محکمہ صنعت شہر میں کام کرنیوالے صنعتی یونٹس کا شمار کرائے: وزیر اعلیٰ سندھ

محکمہ صنعت شہر میں کام کرنیوالے صنعتی یونٹس کا شمار کرائے: وزیر اعلیٰ سندھ

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کمبائنڈ ایفلیونٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ کوٹری کی تکمیل کے لیے 63.781 ملین روپے کی منظوری دیتے ہوئے محکمہ صنعت کو ہدایت کی ہے کہ وہ شہر میں کام کرنے والے صنعتی یونٹس کا شمار کرائیں تاکہ ماحولیاتی قواعد پر عمل درآمد کو یقینی بنایاجاسکے۔ انہوں نے یہ بات وزیر اعلی ہاؤس میں ایفلیونٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں صوبائی وزیر پی اینڈ ڈی میر ہزار خان بجارانی،صوبائی وزیر ماحولیات محمد علی ملکانی، چیئر مین پی اینڈ ڈی محمد وسیم، ایڈووکیٹ جنرل سندھ ضمیر گھمرو، وزیرا علی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری سہیل راجپوت، سیکریٹری صنعت عبدالرحیم سومرو و دیگر نے شرکت کی۔ سیکریٹری صنعت عبدالرحیم سومرو نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر سائیٹ لمیٹڈ نے کمبائینڈ ایفلیونٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ کوٹری کو کنٹریکٹرسے لے لیا ہے ۔ سائیٹ اسے فعال بنانے کے لیے اس کا باقی ماندہ کام کررہی ہے ۔ وزیرا علی سندھ نے کہا کہ الیکٹریلک اور میکنکل کام کی منظوری کے بعد انہوں نے اس کی لاگت کے 63.781ملین روپے کی منظوری دی ہے۔ کوٹری ٹریٹمنٹ پلانٹ کے باقی ماندہ کام کی تفصیلات بتاتے ہوئے سیکریٹری صنعت نے کہا کہ تمام ٹینکوں کی صفائی کردی گئی ہے اور یہ کام ایک دوسرا کنٹریکٹر کررہا ہے۔ سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد سے متعلق بتاتے ہوئے سیکریٹری صنعت نے کہا کہ مختلف صنعتوں کو 1700نوٹسز اور ان کے ریمائنڈرجاری کئے جاچکے ہیں۔ تقریبا 50یونٹس نے جواب دیئے ہیں اور جو لوگ ابھی تک جواب دینے میں ناکام رہے ہیں ان کے خلاف ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ کمبائنڈ ایفلیونٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ (سی ای ٹی پی)سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 5 سی ای ٹی پی کے قیام کے حوالے سے 11390ملین روپے کی منظوری زیرعمل ہے۔سائیٹ کے پاس 19ایم جی ڈی ڈسچارج ڈیزائن ہے جس کے لیے 25ایکڑ زمین دستیاب ہے اور اس پر 2.243ملین روپے لاگت آئے گی۔ ٹرانس لیاری سی ای ٹی پی کا ڈسچارج ڈیزائن 27ایم جی ڈی ہے جس کے لیے 35ایکڑ زمین دستیاب ہے اور اس کی لاگت 3672ملین روپے ہے ۔ایف بی ایریا /نارتھ کراچی کا ڈسچارج ڈیزائن 12ایم جی ڈی ہے اور 7ایکڑ زمین دستیاب ہے اور اس پر 1590ملین روپے لاگت آئے گی۔ لانڈھی /کورنگی سی ای ٹی پی کا ڈسچارج 26ایم جی ڈی ہے اور صرف 35ایکڑ کے رقبے پر قائم کیا جائے گا اور اس پر تقریبا 3258ملین روپے لاگت آئے گی۔ ہائی وے سائیٹ فیز ٹو کا ڈسچارج 10ایم جی ڈی ہے اور 627ملین روپے کی لاگت سے 10.45ایکڑ رقبہ تعمیر کیاجائے گا۔ چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم نے وزیر اعلی سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 5سی ای ٹی پیز آلودگی پر قابو پانے اور صنعتی یونٹس کے لیے کم لاگت موثر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے قیام کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد میں مدد دینگے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے بھاری صنعتی آلودہ پانی کیبے ربط ڈسچارج کو کنٹرول کرنے میں بھی مدد ملے گی اور واٹر باڈی وصول کرنے کی صورت حال بھی بہتر ہوگی اور اس سے علاقے کی سماجی اور معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ ماحول بھی بہتر ہوگا ۔صوبائی وزیر ماحولیات محمد علی ملکانی نے کہا کہ سندھ انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی (ای پی اے)فعال طریقے سے کام کررہی ہے اور اس نے اب تک پانی کے معیار پر 37رپورٹس جنریٹ کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ٹیسٹ رپورٹس کی بنیاد پر کارروائی کا آغاز کیاگیاہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ای پی اے کے 10مزید ضلعی دفاتر قائم کئے جارہے ہیں ، جس کے لیے فنڈز درکار ہیں اس پر وزیر اعلی سندھ نے اس مقصد کے لیے100ملین روپے جاری کرنے کی ہدایت کی۔ سیکریٹری ماحولیات بقااللہ اننڑ نے اجلاس کو بتایا کہ سندھ انوائرمنٹل ٹربیونل کے سامنے 25کیسز پیش کیے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ 35صنعتی یونٹس کو ان ہاؤس ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس قائم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور آلودگی پر قابوپانے کے لیے انوائر منٹل مینجمنٹ پلان (ای ایم پی)کے تحت خاطر خواہ اقدامات کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ای پی اے کی مداخلت کے بعد 125صنعتی یونٹس نے اپنے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ قائم کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوٹری اور کورنگی میں چمڑے کی صنعتوں نے اپنے 100ٹریٹمنٹ پلانٹس نصب کیے ہیں جو کہ بہتر طریقے سے کام کررہے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انوائٹرمنٹل پروڈیکشن ایجنسی نے اسپتالوں اور صنعتوں کو 127خطوط لکھے ہیں جس میں سے 100خطوط پرسنل ہیئرنگ کے لیے جاری کئے گئے ہیں ۔ وزیر اعلی سندھ نے کہاکہ شہر کے صنعتی علاقوں میں مٹی کے اخراج کی رپورٹس ہیں جس پر صوبائی وزیرماحولیات محمد علی ملکانی نے کہا کہ 62یونٹس ہیں جو کہ کریشنگ کرتے ہیں ،ان کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ای پی اے نے 2.2ملین روپے جرمانے کی مد میں 11مختلف صنعتی یونٹس سے ای پی اے کے قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر وصول کئے ہیں ۔ وزیر اعلی سندھ نے محکمہ صنعت اور ماحولیات کو ہدایت کی کہ وہ صنعتی یونٹس میں ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب کو یقینی بنانے کے لیے مل کر کام کریں ۔ انہوں نے کا کہ یہ سیریئس اشوز ہیں اور اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے اور انہیں ہر پندرہ دن کے بعد رپورٹس پیش کی جائیں۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...