دنیا کا سب سے مؤ ثرترین علاج کس دوا میں ہے؟۔یہ جان لیں گے تو آپ کا ایمان یقیناً مضبوط ہوجائے گا

دنیا کا سب سے مؤ ثرترین علاج کس دوا میں ہے؟۔یہ جان لیں گے تو آپ کا ایمان ...
دنیا کا سب سے مؤ ثرترین علاج کس دوا میں ہے؟۔یہ جان لیں گے تو آپ کا ایمان یقیناً مضبوط ہوجائے گا

  



لاہور (نظام الدولہ)دوا سے علاج کو سند سمجھنے والے دم درود سےعلاج کرانا مناسب نہیں سمجھتے اور اکثر اوقات وہ اسکو نعوذ باللہ وہم اور جہالت قرار دے دیتے ہیں۔حالانکہ قرآن پاک کو بنی نوع انسان کے لئے شفا کا منبہ قرار دیا جاتا ہے اور طلوع اسلام سے اب تک ایسے بہت سے واقعات روزناہ رونما ہورہے ہیں کہ انسان کو اللہ کے کلام سے شفا و سکون مل گیا۔ابن ماجہ ؒنے اپنی سنن میں حضرت علی ؓسے روایت کی ہے ۔ فرماتے ہیں” رسول اللہﷺ نے فرمایا سب سے موثر دوا قرآن مجید ہے“لہذا اس سے بڑی سند کوئی اور نہیں ہوسکتی کہ قرآن روحانی اور جسمانی شفا کا سب سے بڑاذریعہ ہے ۔البتہ پورے آداب و تقدیس و پاکیزگی کے ساتھ اس دوائے عظیم کو استعمال کرنا چاہئے۔

امام بخاری ؒاور امام مسلم ؒنے صحیحین میں حضرت ابو سعید خدری ؓسے روایت کی ہے۔ انہوں نے بیان کیا”نبیﷺ کے اصحاب کا ایک گروہ ایک سفر میں نکل پڑا۔ سفر کرتے کرتے عرب کے ایک قبیلہ میں اُترے اور ان سے میزبانی قبول کرنے کی درخواست کی ۔انہوں نے میزبانی قبول کرنے سے انکار کردیا ۔اتنے میں ان کے سردار کو ڈنک لگا ۔انہوں نے ہرممکن تدبیر کر ڈالی مگر کوئی تدبیر کارگر ثابت نہ ہوئی تواس قبیلہ کے بعض لوگوں نے کہا کہ یہ قافلہ جو تمہارے یہاں آیا ہے ان کے پاس چلو شاید ان میں سے کسی کے پاس کوئی تدبیر ہو ۔چنانچہ وہ اصحاب رسولﷺ کے پاس آئے اور ان سے کہا ”اے قافلہ کے لوگو ہمارے سردار کو ڈنک لگ گیا اور ہر ممکن تدبیر ہم نے کر ڈالی مگر کچھ فائدہ نہ ہوا کیا تم میں سے کسی کے پاس اس کا علاج ہے؟“

ان میں سے بعض نے کہا ” ہاں اللہ کی قسم میں جھاڑ پھونک کرتا ہوں‘ مگر ذرا سوچو کہ ہم نے تم سے مہمانداری کرنے کی درخواست کی تو تم لوگوں نے ہماری اس درخواست کو ٹھکرادیا اور ہماری میزبانی نہ کی ۔میں اس پر دم اسی وقت کرسکتا ہوں‘جب تم اس پر کچھ اُجرت مقرر کروگے “چنانچہ بھیڑ کے ایک حصہ پر معاملہ طے ہوگیا ۔انہوں نے اس پر الحمد اللہ ربّ العلمین پڑھتے ہوئے دم کرنا شروع کیا ۔اس کا اثر یہ ہوا کہ وہ ایسا چنگا ہوگیا گویا کہ اسے کسی بندش سے رہائی ملی ہو اور وہ چلنے پھرنے لگا ۔اسے کوئی تکلیف نہ تھی۔ پھر اس نے کہا کہ ان لوگوں کو ان کی طے شدہ پوری پوری اجرت دے دو‘چنانچہ انہوں نے اُجرت دے دی‘اس میں بعض صحابہؓ نے کہا کہ باہم اسے بانٹ لو‘اس پر دم کرنے والے شخص نے کہا ” جب تک ہم رسول اللہﷺ کے پاس نہ پہنچ جائیں اس وقت تک کچھ نہ کرو اور ہم آپﷺ کے حکم کے معلوم ہوجانے تک اس سے توقف کریں گے “چنانچہ سب لوگ رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے پورا واقعہ بیان کیا‘ یہ سن کر آپﷺ نے فرمایا ” تم کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ یہ کام رقیہ (جھاڑپھونک) سے ہوا“ پھر آپﷺ نے فرمایا ” تم نے ٹھیک ہی کیا۔ اب اسے باہم بانٹ لو اور اس میں میرا بھی ایک حصہ لگانا“۔

مزید : تعلیم و صحت


loading...