قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 43

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 43
قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 43

  



سن باون کو گزرے ہوئے تو بہت عرصہ گزر گیا ہے لیکن انڈیا میں میرے کلام کی چوری اب تک نہیں رکی اور بقول ندا فاضلی‘ اس سے کوئی انکار نہیں کہ انڈیا میں جتنی بے دردی سے میرا کلام لوٹا گیا ہے اس کے ساتھ کہیں اور ایسا سلوک نہیں کیا ہو گا۔ ورنہ کسی بڑے یا چھوٹے شاعر کا نام لے لیں۔ اس نے میری کچھ نہ کچھ چوری کی ہو گی اور کچھ نے تو تقریباً پورے کا پورا گیت بھی چوری کیا ہو گا۔ مجھے نہ تو اس کا معاوضہ دیا‘ نہ سکرین پر میرا نام آیا اور نہ مجھ سے اس کی اجازت لی گئی۔ اس سلسلے میں ایک دلچسپ واقعہ میرے اس گیت کا بھی ہے کہ:

مجھے آئی نہ جگ سے لاج

میں اتنے زور سے ناچی آج

کہ گھنگرو ٹوٹ گئے

یہ گیت آج سے کوئی بیس بائیس بر س پہلے پاکستانی فلم ’’ناز ‘‘ میں موسیقار نثار بزمی کی دھن میں شریف نیئر صاحب نے اپنی فلم میں شامل کیا۔ چونکہ گیت کی ادبی حیثیت بھی تھی اس لئے میں نے اسے ’’شمع ‘‘ دہلی میں بھی چھپوا دیا تھا۔ یہ گیت آج سے تقریباً آٹھ دس سال پہلے ہندوستان اور پاکستان کے گویوں پر ایسا سوار ہوا کہ جسے دیکھو وہ کسی نہ کسی طرح اسے استعمال کر رہا تھا۔

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 42  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

یہ گیت سب سے پہلے بغیر اجازت کے میں نے برمنگھم میں بی بی سی ٹیلیویژن سے استعمال ہوتے ہوئے دیکھا۔ وہاں کچھ لوگوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ ایک گیت ہے ’’گھنگرو ٹوٹ گئے‘‘ جو بہت خوبصورت ہے ۔ میں نے کہا کہ وہ تو میرا گیت ہے ۔ وہ بڑے حیران ہوئے ۔ اس کے دو چار دن بعد بی بی سی والے میرا انٹرویو لینے آئے تو میں نے انہیں کہا ’’ آپ کے ادارے تو بڑے بااصول ہیں لیکن میرا ایک گیت آپ کے یہاں چل رہا ہے ۔ ایک تو بغیر اجازت ایسا ہو رہا ہے اور دوسرا میرا نام بھی ساتھ نہیں لیا جاتا‘‘

کہنے لگے ’’ جی اگر گانے والے رئیس خان نے بتایا ہوتا تو ہم ساتھ آپ کا نام بھی دے دیتے۔ بہر حال اب یوں کرتے ہیں کہ آپ کے انٹرویو کے ساتھ اسے دوبارہ چلاتے ہیں ‘‘ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ انہوں نے میرے مفصل انٹرویو کے ساتھ یہ گیت دوبارہ نشر کیا تو پھر لوگوں کو پتا چلا کہ یہ میرا گیت ہے۔

ہوتا یہ ہے کہ جو لوگ بغیر اجازت کے کوئی کلام استعمال کرتے ہیں‘ وہ اصل مصنف سے تو رجوع کر نہیں سکتے چنانچہ وہ غلطیاں کرتے ہیں۔ اس گیت میں بھی کم ز کم چار شعری غلطیاں کرتا چلا گیا اور جگہ جگہ یہ گیت غلط سکرپٹ کے ساتھ گایا جاتا رہا ۔ یہ غلطیاں ایک عام موسیقی نواز یا شعری فہم رکھنے والے کیلئے تو کوئی اہمیت نہیں رکھتیں لیکن باذوق آدمی کو یہ غلطیاں بہت کھٹکتی ہیں۔

انڈیا کے پنکج اداس صاحب سے کچھ دوستانہ تعلقات بھی تھے اور انہوں نے ایک بار دعوت بھی کی تھی لیکن جب میں ادھر آیا تو پتا چلا کہ انہوں نے یہ گیت ’’گھنگرو ٹوٹ گئے‘‘ گایا اور اس طرح یہ گیت جلوٹا صاحب اور پھر ایک خاتون بھوپالی نے گایا اور تو اور میں دہلی آیا تو جس ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا وہاں میرے پاس گراموفون کمپنی والے آئے اور کہنے لگے ’’ یہاں آپ کے قوالوں میں سے ایک صاحب آئے تھے اور کچھ گا گئے ہیں۔ یہ تو ہم نے لوگوں سے سنا ہے کہ ان کا گایا ہوا گیت آپ کا ہے لیکن اس گیت میں جو بند ٹھیک نہیں لگتا آپ ذرا اسے سن لیں‘‘ میں نے سنا تو پہلے تین بند تو میرے ہی تھے جن میں پہلے جیسی کچھ غلطیاں بھی تھیں لیکن چوتھا بند انہوں نے خود ہی شامل کر دیا تھا۔ یہ قوال غلام فرید صابری صاحب کے بھائی مقبول صابری نے گایا تھا۔ تاہم گراموفون کمپنی والوں نے اسے بغیر اجازت ہونے کی وجہ سے روک لیا پہلے توانہوں نے چوتھا انترا کاٹا اور پھر مجھ سے اس گیت کی اجازت طلب کی۔ میں نے اجازت دے دی ۔

پھر ایک بار پتا چلا کہ سلمیٰ آغا نے یہ گیت ایک انڈین فلم کیلئے گایا ہے ۔ اصل میں محمود سپرا نے یہ گیت اپنی ایک فلم میں رکھنے کا ارادہ ظاہر کیاتھا۔ لیکن جب ان دونوں کی ناراضی ہو گئی تو سلمیٰ آغا نے جلدی جلدی یہ گیت پلے بیک کے طور پر ریکارڈ کروا دیا حالانکہ اس نے اس فلم میں کام بھی نہیں کیا تھا۔ اس کی مجھے آج تک ادائیگی نہیں کی گئی۔ اس کے بعد میرے پاس ایک صاحب آئے اور کہا کہ یہ گیت پنجابی میں ہونا چاہیے اس کا مکھڑا یہی رہے لیکن باقی گیت پنجابی میں ہو ۔ اس شخص نے مجھ سے اجازت لے کر اور مجھ سے پنجابی میںیہ گیت لکھوا کر استعمال کیا۔

اس گیت کے بارے میں میں نے جتنا بیان کیا ہے یہ اس سے کہیں زیادہ استعمال ہوا ہے اور بغیر اجازت استعمال ہوا ہے۔ بلکہ میں نے انڈیا میں ایک گجراتی فلم میں اس کو پورا ترجمہ بھی دیکھا ۔ اور یہ بھی سنا کہ کچھ اور زبانوں میں بھی ترجمہ کر کے اسے استعمال کیا گیا ہے ۔ یہ گیت میری زندگی میں دیکھتے دیکھتے ایک Folk song کی حیثیت اختیار کر گیا ہے لیکن جنہوں نے اس گیت پر ڈاکہ زنی کی‘ انہوں نے مجھے بہت ہی نقصان پہنچایا۔

صرف یہی نہیں بلکہ میرے کچھ اور گیت بھی چوری ہوئے۔ جن میں سے ایک یہ بھی ہے:

ایک چہرے پر کئی چہرے سجا لیتے ہیں لوگ

اسی طرح ایک اور گیت:

حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں

یہ گیت بھی چوری ہوئے اس کے علاوہ جو گیت چوری ہوئے ان میں سے کچھ جو مجھے یاد ہیں وہ یہ ہیں۔

انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کی

تمہاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہاں جاتے

مؤخر الذکر گیت تو چار مرتبہ چوری ہوا۔ ایک عجیب واقعہ یہ ہوا کہ میں بمبئی میں کیفی اعظمی صاحب کے ہاں گیا ہوا تھا ۔ وہاں ایک فلم پروڈیوسر میرے پاس آئے اور کہا کہ میری فلم ’’ایکبار کہو ‘‘ کی دو تین ریلیں ساتھ ہی پروجیکشن ہال میں دیکھ لیں۔ کیا دیکھتا ہوں کہ فلم کی کہانی قتیل شفائی سے شروع ہوتی ہے اور ہیروئن شاعر کی فین ہے ۔ ہیرو اس کی اس کمزوری سے واقف ہے ۔ چنانچہ وہ کہتا ہے کہ قتیل شفائی کی ایک نئی کتاب آئی ہے۔ وہ لاتا ہے اور اسے اس میں سے یہ نظم سنا کر اظہار محبت کرتا ہے۔

زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں

میں تو مر کر بھی مری جان تجھے چاہوں گا

میرے ساتھ اس وقت جو لو گ بیٹھے تھے ان میں میرے شاعر دوست کیفی اعظمی بھی بیٹھے تھے جنہوں نے اس فلم کے گانے لکھے ہوئے تھے ۔ اور انہیں شاید اس بات کا نہیں پتا تھا۔ چنانچہ جب ہم وہاں سے اٹھ کر دوبارہ کیفی صاحب کے ہاں آئے تو وہ پروڈیوسر سے بڑے ناراض تھے۔ پروڈیوسر نے مجھ سے کہا کہ جی ایک تو میں آپ سے معافی چاہتا ہوں کہ پہلے سے آپ سے اجازت نہیں لی اور دوسرے آپ سے اس کی اجازت طلب کرتا ہوں۔ میں نے کہا کہ اگر تم مفت میں اسے استعمال کرنے کی اجازت لینا چاہتے تھے تو وہ تو تم استعمال کر چکے ہو لیکن اگر معاوضہ ادا کر کے اجازت لینا چاہتے تھے تو وہ تم اب ادا کر دو۔ لیکن وہ صاحب نجانے کیوں مجھ سے ناراض ہوئے کہ آخر ناراض رہے۔(جاری ہے )

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 44 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : گھنگروٹوٹ گئے


loading...