اے آر وائی گروپ 1998 سے ہر مہینے بھارت کو 20 من سونا فراہم کررہا ہے، سینئر صحافی رضی دادا کا دعویٰ

اے آر وائی گروپ 1998 سے ہر مہینے بھارت کو 20 من سونا فراہم کررہا ہے، سینئر صحافی ...
اے آر وائی گروپ 1998 سے ہر مہینے بھارت کو 20 من سونا فراہم کررہا ہے، سینئر صحافی رضی دادا کا دعویٰ

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی و اینکر پرسن رضوان الرحمان رضی نے دعویٰ کیا ہے کہ اے آر وائی گروپ 1998 سے ہر مہینے بھارت کو 20 من سونا فراہم کرتا ہے۔

ٹوئٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں رضی دادا کے نام سے مشہور لاہور کے سینئر صحافی نے دعویٰ کیا کہ ” دوسروں پربھارتی جاسوس ہونے کا الزام لگانے والے اے آر وائی ٹی وی کے مالکان 1998 سے بھارت سرکارکو 20 من ماہانہ سونے کی فراہمی کا ٹھیکہ رکھتے ہیں“۔

رضوان رضی نے اپنے دیگر ٹویٹس میں اے آروائی پر چلنے والی خبروں کا حوالہ بھی دیا جن میں مختلف لوگوں پر جاسوسی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ایک ٹویٹ میں رضی دادا نے حوالہ دیا کہ ” پاکستان میں فولاد، پولٹری فیڈ،شوگرمل کے ہزاروں فیکٹری مالکان بھارتی جاسوس نکلے، بھارت سے خام مال اورمشینری منگواکراستعمال کرتے رہے:اے آر وائی“۔

انہوں نے ایک اور خبر کا طنزیہ طور پر کچھ اس طرح حوالہ دیا ” پاکستان میں کام کرنے والے فیکٹری مالکان بھارتی "را" میٹریل کو "خام مال" کے نام پر درآمد کرکے کسٹم حکام کو بیوقوف بناتے رہے: اے آر وائی“۔

انہوں نے کہا کہ ” اے آر وائی گولڈ سکینڈل اور ایگزیکٹ ڈگری سکینڈل میں دنیا بھرکی عدالتوں سے مفرور افراد پاکستانی عدالتوں کے صدقے واری ؟ بہت اچھے بھئی بہت اچھے“۔

واضح رہے کہ رضوان رضی عرف رضی دادا لاہور کے ایک ایف ایم ریڈیو پر گزشتہ کئی سال سے ” دادا پوتا“ کے نام سے کاروباری شو کرتے ہیں جبکہ شام کے وقت وہ نجی ٹی وی دن نیوز پر بھی سیاسی مباحث کا پروگرام کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : اے آروائی کا بھارت میں کاروبار ثابت ہوگیا تو دوبارہ ٹی وی پر نہیں آﺅں گا: اقرار الحسن

مزید : لاہور