چین بھارت جنگ کی صورت میں پاکستان کیا کرسکتا ہے؟

چین بھارت جنگ کی صورت میں پاکستان کیا کرسکتا ہے؟
چین بھارت جنگ کی صورت میں پاکستان کیا کرسکتا ہے؟

  



پچھلے دو ماہ سے چین اور بھارت کی سر حد پر کشیدگی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ چین کے حُکام کا کہنا ہے کہ بھارت ڈوکلام کے علاقے میں اپنے فوجی بھیج کر اُسکے علاقے میں مداخلت کر رہا ہے جبکہ بھارت کا موقف ہے کہ چین اس علاقے میں سٹرک تعمیرکر رہا ہے جو کہ چین کا علاقہ نہیں ہے۔ یاد رہے کہ چین اور بھارت کے مابین اِسی علاقے کو لیکر پہلے بھی ۱۹۶۲ میں جنگ ہو چُکی ہے۔ جس میں بھارت کو چین کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانی پڑی تھی۔ اب بھی صورت حال کا فی حد تک تشویشناک ہے۔ چین نے بھارت کو متعدد بار سرحد سے اپنے فوجی بُلانے کے لئے درخواست کی ہے لیکن بھار ت کے حُکام چین کی بات کو آسانی سے ماننے کے لئے تیار نہیں ۔ کیونکہ اُنکو ایٹمی طاقت ہونے کا زُعم پریشان کر رہا ہے۔ بھارت کی فوج پہلے ہی سی چین سے ۱۹۶۲ کی شکستِ فاش کا بدلہ لینے اور علاقے میں اپنی دھاک بٹھانے کے لئے بے قرار نظر آ تی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بھارت چین کے خلاف لڑائی لڑنے کا ہر گز نہیں سوچے گا۔ کیونکہ بھار ت کو چین کی فوجی اور اقتصادی حالت اور بین الااقومی اثر و رسوخ کا اندازہ ہے۔ بھار ت کے فوجی حُکام اور سول حکومت کو اندازہ ہے کی چین کے دُنیا کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے اور دوستانہ تعلقات ہیں۔ُ روس کیساتھ بھی چین کے تعلق بہترین ہیں۔ اور امکان اغلب ہے کہ جنگ کی صورت میں رُوس بھارت کا ساتھ نہیں دے گا بلکہ اُسکی کوشش ہو گی کہ جنگ کی صورت میں مصالحانہ کردار ادا کرے۔ کیونکہ وُہ بھارت کے واسطے اپنے تعلقات چین سے بگاڑ نہیں سکتا۔ 

در اصل رُوس اور چین کے در میان مفاہمت موجود ہے کہ رُوس یا چین پر کسی بھی حملے کی صورت میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے حلیف ہونگے۔ بلکہ ایک دوسرے کی جنگ کے علاوہ اور دوسرے شعبہ ہائے زندگی میں بھی ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔ لہذا جنگ کی صورت میں حسبِ معمول امریکہ بھارت کی ہی مدد کرے گا۔ لیکن بعض دانشوروں کے مُطا بق امریکہ کے لئے چین اور بھارت کے درمیان کسی ایک مُلک کو امداد کے لئے چُننا ایک بہت مشُکل کام ہو گا۔

۱۹۶۲ کی جنگ میں امریکہ نے بھار ت کا ہی ساتھ دیا تھا۔ بلکہ امریکہ کے استفسار پر نو زائیدہ مملکتِ پاکستان نے امریکہ کا ہی ساتھ دیا تھا۔ اُس وقت بھارت رُوس کا حلیف تھا۔ بھار ت کا رُوس کے ساتھ ایک خصوصی معاہدہ موجود تھا۔ لہذا امریکہ نے اُن حالات میں بھارت کے ساتھ خوشگوار بنانے اور انٹلیجنس حاصل کرنے کے لئے چین کے خلاف بھارت کو ترجیح دِی تھی۔ یا د رہے کہ امریکہ کے بھارت اور پاکستان کے ساتھ اپنے مُفادات کے تحت خصوصی تعلقات رہے ہیں۔ کیونکہ امریکہ اور رُوس کئی دہائیوں تک ایک دوسرے کے حریف رہے ہیں۔ دونوں ممالک کی کوشش رہی ہے کہ وُہ دُنیا کے کسی بھی کونے میں ایک دوسرے کی مخالفت ترک نہ کریں۔ کیونکہ دونوں سُپر طاقتیں ایک دوسرے پر ہر طرح سے سبقت حاصل کرنے کے لئے کو شاں ہیں۔

آج کی دُنیا میں وقت کے ساتھ ساتھ تقاضے بھی بدل گئے ہیں۔ بھارت اورپاکستان اِس خطے میں ایک دوسرے کے روایتی حریف ہیں اور اتفاق سے دونوں ممالک ایٹمی طاقت کے مالک ہیں۔ ۱۹۶۲ میں بھار ت ایٹمی طاقت ہر گز نہ تھا۔ اُس وقت اُسکی فوج بھی زیادہ تجربہ کار اور ماہر نہ تھی۔ علاوہ ازیں، بھارت کے پاس جدید ا سلحے کا فقدان تھا۔ لیکن اَب بھارت کے پاس جدید ترین اسلحہ، ا یٹم بم اور امریکہ کی پشت پناہی حاصل ہے۔ لہذا وُہ اتنی جلدی چین کے مطالبات ماننے کے لئے تیار نہیں ہوگا۔ بلکہ نفسیا تی طور پر بھارت اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لئے ہر ممکن کوشش کریگا۔ اِس صورت حال میں ایک سوال جو خطے میں رہنے والے لوگوں کے اذہان میں اُجاگر ہو رہا ہے وُہ یہ کہ چین اور بھارت کی جنگ کی صورت میں پاکستان کِس مُلک کی مدد کرے گا؟ یہ سادہ سا سوال بہت سارے لوگوں کے لئے پریشان کُن ہے۔

ساری دُنیا جانتی ہے کہ پاکستان اور چیں کے تعلقات صدیوں سے مثالی چلے آ رہے ہیں۔ پاکستان چین کی دوستی کو چند مصلحتوں کی بنا پر ہر گز ترک نہیں کر سکتا۔ یا باالفاظ د یگر، وُہ بھارت اور چین کے تنازعہ پر خاموشی اختیار نہیں کر سکتا۔ اِسکو چین کی حمائت میں کُچھ نہ کُچھ کرنا ہی پڑے گا۔ بعض لوگوں کا خیا ل ہے کہ چین اور بھارت کے درمیان جنگ ہونے کے بہت کم چانسز ہیں کیو نکہ بھارت دوبارہ چین کے خلاف لڑ نے کی جرأت نہیں کرے گا۔ بھارت چین کے وسائل اور فوجی طاقت سے بخوبی واقف ہے۔ علاوہ ازیں، بھارت کو معلوم ہے کہ پاکستان چین کا گہرا دوست ہے۔ پاکستان چین سے کٹ کر کبھی نہیں رہ سکتا۔ جنگ کی صورت میں عین ممکن ہے کہ پاکستان اپنی سرحدون پر بھارت کے خلاف جنگ شروع کر دے۔ بھارت کے لئے چین اور پاکستان کے ساتھ بیک وقت جنگ لڑنا نہایت مُشکل ہو گا۔ رُوس سے بھی مدد نہیں لی جا سکے گی۔ کیونکہ رُوس اور چیں کے درمیان گہرے دوستانہ تعلقات پائے جاتے ہیں ۔ دونوں ہی ممالک امریکہ کے خلاف صف آرا ہونے کے لئے کبھی بھی تیار اور مستعد رہتے ہیں۔لیکن بھارت کے فوجی جنرل بپن روات نے اخباری نمائیندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت چین کی طاقت سے خوف زدہ نہیں ہے۔ بھارت دونوں جانب کے بار ڈرز پر کامیابی سے جنگ لڑ سکتا ہے۔ جنرل بپن روات کی بات میں کتنا وزن ہے؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ تاہم یہ بات ضرور ہے کہ خطے میں کشیدگی موجود ہے اور ہلکی پھُلکی قسم کی جھڑپیں بھی ہورہی ہیں جو کہ باقاعدہ جنگ کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہیں۔ پاکستان کو چین کے ساتھ اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لئے چین کا ساتھ دینا پڑے گا۔ ایسا کرنے سے امریکہ بھی بھارت کی مدد کرنے لئے اپنی افواج پاکستان کے خلاف بھیج سکتا ہے۔ تاہم یہ حالات پاکستان اورچین کی دوستی کا کڑا امتحان ہیں۔ خاص طور پر ایسی صورتِ حال میں جب پاکستان کے اندر عدم استحکام پہلے ہی سے موجود ہے۔ کیا ہم امریکہ کو ناراض کرنے کے متحمل ہو سکیں گے ؟

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ