فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 182

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 182
فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 182

  



جب محمد علی سٹار بننے کے بعد لاہور میں مستقل طور پر قیام پذیر ہوگئے تو ذوالفقارعلی شاہ بخاری جب بھی لاہور آتے ان ہی کے مہمان رہتے۔ محمد علی ان کی خاطر مدارت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرتے۔ ہر طرح ان کی دلبستگی اور دلچسپی کا سامان فراہم کرتے۔ اس زمانے میں محمد علی کے پُرشکوہ مکان میں شعر و ادب اور موسیقی کی مجلسیں آراستہ ہوتیں جن میں شہر کے سبھی قابل ذکر لوگ شریک ہوتے۔ جوش ملیح آبادی‘ ذوالفقار علی بخاری‘ صوفی غلام مصطفی تبسم‘ فیض احمد فیض قتیل شفائی‘ سیف الدین سیف‘ شباب کیرانوی‘ خواجہ خورشید انور‘ رشید عطرے‘ احمد ندیم قاسمی‘ اشفاق احمد‘ غرضیکہ ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے اہل فن ان محفلوں میں شریک ہوتے اور ان محفلوں کی رنگین یادیں شرکاء کے ذہنوں پر نقش ہو جاتیں۔

دیکھئے محمد علی کا نام لیتے ہی بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ مقصود صرف یہ بتانا تھا کہ جب محمد علی کی آواز بخاری صاحب کے کانوں میں پڑی تو وہ اپنی عادت کے مطابق اس گوہر قابل کو تراش خراش کر انمول نگینہ بنانے پر تُل گئے۔ بخاری صاحب نے محمد علی کو اپنی سرپرستی میں لے لیا اور ان کی ذہنی‘ علمی اور فنی تربیت کا آغاز کیا۔ محمد علی کو انہوں نے اپنا بیٹا بنا لیا تھا اور محمد علی نے بھی ساری زندگی اس رشتے کو نبھایا۔

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 181 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

فضل کریم فضلی نے فلم ’’چراغ جلتا رہا‘‘ بنانے کا ارادہ کیا تو ان کی خود اعتمادی کا یہ عالم تھا کہ اس سے پہلے کبھی فلم سٹوڈیو کا منہ نہیں دیکھا تھا ۔نہ کیمرا اور لیبارٹری کی شکل دیکھی تھی مگر پیشہ ور دقیانوسی لوگوں کی جگہ ہر شعبے میں نئے لوگوں کو تلاش کر کے اپنے ڈھنگ سے سکرین پر روشناس کرایا۔ ان کی فلم کی تمام تر کاسٹ بالکل نئے نو آموز ا ور نوواردفن کاروں پر مشتمل تھی۔ یہی لوگ آگے چل کر پاکستان کے فلمی اُفق پر چاند ستارے بن کر جگمگائے اور ایک دو کو چھوڑ کر سبھی نے اپنے اپنے شعبوں میں بڑا نام پیدا کیا۔

محمد علی بھی فضلی صاحب کے پاس انٹرویو کے لئے گئے تھے۔ انہوں نے انہیں دیکھا اور مکالموں کی ادائیگی کے بعد فلم کے لئے منتخب کر لیا۔ اس فلم میں محمد علی نے ویلن کا کردار کیا تھا لیکن اس طرح کہ فلم دیکھنے والے ہیرو کو بھول گئے۔

’’چراغ جلتا رہا‘‘ ایک تجرباتی فلم تھی۔ موضوع کے اعتبار سے یہ اصلاحی اور قدرے خشک تھی۔ نوآموز لوگوں کے کام میں پختگی بھی نہ تھی مگر اس کے باوجود اس فلم نے درمیانے درجے کا بزنس کیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان کی فلمی صنعت کو بے بہا فن کار عطا کئے۔

محمد علی ایک دراز قد‘ سرخ و سفید رنگت اور دلکش نقوش رکھنے والے نوجوان تھے۔ چھریرا جسم‘ آواز ایسی کہ ہزاروں میں پہچانی جائے۔ تلفظّ انتہائی عمدہ، مکالموں کی ادائیگی بے داغ اور پُراثر ۔پہلی فلم کی نمائش کے بعد ہی فلم ساز ان پر توجہ دینے کیلئے مجبور ہوگئے۔ مگر آواز‘ بول چال اور صورت شکل کے اعتبار سے انہیں ویلن کے کردار کے لئے موزوں سمجھا گیا۔ اس میں کچھ دخل ہمارے فلم سازوں کی بھیڑ چال کا بھی تھا جو مکّھی پہ مکّھی مارنے کے عادی ہوتے ہیں۔ ہم نے فلم ’’چراغ جلتا رہا‘‘ میں محمد علی کو دیکھا تھا اور ان کی اداکاری سے متاثر بھی ہوئے تھے بعد میں کراچی گئے تو وہاں ایسٹرن فلم سٹوڈیو میں محمد علی سے بھی ملاقات ہوئی۔ وہ جن فلموں کی شوٹنگ میں مصروف تھے ان سب میں وہ ویلن کے طور پر پیش کئے جا رہے تھے۔ ملاقات ہوئی تو ہم نے حقیقی زندگی میں انہیں زیادہ جاذب نظر‘ دلکش اور پُرکشش پایا۔ وہ بے حد متواضع وضع دار بامروت اور بااخلاق تھے۔ یہ خوبیاں آج کل عنقا ہو چکی ہیں۔ ان کی شخصیت میں بے پناہ اپنائیت بے تکلفی اور خلوص تھا مگر ہماری فلم کی کہانی میں دراصل ویلن کا کردار ہی نہیں تھا۔ یہ حقیقی دو بھائیوں کی کہانی تھی۔ محض ماحول اور پرورش نے ان دونوں کو ایک دوسرے سے مختلف بنا دیا تھا۔ وہ خود بھی نہیں جانتے تھے کہ وہ آپس میں سگے بھائی ہیں۔ دونوں ساتھ پڑھتے تھے اور دوست تھے۔ دونوں اپنی ایک کلاس فیلو سے بہت زیادہ بے تکلف تھے۔یہ تینوں عمومًا یکجا ہوتے تھے۔ ان میں دوستی کا رشتہ قائم تھا لیکن لڑکی ان میں سے ایک کو (چھوٹے بھائی) کو پسند کرتی تھی اور اس کی محبت میں گرفتار ہو چکی تھی حالانکہ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ دونوں دوست خوبرو اور نمایاں شخصیت کے مالک تھے۔ جب امیر زادے کو یہ علم ہوا کہ ہیروئن اس کو نظر انداز کر کے ایک معمولی سے لڑکے سے پیار کرتی ہے تو اس کی خاندانی آن بان اور ذاتی انا مجروح ہوگئی اور وہ یکایک ویلن جیسی حرکتیں کرنے لگا۔ لیکن وہ کسی طور بھی روایتی ویلن نہیں تھا۔ محض حالات اور واقعات نے اسے ویلن کے روپ میں ڈھال دیا تھا۔ اس اعتبار سے ہماری فلم میں کوئی بھی ویلن نہ تھا۔ ہمیں دونوں کرداروں کے لئے ہیرو کی ضرورت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے ’’مجبور‘‘ میں بیک وقت کمال اور حبیب کا انتخاب کیا تھا۔

حبیب بڑے بھائی کے کردار کیلئے اور کمال چھوٹے بھائی کے (کھلنڈرے اور شوخ و شریر) کردار کے لئے چنے گئے تھے۔ ہم نے مجبوراً ان دونوں اداکاروں کا انتخاب تو کر لیا تھا مگر ہمارا دل نہیں مانتا تھا۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی کالج کے طالب علم کے کردار میں موزوں نہ تھا۔ ان کے چہروں میں بھولا پن اور معصومیت کے بجائے پختگی تھی۔ لیکن اس زمانے میں ان دونوں کے سوا کوئی اور اداکار ان کرداروں کے لئے موزوں نظر نہیں آیا۔

ہمارے دوست اور فلم کے ہدایت حسن طارق بھی ہمارے ہم خیال تھے مگر لاچار تھے۔ بات یہ ہے کہ اوّل تو اس زمانے میں (بلکہ آ ج کل بھی) نئے موزوں چہروں کی دستیابی کوئی آسان کام نہ تھا۔ اس کے علاوہ ہم ایک بے زر اور بے سروسامان نئے فلم ساز تھے۔ اگر نئے اداکاروں کو اپنی فلم کے لئے منتخب کرتے تو فلم بنانے کیلئے سرمایہ کہاں سے لاتے؟۔ کوئی ڈسٹری بیوٹر نئے اداکاروں کی فلم خریدنے کے لئے تیار نہ ہوتا۔

ان ہی دنوں ہم کراچی گئے تو محمد علی صاحب سے بھی ملے۔ گپ شپ بھی رہی اور انہوں نے ہمیں بحیثیت انسان بھی متاثر کیا لیکن اس وقت ہمارے وہم وگمان بھی نہ تھا کہ ہماری پہلی فلم میں محمد علی کام کریں گے۔ شاید محمد علی نے بھی یہ نہ سوچا ہوگا۔

ماں کے مرکزی کردار کے لئے ہم نے یاسمین کا انتخاب کر لیا تھا مگر نوخیز رومانی ہیروئن کے لئے بھی ایک اداکارہ کی ضرورت تھی۔ زیباکی پہلی فلم کے ریلیز ہوتے ہی وہ سب کی نگاہوں میں آ چکی تھیں اور انہیں کراچی کی چند فلموں میں ہیروئن منتخب بھی کر لیا گیا تھا۔ وحید مراد کی بطور فلم ساز پہلی فلم ’’ہیرا اور پتھر‘‘ میں زیبا کو وحیدمراد کے ساتھ ہیروئن منتخب کیا گیا تھا۔ اس کے ہدایت کار پرویز ملک تھے۔ ان کی بھی ہدایت کار کی حیثیت سے یہ پہلی فلم تھی۔ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد امریکہ سے فلم تکنیک کے علوم کی ڈگری لے کر آئے تھے۔ اسی فلم سے وحید مراد اور پرویز ملک کی طویل رفاقت اور دوستی کا آغاز ہوا تھا۔ کچھ عرصے بعد مصنف و نغمہ نگار مسرور انور اور موسیقار سہیل رعنا بھی اس ٹیم میں شامل ہوگئے تھے اور ان لوگوں نے پاکستان کی فلمی صنعت کو بہت سی کامیاب اور معیاری فلمیں دی تھیں۔

’’چراغ جلتا رہا‘‘ کے ہیرو تو پھر گمنام ہی ہو کر رہ گئے۔ دوسر ے فنکاروں نے فرداً فرداً نام اور مقام حاصل کیا لیکن زیبا ان میں سب سے زیادہ کامیاب نکلیں۔ ان کے گھر کے سامنے فلم سازوں نے ڈیرا جما لیا۔ پہلے کراچی کے فلم سازوں نے ان کی خدمات حاصل کیں۔ اس کے بعد لاہور کے فلم ساز اور ہدایت کار بھی ان کے معترف ہوگئے اور زیبا کو لاہور کی فلموں میں بھی کاسٹ کر لیا گیا۔

ہم جب ’’مجبور‘‘ بنانے کا ارادہ لے کر کراچی پہنچے تو وہاں ہفت روزہ ’’نگار‘‘ کے مدیر الیاس رشیدی صاحب کے ہمراہ حسب دستور ایسٹرن سٹوڈیو کا پھیرا بھی لگایا جہاں ہماری زیبا سے ملاقات ہوئی۔

الیاس بھائی زیبا سے بہت متاثر تھے۔ یوں تو وہ سبھی نئے فن کاروں کی سرپرستی فرماتے تھے لیکن کراچی کے فنکاروں کو وہ بطور خاص پبلسٹی دیتے تھے۔ ہر نیا فنکار ان کے کثیرالاشاعت اور بااثر فلمی جریدے میں پبلسٹی پاتا تھا۔ شمیم آرا ’’کنواری بیوہ‘‘ کی ہیروئن بن کر سامنے آئیں تو الیاس صاحب نے ان کی پذیرائی کی اور ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ان کی تصاویر اور ان کے بارے میں خبریں اور مضامین شائع کئے۔ زبانی طو ر پر بھی فلم سازوں سے ان کی سفارش کی اور انہیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ شمیم آرا بہت باصلاحیت اور ذہین اداکارہ ہیں۔

شمیم آراء سے ہماری پہلی ملاقات الیاس رشیدی صاحب ہی کے توسط سے ہوئی تھی اور انہوں نے ہم سے فرمائش کی تھی کہ لاہور کے اخبارات میں شمیم آراء کی پبلسٹی کریں اور فلم سازوں سے بھی ان کی سفارش کریں کیونکہ وہ صحیح معنوں میں اس کی مستحق ہیں۔

’’چراغ جلتا رہا‘‘ کی نمائش کے بعد ہم کراچی پہنچے تو الیاس بھائی ایک نئی فنکارہ کو متعارف کرانے کے لئے اپنی پٹاری کھولے بیٹھے تھے اور ہر ایک کو یقین دلانے کی کوشش میں مصروف تھے کہ زیبا درحقیقت ایک بہت اچھی فنکارہ ہیں اور مناسب موقع ملنے پر وہ پاکستان کی صف اوّل کی ہیروئن بن جائیں گی۔ ہم نے جب انہیں ذاتی فلم بنانے کے بارے میں بتایا تو وہ سوچ میں پڑ گئے۔ اس وقت تک ہم نے ’’مجبور‘‘ بنانے کا اعلان نہیں کیا تھا۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ بولے ’’یار آفاقی‘‘ چھوڑو کس جھگڑے میں پڑنے لگے ہو۔ یہ تمہارے بس کا کام نہیں ہے۔‘‘

’’کیوں نہیں ہے؟‘‘ ہم نے پوچھا ’’ایک سے بڑھ کر ایک نالائق فلم بنا رہا ہے تو پھر ہم کیوں نہ بنائیں۔‘‘

کہنے لگے’’ لیکن تم ان میں ایک اور نالائق کا اضافہ کرنا چاہتے ہو۔‘‘

ہم نے ناراضگی سے پوچھا ’’تو کیا آپ ہمیں واقعی اتنا نالائق سمجھتے ہیں؟‘‘

بولے ’’لائق یا نالائق کی بات نہیں ہے۔ تم صحافی اور کہانی نویس ہو۔ آرام سے اپنا کام کرتے رہو۔ فلم سازی تو کانٹوں بھرا تاج ہے‘‘

مگر جب ہم اپنے ارادے پر اڑے رہے تو وہ بھی سنجیدہ ہوگئے۔ ہم نے انہیں اپنی کہانی کے بارے میں بتایا۔ پھر کہا کہ حسن طارق کو ہم ہدایت کار لیں گے ۔خلیل احمد اس فلم کی موسیقی بنائیں گے۔ نامور اداکار اس کی کاسٹ میں شامل ہوں گے۔ ہم نے انہیں یاسمین‘ حبیب اور کمال کے بارے میں بھی بتایا۔

’’تو کیا یاسمین کی جوڑی کمال اور حبیب کے ساتھ بناؤ گے‘ سوچ لو‘‘

ہم نے کہا ’’یاسمین تو ان دونوں کی ماں کا کردار کریں گی۔ نوجوان ہیروئن کوئی اور ہوگی۔‘‘

وہ ایک دم چوکنّا ہوگئے ’’سنو یار تم زیبا کو ہیروئن کیوں نہیں لے لیتے، بہت اچھی رہے گی۔‘‘

’’ہاں ٹھیک ہے‘‘ ہم نے نیم دلی سے کہا ’’مگر الیاس بھائی ہمیں نامور ہیروئن چاہئے تاکہ ہماری فلم جلد بُک ہو جائے۔ ‘‘

کہنے لگے ’’یار زیبا بہت اچھی ایکسٹریس ہے تم دیکھ لینا ایک دم ’’شوں‘‘ کر کے اوپر جائے گی۔‘‘

ہم نے کہا ’’جب جائے گی تو دیکھا جائے گا۔ ابھی تو اس کا کوئی نام نہیں ہے اور نہ ہی اس کی مانگ ہے۔‘‘

’’لڑکے! جلدی سے کڑک چائے لاؤ‘‘ انہوں نے ملازم کو آواز دی۔ پھر ہم سے کہنے لگے ’’خیر یہ تمہارے سوچنے کی بات ہے۔ ویسے یہ لڑکی بہت جلدی آگے نکل جائے گی۔ صورت شکل بھی اچھّی ہے۔ لب و لہجہ اور تلفّظ بھی بہت اچھا ہے۔ ایکٹنگ بھی کر لیتی ہے، مگر خیر تم اپنے معاملات کو دیکھ لو اور جو مناسب سمجھو وہی کرو۔‘‘

شام کو ہم ان کے ساتھ ایسٹرن سٹوڈیوز پہنچے تو وہاں زیبا اور ان کی والدہ لالی جی سے بھی ملاقات ہوگئی۔ زیبا دھان پان نازک اندام گوری چِٹّی نوعمرلڑکی تھیں۔ بہت ہنس مُکھ اور حاضر جواب۔۔۔ تھوڑی ہی دیر میں گپ شپ اور لطیفے بازی شروع ہوگئی۔ ان کی والدہ لالی جی ان ہی کی طرح دبلی پتلی اور کشیدہ قامت تھیں لیکن ان کا رنگ گندمی تھا۔ وہ بھی بہت خوش اخلاق اور شگفتہ مزاج نکلیں۔ گفتگو میں برابر شریک رہتی تھیں اور لطیفوں پر بے ساختہ ہنستی تھیں۔ ہمارے ساتھ توپہلی ہی ملاقات میں زیبا اور لالی جی دونوں بے تکلف ہوگئیں۔ الیاس صاحب نے ان سے ہمارا تفصیلی تعارف کرایا اور پھر کہا ’’ جب تم لاہور جاؤ گی تو آفاقی صاحب تمہارا ہر طرح خیال رکھیں گے۔‘‘

زیبا نے کہا ’’پھر تو ہمیں بھی کراچی میں آفاقی صاحب کا خیال رکھنا چاہئے۔‘‘

’’وہ کس طرح؟‘‘

’’آپ نہیں رات کے کھانے پر لے آئیے کیوں آفاقی صاحب آئیں گے نا؟‘‘

ہم نے الیاس صاحب کی طرف دیکھا اور ہامی بھر لی۔ زیبا کسی فلم کی شوٹنگ میں مصروف تھیں۔ ان سے رخصت ہو کر ہم سٹوڈیو کی چھت پر سٹوڈیو کے مالک سعید ہارون صاحب کے دفتر میں چلے گئے۔

سعید ہارون انتہائی دلچسپ اور باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے۔ یوسف ہارون اور محمود ہارون جیسے نامور لوگوں کے سب سے چھوٹے بھائی اور سر عبداللہ ہارون کے صاحب زادے خاندانی رئیس تھے۔ تعلیم یافتہ تھے مگر انتہائی معصوم اور سادہ ۔۔۔غریبوں کے لئے ان کے دل میں صحیح معنوں میں پیار اور گداز تھا۔ سعید صاحب سے ہماری اچھی خاصی بے تکلفی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ الیاس رشیدی صاحب سے ان کی دانت کاٹی دوستی تھی۔ سعید صاحب کی بیگم کو الیاس صاحب نے بہن بنا رکھا تھا۔ ہر صبح الیاس صاحب کے گھر سعید ہارون کا ٹیلی فون ضرور آتا تھا۔ الیاس صاحب سے ہمارا بہت میل جول اور دوستانہ تھا۔ اس طرح سعید ہارون صاحب سے بھی ہماری یاد اللہ ہوگئی۔(جاری ہے )

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 183 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید : فلمی الف لیلیٰ


loading...