وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر44

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر44
وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر44

  



منصفین نے اس کشتی کو برابر قرار دیا اور دونوں کے درمیان چند ماہ بعد دوبارہ مقابلہ کا اعلان کردیا ۔ اس بار بلھڑ کے تیور بڑے جارحانہ تھے۔ وہ اپنے استاد خلیفہ غلام محی الدین کی تیاریاں لے کر آیا تھا اور اب کی بار اپنا داغ رسوائی دھونا چاہتا تھا۔ اس نے ایسی لڑنت کا مظاہرہ دکھایا کہ وہ امرتسری جو اسے پہلے مقابلے میں بڑی لعنت ملامت کر چکے تھے اب اس کے گرویدہ ہو گئے۔ اس بار اس نے حمیدا پہلوان کو ہلا کر رکھ دیا لیکن پون گھنٹہ کی کشمکش کے بعد حمیدا پہلوان نے بلھڑ پہلوان کو گرا ہی دیا۔

جارج پنجم کی سلور جوبلی کے سلسلے میں 7 مئی کو گونگا اور امام بخش رستم ہند کے درمیان آخری معرکہ ہو چکا تھا جو برابر رہا تھا۔ بھولو اور اس مقابلے کا بڑا اثر ہوا۔ ایک روز جب وہ اکھاڑے سے نکلنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ حمیدا پہلوان نے اس کا سبب دریافت کیا تو وہ بولا۔

’’ماما جی! میرے لئے بڑی شرم کی بات ہے کہ میرے بوڑھے والد صاحب گونگے کا مقابلہ کرتے ہوئے برابر رہے ہیں۔ میں اس سے اس برابری کا بدلہ لوں گا۔ اب میں دن رات ایک کر دوں گا۔‘‘

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر43 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

حمیدا پہلوان نے سمجھایا۔ ’’بھولے پتر تو اس بات کا اثر نہ لے۔ ابھی میں جو ہوں‘ گونگے کا مقابلہ کرنے کیلئے تجھے بڑے سال چاہئیں ہوں گے۔ بس تم اس بات کا خیال رکھو کہ جتنا میں کہتا ہوں اتنا ہی زور کیا کرو۔‘‘ حمیدا پہلوان نے اسے مزید سمجھایا اور تب کہیں جا کر بھولو اعتدال پر آیا ورنہ اس روز تو اس کے تیور بتا رہے تھے کہ وہ ابھی گونگا پہلوان سے جا ٹکرانا چاہتا تھا۔

حمیدا پہلوان کی ریاضت کانتیجہ بھی جلد نکل آیا۔ پھولو چودہ برس کا ہو چکا تو وہ اسے لے کر ریاستی اکھاڑوں کے درشن کرانے لے گیا۔ سب سے پہلے وہ گوالیار گیا جہاں اس نے یکے بعد دیگرے دو پہلوانوں کا پھلکا اڑا کر رکھ دیا۔( اس داستان کا آغاز انہی کشتیوں سے کیا گیا تھا) گوالیار میں کامیابیوں کے بعد وہ اسے لے کر بنگلور چلا آیا۔ حمیدا پہلوان کو بھولو پر اس قدر اعتماد تھا کہ اس نے بنگلور میں اعلان کرا دیا۔

’’میں حمیدا پہلوان اپنے بھانجے منظور حسین المعروف بھولو پہلوان پسر امام بخش رستم ہند بھتیجا رستم زماں گاماں پہلوان کی طرف سے بنگلور کے تمام پہلوانوں کو کشتی کی دعوت دیتا ہوں جس میں دم خم ہے بھولو کے مقابلہ پر اترے‘‘

حمیدا پہلوان کا یہ چیلنج ریاست میسور میں دھوم مچا گیا۔ تمام بڑے پہلوانوں کے کان کھڑے ہو گئے۔ ’’یہ حمیدے کو کیا ہو گیا ہے جو ایک لڑکے کو مروانے آ گیا ہے‘‘۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ اس چیلنج پر پہلے تو خوب ہلچل مچی مگر پھر سکون ہو گیا لیکن ایک روز بھولو نے یہ چیلنج دہرا دیا۔ اس بار جواب میں بنگلور کا رستم میدان میں آ گیا۔

**

بوڑھے شیر نے انگڑائی لی اور سائلوں کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں سرخ ڈورے تیرنے لگے پھر وہ اپنی قوتوں کو مجتمع کر کے دھاڑا۔

’’جاؤ جا کر اس بھیڈو سے کہہ دو اس نے شیر کی کچھار میں آ کر اپنی موت کو آواز دی ہے تو زندہ بچ کر نہ جائے گا۔ مقام اور وقت کا جلدی سے اعلان کرو میں اب اس کو زیادہ نہیں بولنے دوں گا‘‘۔

وہ تمام لوگ جو اپنی پگڑیاں میسور کی آبرو بھماں چوڑیگر کے آستانے پر ایک گھنٹے سے گرائے بیٹھے تھے، شیر میسور کا فیصلہ سن کر مسرت سے جھوم اٹھے۔

’’استاد جی! آپ نے دیکھا کہ بھولو کو ذرا بھی خیال نہیں آیا اور چلا آیا کہ آپ کو للکارنے‘‘۔ منشی چنی لعل نے کہا۔ ’’ٹھیک ہے بھگوان نے اسے شکتی دی ہے اس کے پرکھ بڑے وچاروں والے ہیں۔ ان کا بڑا نام ہے۔ مجھے تو حیرانی حمیدا جی پر بھی ہے کہ انہیں کیا سوجھی ہے۔ اگر انہوں نے اپنے پٹھے کو اکھاڑوں کی زیارت کرانی ہی ہے تو بھلا کم درجے کے اکھاڑے ڈھونڈنے میں انہیں کیا تکلیف تھی۔ گوالیار میں اس نے کیا پہاڑ گرایا ہے خود کو بڑی شے سمجھنے لگا ہے‘‘۔

شیر میسور نے منشی کو چشمگیں آنکھوں سے دیکھا اور سرزنش کی۔ ’’خلیفہ جی آپ نے میرے بولوں سے فائدہ اٹھا کر بڑی غلط بات کی ہے۔ بھولو کا للکارنا اس کا حق ہے۔ اس میں کیڑے نکالنے زیب نہیں دیتے اور آئندہ بھی اس کا خیال رکھیں‘‘۔

خلیفہ کریم نے کہا۔ ’’پہلوان جی! آپ درست کہتے ہیں مگر منشی جی جو فرما رہے ہیں وہ بھی غلط نہیں ہے۔ آپ سمجھنے کی کوشش کریں کہ بھولو اور حمیدا پہلوان کا مقصد کیا ہے۔ انہوں نے سیدھے ہاتھ کی بجائے الٹے ہاتھ سے کان پکڑا ہے۔ ان کا مقصد تو آپ ہی کو طلب کرنا ہے۔اس وقت آپ ہی واحد پہلوان ہیں جو رستم میسور ہیں۔ جب کوئی باہر سے آنیوالا پہلوان ریاست کے تمام پہلوانوں کو للکارتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ وہ اس ریاست کے تمام رستموں کو اپنی ٹانگ کے نیچے سے گزارتا ہے۔ میسور راجدہانی کے اکھاڑوں میں آپ کا جھنڈا لہرا رہا ہے پہلوان جی! اب اس کو بلند رکھنا آپ کا ہی فرض ہے‘‘۔

’’خلیفہ جی‘‘۔ رستم میسور بھماں چوڑیگر اپنی جہازی سائز چارپائی پر ٹانگیں پسارتے ہوئے بولا۔ ’’میں ساری اونچ نیچ سمجھتا ہوں اور میں کاکام نہیں ہوں۔ آپ جائیں اور جا کر ان سے معاملہ طے کریں۔ پرسوں دنگل ہے اور اسی میں ہتھ جوڑی کریں گے‘‘۔

منشی نے خلیفہ کریم کی طرف دیکھا اور سرگوشی کی۔ خلیفہ نے استفہامیہ انداز میں منشی کی طرف دیکھا۔ ’’میں تیری بات نہیں سمجھا‘‘۔

’’خلیفہ جی یہ بہت ضروری ہے۔ اگر ہم پہلوان جی کے جواب سے ان لوگوں کو غافل ہی رکھیں تو بہتر ہے۔ میرا خیال ہے کہ بھولو اس دنگل میں ایک بار پھر میسور کے تمام پہلوانوں کو للکارے گا۔ اگر اس موقع پر پہلوان جی میدان میں اتر کر اس للکار کا جواب دیں تو بڑا اچھا ہو گا‘‘۔

’’مگر پہلے بات کرنے میں کیا نقصان ہے؟‘‘ خلیفہ کریم نے پوچھا۔

’’نقصان۔۔۔‘‘ منشی چنی لعل نے معنی خیز نظروں سے رستم میسور کی طرف دیکھا۔۔۔ ’’نقصان کوئی ایک ہو تو کہوں، بھلا اسی بات میں ہے کہ ابھی میں کچھ نہ بولوں لیکن پھر بھی ایک پتے کی بات کہہ دوں کہ حمیدان جی نے ایک عرصہ سے رستم میسور کو نہیں دیکھا۔ ان کی تیاریاں اور جوبن ان سے چھپا ہوا ہے۔اگر انہوں نے پہلے دیکھ لیا تو کنی کترا جائیں گے، لیکن اکھاڑے میں سرعام بات کرنے کی بات اور ہو گی‘‘۔

رستم میسور بھماں چوڑیگر لمبی باتیں نہیں کرتا تھا۔اس نے منشی اور خلیفہ سے کہا۔

’’یار تم نے جو بھی کرنا ہے کرو، بس مجھے اپنے فیصلہ سے آگاہ کر دینا، لیکن میرا خیال ہے کہ پہلے مہاراجہ سے اجازت لینا بھی ضروری ہے‘‘۔

’’مہاراج کے تو من میں لڈو پھوٹ پڑیں گے پہلوان جی‘‘۔ منشی نے معنی خیز انداز میں کہا۔ ’’آپ خود جانتے ہیں وہ آپ کے کس قدر خیر خواہ ہیں‘‘۔

’’ہاں میں جانتا ہوں منشی جی!‘‘ بھماں چوڑیگر نے کہا۔ ’’مہاراج کو تو بوڑھے شیر کے شکار کا چسکا پڑ گیا ہے۔ وہ موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں گے مگر مولا بڑی شان والا ہے۔ اس نے آج تک میری عزت بچا کر رکھی ہے تو آئندہ بھی رکھے گا‘‘۔

مہاراجہ میسور تو مدتوں سے کسی ایسے ہی موقع کا منتظر تھا۔ اسے جب معلوم ہوا کہ بھولو گوالیار میں خود کو منوانے کے بعد میسور میں وارد ہو چکا ہے تو اس نے بھماں چوڑیگر رستم میسور کی پگڑی اچھالنے کا ارادہ باندھ لیا۔ مہاراجہ اس سے قبل بھی کئی بار ایسی حرکات کر چکا تھا مگر اسے کبھی کامیابی نہ ہوئی تھی۔ اسے اپنے شاہ زور رستم سے نہ جانے کیوں پرخاش ہو گئی تھی کہ اسے گرانے کیلئے منہ مانگے داموں پر باہر سے پہلوان منگواتا رہتا تھا مگر اب تک کسی کو بھماں چوڑیگر کے کندھے لگانے کا شرف حاصل نہ ہو سکا تھا۔ مگر بھولو تو اس کے بلائے بغیر اور کہے بغیر میسور میں آ کر رستموں کو للکار رہا تھا۔(جاری ہے )

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر45 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : طاقت کے طوفاں


loading...