیگ ن کی اْمیدوار بیگم کلثوم نوازکوآج جبکہ تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشدکوکل الیکشن کمیشن میں طلب کیا گیاہے۔پیپلز پارٹی کے اْمیدوار فیصل میر نے کلثوم نواز کی نااہلی کے لئے جمع کرائی گئی درخواست میں کہا کہ کلثوم نواز دُہری شہریت رکھتی ہیں، مسلم لیگ ن کے صدر کو نااہل کیا گیا لہذا انکی جماعت الیکشن لڑنے کیلئے اہل نہیں رہی۔پاکستان عوامی تحریک کے امیدوار اشتیاق چودھری نے کہا کہ اس حلقے میں مقتولین اورسانحہ ماڈل کے قاتلوں کے درمیان مقابلہ ہو گا،سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ورثاء ہر حلقے میں قاتلوں کا پیچھا کریں گے،پیپلز پارٹی ورکرز کی امیدوار ساجدہ میر نے کہا کہ میرا مقابل پیسے والوں سے ہے،بیگم کلثوم نواز اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے پاس ڈھیروں پیسے ہیں مگرمیں عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوں۔ریٹرننگ افسر کی جانب سے مزید امیدواروں کو آج کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے لئے طلب کر لیا گیاہے۔۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے اْمیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کا عمل کل 17اگست تک جاری رہے گا۔الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے حلقہ 120کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظوری اور مسترد کئے جانے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے لئے ہائیکورٹ کے 2جج مقرر کر دیئے ہیں۔الیکشن کمیشن پاکستان کی جانب سے جاری کئے گئے اپیلیٹ ٹربیونل کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ این اے 120کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے یا منظور ہونے کے خلاف امیدوار ان لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ اور مسٹر جسٹس شاہد وحید کے روبرو اپیلیں دائر کر سکیں گے، الیکشن کمیشن کے مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ این اے 120کے ضمنی انتخاب کے شیڈول کے مطابق امیدوار 21اگست کو کاغذات نامزدگی کے منظور ہونے اور مسترد کئے جانے کے ریٹرننگ آفیسر کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں دائر کر سکیں گے اور انتخابی شیڈول کے مطابق اپیلیٹ ٹربیونل کو کاغذات نامزدگی کے خلاف اپیلوں پر 24اگست تک فیصلے کرنے کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔مزید برآں حلقہ این اے 120 کے ضمنی الیکشن کی تیاریوں کے سلسلے میں الیکشن کمشنر پنجاب کے دفترمیں انتظامات کا تفصیلی جائزہ لینے کے لئے اعلیٰ افسران کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ حلقہ میں 50 الیکٹرونک ووٹنگ مشینیں اور 50 بائیومیٹرک ووٹنگ مشینیں تجرباتی بنیادوں پر تقریباً 21 پولنگ اسٹیشنز پر استعمال کی جائیں گی۔اس موقع پر صوبائی الیکشن کمشنر نے ڈائریکٹر جنرل ایڈمن کو صوبہ پنجاب کی آبادی اور انتظامی ڈھانچے کے بارے میں تعارفی بریفنگ دی۔ بعدازاں حلقہ این اے 120کے دیگر انتظامی امورکے مراحل کے بارے میں آگاہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ حتمی پولنگ سکیم انتخاب کے دن سے 15 دن قبل جاری کی جائے گی ۔ سیکیورٹی پلان کی تشکیل کے لئے حتمی پولنگ سکیم متعلقہ سیکیورٹی اداروں کے حوالے کر دی جائے گی،حلقہ میں انتخابی سرگرمیوں کا مشاہدہ کرنے کے لئے مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں،اس کے علاوہ ڈ ی آراو، آر او، ڈی پی او اور سی پی او کے دفاتر میں باقاعدہ شکایات درج کرانے کا مراکز قائم کئے گئے ہیں۔دریں اثناء این اے 120کے لئے جاری سکروٹنی فہرستوں نے الیکشن کمیشن کے ناقص اور غیر سنجیدہ انتظامات کا بھانڈا پھوڑ دیاہے،سکروٹنی فہرستوں کے مطابق امیدواروں کے کاغذات کی سکروٹنی کے لئے اوسطا 5منٹ کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم میاں محمدنواز شریف کی نااہلی کے بعد قومی اسمبلی کے حلقہ 120کے ضمنی انتخاب کے لئے ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی سکروٹنی فہرستیں جاری کی گئی ہیں، امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے لئے انتہائی کم وقت رکھا گیا ہے جبکہ ذرائع کے مطابق امیدواروں کے کاغذات کی سکروٹنی کے لئے کسی سرکاری ادارے سے تفصیلات طلب نہیں کی جا رہیں اور نہ ہی عام انتخابات کی طرح ایف بی آر، نیب اور دیگر اداروں سے بھی امیدواروں کا ریکارڈ نہیں مانگا گیاہے۔

کاغذات نامزدگی

مزید : صفحہ اول


loading...