گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔ دوسری قسط

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ ...
گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔ دوسری قسط

  



چند ہی دنوں بعد خبر آئی کہ پٹھانوں نے جمرود کے قلعہ میں رنجیت سنگھ کے ظالم اور خونخوار جرنیل ہری سنگھ نلوہ کو قتل کردیا ہے اور ٹوانہ سردار کے سوا اب دوسرا کوئی نہیں جو اس علاقہ کو دوبارہ فتح کرے۔ چنانچہ ملک فتح خاں کو قید سے رہا کردیا گیا اور فوج منظم کرنے کے لئے اک کثیر رقم ان کے حوالے کردی گئی۔ وہ یہ خزانہ خچروں پر لاد کر روانہ ہوئے اور راستے میں اپنے عم زاد بھائی غلام محمد کی طرف دیکھ کر ٹھٹھامارکر ہنسے اور کہا ’’گاموں (غلام محمد کی عرفیت) تم میرے خیرات کرنے سے بہت خفا ہورہے تھے، لو دیکھو! اللہ انہیں کیسا اجر دیتا ہے ، جو اپنا زرومال اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔‘‘

واپسی میں گھر تک پہنچتے پہنچتے انہوں نے رنجیت سنگھ کا دیا ہوا خزانہ بھی ناداروں میں تقسیم کردیا، لیکن اتنا ہوا کہ فوج انہوں نے تیار کرلی کیونکہ جہاں بھی لوگوں کو ملک فتح خان کے ارادہ کی خبر ہوئی، جوق درجوق ان کے پرچم تلے جمع ہونے لگے۔

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔ پہلی قسط  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ملک فتح خاں مٹھا ٹوانہ پہنچنے کے بعد اپنی سابقہ روش پر کاربند ہوگئے اور ٹیکس وصول کرکے ادا نہ کرنے کا رویہ پھر اختیار کرلیا۔ جمرود کا قلعہ انہوں نے نئے سرے سے فتح کرلیا تھا لیکن 1894ء کے قریب بنوں کے قلعہ میں ایک محاصرہ کے دوران میں وہ خود مارے گئے۔ ہوا یوں کہ جب محاصرہ نے طول کھینچا اور پانی کا ذخیرہ ختم ہونے کو آیا تو ان کے آدمیوں نے کنواں کھودنا شروع کیا اور ابھی پانی کے سوتے تک پہنچے ہی تھے کہ ملک فتح نے اپنے سپاہیوں کو لے کر سکھوں پر حملہ کردیا اور وہ اس تصادم میں ہلاک ہوگئے۔ ملک فتح خاں ٹوانہ بڑے فراخ دل تھے۔ لیکن سبھی لوگ ان سے ڈرتے تھے، کیونکہ دشمن کے حق میں وہ بڑے بے رحم تھے۔ وہ زمانہ ہی ایسا تھا کہ جو شخص سنگ دل اور بے رحم ہوتا، وہی حکومت کرتا تھا۔ نرم دل لوگ ہلاک نہ ہوتے تو گوشہ گمنامی میں کھوجاتے۔

جب پنجاب میں انگریزوں کے قدم بڑھنے لگے تو ٹوانہ سردار نے حکومت کے ساتھ اپنی وابستگی بدل دی، اس نے سکھوں کا ساتھ چھوڑا اور انگریزوں کی مدد کی۔ انگریزوں نے ٹوانہ سردار کو میجر اینڈورڈز کی جگہ بنوں کا گورنر مقرر کردیا۔ میجر اس وقت ملتان میں سکھوں سے لڑرہا تھا۔ سکھوں نے بنوں کی جنگ میں ملک فتح خاں کے سپاہیوں کو قید کرلیا تھا۔ چلیانوالہ ضلع گجرات کی فیصلہ کن جنگ میں انگریزوں نے سکھوں کو بری طرح شکست دی اور فتح خان کے آدمیوں کو رہاکرایا۔ شاہ پور کے دوسرے ملکوں نے بھی چلیانوالہ میں انگریزوں کا ساتھ دیا اور یہیں پنجاب کی قسمت کا فیصلہ انگریزوں کے حق میں حتمی طور پر ہوا۔ سکھوں کی لاقانونیت کے مقابلہ میں جو بھی قانون نافذ ہوتا، بہر حال بہتر ہوتا۔ سکھوں نے جو چرکے لگائے تھے، انگریز گویا ان کے لئے مرہم بن کر آئے۔

ملک فتح خان ٹوانہ ایک طاقتور سردار تھے۔ ان کے پاس 40ہزار گھڑسواروں کا دستہ تھا۔ کشمیر کا اقتدار گلاب سنگھ کو منتقل ہونے لگا تو اس مرحلہ میں یہ دستہ انگریزوں کے لئے بہت مفید ثابت ہوا۔ انگریزوں نے پنجاب فتح کرنے کے بعد 1849ء میں جب سکدھ دربار پر دبا ؤ ڈالا کہ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کو سرمایہ فراہم کرنے کے لئے کشمیر کا علاقہ بیچ دیا جائے تو مہاراجہ کشمیر کے مورث اعلیٰ گلاب سنگھ نے 75 لاکھ روپیہ کی حقیر رقم کے عوض کشمیر خرید لیا۔

گلاب سنگھ، بچپن میں گلابو تھا اور جن دنوں لاہور میں رنجیت سنگھ کی حکومت تھی گلابو جہلم میں تین روپیہ مہینہ پر برتن دھونے پرملازم تھا۔ گلابو کا ایک بھائی دھیان سنگھ لاہور کے سکھ دربار میں راجہ کے خاص ملازموں میں شامل تھا۔ دھیان سنگھ نے اپنے بھائی کو جہلم سے لاہور بلوالیا کہ یہاں اس کی زندگی سدھر جائے گی۔ اس دوران میں دھیان سنگھ نے بڑی ترقی کی۔ پہلے فوج میں جرنیل مقرر ہوا اور بعد میں رنجیت سنگھ کا وزیر بن گیا۔

گلابو کی قسمت کا ستارہ بھی چمکا۔ اب وہ گلابو سے گلاب سنگھ تھا اور راجہ کے ملازمین خاص میں شامل، گلاب سنگھ بعد میں ترقی کرکے راجہ کی فوج میں جرنیل بن گیا۔ اس نے ہمالیہ کے دامن میں واقع بودھوں کی عبادت گاہوں پر متعدد حملے کئے اور ہر حملہ میں سونا، چاندی، جواہرات اور دوسرے قیمتی پتھر بٹور کر لاتا رہا۔ اس طرح اس نے بے اندازہ دولت جمع کرلی۔

جنرل ہارڈنگ نے جب سکھ دربار سے تاوان جنگ طلب کیا تو وہاں خزانہ خالی نکلا۔ اس وقت جنرل کو خیال گزرا کہ گلاب سنگھ کے ہاتھ اگر کسی طرح کا سودا ہوجائے تو لندن میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ڈائریکٹروں کو اچھی خاصی رقم مہیا کی جاسکتی ہے۔ اس طرح کشمیر کی ریاست جو 80 ہزار مربع میل پر مشتمل دنیا کا حسین ترین خطہ ہے، ایک حقیر رقم کے عوض فروخت کردی گئی۔ سکھ دربار میں اس وقت مختلف دھڑے تھے اور بعض لوگ اس سودے کے حق میں نہیں تھے۔ کچھ تو اس لئے کہ وہ گلاب سنگھ کے مخالف تھے اور کچھ اس بناء پر کہ اس جنت نظیر علاقہ سے جواں سال سکھ راجہ کی بے دخلی انہیں گوارا نہ تھی۔ وہ سری نگر میں متعین جموں و کشمیر کے گورنر کو برابر اس بات پر آمادہ کرتے رہے کہ وہ ریاست کا قبضہ ہرگز کسی اور کے حوالے نہ کرے۔ چنانچہ یہی ہوا اور گورنر امام الدین کو سری نگر سے نکالنا غیر ممکن ہوگیا۔ اس پر انگریزوں نے ملک فتح خاں ٹوانہ سے مدد مانگی اور ان سے کہا کہ اپنے 40 ہزار گھڑ سواروں کے ساتھ وہاں جائے اور ریاست کا قبضہ پرامن طور پر منتقل کرائے۔

انگریزوں نے جب پنجاب فتح کیا تو اس وقت رنجیت سنگھ کا ایک ہی بیٹا بقید حیات تھا۔ اس کا نام دلیپ سنگھ تھا اور اس کی عمر اس وقت مشکل سے 10 سے 11 سال ہوگی۔ دلیپ سنگھ کو تعلیم کے لئے انگلینڈ بھیج دیا گیا اور وہاں سے واپس نہیںآیا۔ ایک زمانہ میں کابل کے ایک معزول بادشاہ، نادر شاہ (شاہ شجاع) نے لاہور میں پناہ لی تھی۔ سکھ راجہ رنجیت سنگھ سے ملاقات کے لئے وہ اکثر اس کے ہاں جاتا آتا رہتا تھا۔ رنجیت سنگھ کو کسی طرح یہ پتہ چل گیا کہ اس نے مشہور زمانہ کوہ نور ہیرا اپنی پگڑی کے بیچ میں چھپارکھا ہے۔ اس قیمتی ہیرے پر رنجیت سنگھ کی نگاہ تھی۔ آخر ایک دن جب کہ معزول بادشاہ راجہ کے ہمراہ بیٹھا تھا۔ راجہ نے ادھر اُدھر کی باتوں کے دوران اسے دستار تبدیل کرنے کی پیشکش کی۔ یہ بڑے اعزاز کی بات تھی۔ مشرق کے ملکوں میں دستار کی تبدیلی کے معنی یہ ہیں کہ دونوں افراد اب ساری عمر کے لئے ایک دوسرے کے بھائی بن گئے۔ کابل کا معزول بادشاہ اس پیشکش سے انکار نہ کرسکا کیونکہ انکار کے معنی یہ تھے کہ ہاتھ سے ہیرا بھی جائے گا اور لاہور میں جو پناہ حاصل ہے، وہ بھی باقی نہ رہے گی۔ اس طرح یہ ہیرا رنجیت سنگھ کے قبضہ میں پہنچا اور دلیپ سنگھ نے لندن کے دوران قیام میں انگریزوں کی فرمائش پر اسے ملکہ برطانیہ کی خدمت میں پیش کیا۔(جاری ہے )

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔ تیسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : فادرآف گوادر


loading...