ضلع ناظم اور نائب ناظم چارسدہ کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی تیاریاں

ضلع ناظم اور نائب ناظم چارسدہ کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی تیاریاں

  



چارسدہ (بیورورپورٹ) تحریک انصاف کے ضلعی ناظم اورجماعت اسلامی کے نائب ناظم اعلی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر کاروائی کیلئے ضلع کونسل کا اجلاس جمعرات کے روز طلب ۔ اے این پی ، جے یوآئی اور قومی وطن پارٹی پر مشتمل اپو زیشن بھنور میں پھنس گئی۔ اپو زیشن کا خفت سے بچنے کیلئے ریکو زیشن واپس لینے کی کو شش۔ اپوزیشن لیڈر نے اجلاس کو غیر قانونی قرار دیا ۔ تفصیلات کے مطابق ضلع کونسل کے سپیکر مصور شاہ نے قومی وطن پارٹی کی طرف سے ضلع ناظم فہد ریاض اور نائب ناظم اعلی حاجی مصور شاہ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لئے داخل ریکو زیشن پر جمعرات 17اگست کو ضلع کونسل کا اجلاس طلب کر لیا ۔ قومی وطن پارٹی نے ریکو زیشن میں ضلعی ناظم اعلی اور نائب ناظم اعلی پر کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے ساتھ ساتھ لوکل گورنمنٹ رولز کے خلاف ضلعی حکومت اور ایوان چلانے کے الزامات لگائے گئے ہیں ۔ ا س حوالے سے سپیکرحاجی مصور شاہ نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ لوکل گورنمنٹ رولز کے مطابق ریکو زیشن پر اجلاس قانون کے مطابق طلب کیاگیا ہے ۔ سپیکر کی طرف سے کی طر ف سے جاری کر دہ ایجنڈا کے مطابق 17اگست سے 19اگست تک ضلع کونسل کے مجوزہ تین روزہ اجلاس کے پہلے روز اپو زیشن کے الزامات پر بحث کی جائیگی جبکہ دوسرے روز ضلع ناظم اور نائب ناظم اعلی ایوان میں الزامات کے جواب دینگے ۔ اجلاس کے تیسرے روز ضلع ناظم اور نائب ناظم اعلی کے خلاف عدم اعتماد کیلئے رائے شماری کی جائیگی ۔ یاد رہے کہ قومی وطن پارٹی ، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف پر مشتمل سہ فریقی اتحاد نے چارسدہ میں ضلعی حکومت قائم کی تھی جبکہ جے یوآئی اور اے این پی اپو زیشن میں رہی مگر صوبائی حکومت سے قومی وطن پارٹی کے اخراج کے بعد چارسدہ میں سہ فریقی اتحادپر بھی اثرات پڑ ے جس کی وجہ سے تحریک انصاف اور جماعت اسلامی بجٹ اجلاس کیلئے کورم پورا کرنے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے ابھی تک نئے مالی سال کا بجٹ اجلاس التواء کا شکار ہے ۔ 75ممبران پر مشتمل ضلع کونسل میں اس وقت اے این پی کے 25، قومی وطن پارٹی کے 16،جمعیت علمائے اسلام کے 9، تحریک انصاف کے 21جبکہ جماعت اسلامی کے 4ممبران ہیں۔ انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق اے این پی ، قومی وطن پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام پر مشتمل اپو زیشن میں دراڑ پڑ گئی ہے اور کچھ ممبران کے پھسلنے کے امکانات ہے ۔ 50ممبران پر مشتمل اپو زیشن سے ایک ممبر بھی ادھر ادھر ہو گیا تو عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہو گی ۔ ۔ بعض ذرائع کے مطابق اپو زیشن نے خفت سے بچنے کیلئے اپنی ریکوزیشن واپس لینے کی کو شش کی مگر لوکل گورنمنٹ رولز میں راستہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے ۔دوسری طرف اپوزیشن لیڈر قاسم علی خان محمد زئی نے سپیکر کی طرف سے طلب کردہ اجلاس کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ناظم اعلی اور سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہو چکی ہے اور وہ قانون کے مطابق اجلاس طلب نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے کہا کہ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اور اے ڈی لوکل گورنمنٹ ہی اجلاس طلب کر کے اجلاس کی کاروائی چلا سکتے ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...