جب نصرت فتح علی خان کی تان ٹوٹ گئی

جب نصرت فتح علی خان کی تان ٹوٹ گئی
جب نصرت فتح علی خان کی تان ٹوٹ گئی

  



یہ 1993 کی بات ہے۔جب میں نصرت فتح علیخان سے ملنے کے لئے لاہور سے فیصل آباد پہنچا تو مجھے کافی تاخیر ہوچکی تھی ،وہ سوپ سے لبالب جہازی پیالا ہاتھ میں لئے سامنے کلاک کو دیکھنے لگے ،رات کا پچھلا پہر تھا ۔علیک سلیک کے بعد بہت سے سوال وجواب ہوئے۔سارے جواب وہی پرانے ،رسمی ۔۔۔ پھر میں نے جسارت کرتے ہوئے ایک ذاتی سا سوال کردیا ’’خان صاحب آپ وزن کم کیوں نہیں کرتے‘‘

بھاپ اڑتے سوپ میں چمچہ ہلاکرایک چھوٹی سی چسکی لینے کے بعد نصرت فتح علیخان نے میری جانب گردن موڑی ،خشک لبوں پر زبان پھیری اور کہا ’’ بڑا مشکل ہے ۔بہت مشکل ہے ۔وزن کم کرنا چاہتا ہوں مگر کم کر نہیں سکتا ‘‘

انہو ں نے دوبارہ پیالا اٹھایا اور لبوں تک لے جاتے ہوئے رک گئے ’’ سوپ پئیں گے آپ ‘‘

میں نے اقرار میں سر ہلایا تو باریک سی آواز میں اونچا بولے’’چھوٹی ،مہمان واسطے بھی پیالہ لیکر آ‘‘

میں نے جھٹ سے ہاتھ کی انگلیاں سکیڑ کر اشارہ کیا ’’ چھوٹے والا‘‘

سوپ کی چسکی لیکر ہنسے ’’فکر نہ کریں ۔ آپ کے سائز کا ہی ہوگا ‘‘

میں متجسس تھا کہ انکے نامکمل جواب پر سوال کروں ،خود ہی گویا ہوئے’’ ڈاکٹر بہت زور لگا رہے ہیں کہ وزن کم کردوں۔۔آپ دیکھ لیں میں اتنا نہیں کھا سکتا ۔بس پیتا ہوں ۔یہ سوپ یا جوس ۔۔۔۔کھانے کا زیادہ شوق نہیں رہا ۔آپ جاننا چاہتے ہیں کہ وزن کم کیوں نہیں کرتا ۔ایک بار بیگم کی مان لی کہ وزن کم کرتے ہیں ۔پھر میرے ساتھ کیا ہوا؟ ۔ ابھی دو کلو ہی وزن کم ہوا تھا کہ میرے سُر بیٹھ گئے ‘‘

’’ سُر۔۔۔مطلب۔۔۔‘‘

’’ آواز بیٹھ گئی،ہانپ گیا ،تال ٹوٹنے لگی،لگا کہ اب گا نہیں سکوں گا ۔سوچا کہ ایسا کیوں کر ہوگیا ہے۔جلد ہی سمجھ گیا کہ وزن کم کرنے سے میرے سُر چھوٹے ہوئے گئے ہیں ۔تان پوری نہیں لگ پارہی ۔بس جی وہ دن ،اسکے بعد وزن کم کرنے کا سوچا نہیں ۔۔‘‘ استاد نصرت فتح علیخان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’’ کھا تا میں بہت کم ہو ۔۔۔۔۔۔‘‘

’’ یہ وہم تھا یا فزیکلی پرابلم محسوس ہوئی؟‘‘

’’ سُر سنگیت تو میری زندگی ہیں ،عشق ہیں ۔یہی میری سانسیں ہیں۔ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا میں نے ۔۔ اپنے ڈاکٹر کو جب یہ بات بتائی تو اس نے کہا کہ خان صاحب یہ آپ کا وہم ہے۔لیکن میں جانتا ہوں میرے سُر تان گلے سے نہیں سینے اور پیٹ کے زور سے بھی نکلتے ہیں ۔اس لئے میں یہ رسک نہیں لے سکتا تھا ۔موسیقی سمجھنے والے جانتے ہیں کہ سُر لگاتے ہوئے جسم کا کون سا حصہ زور لگاتا ہے۔کچھ گلے ،سے،کچھ ناک سے،کچھ سینہ اور پیٹسے گاتے ہیں۔سو میں کیسے رسک لے سکتا تھا ‘‘

’’ سنا ہے آپ سوتے بھی کم ہیں ؟‘‘

’’ راتوں کو میں جاگتا ہوں ۔کبھی رات کو سونا چاہوں نے استاد بڑے غلام علی خان کا کلام سنتے سو جاتا ہوں ۔یہ کلام میرے لئے نیند کی گولیاں ہیں ۔میرے سرہانے استاد سلامت علی خان اور استاد امیر علی خان کا بھی ریکارڈ پڑا ہوتا ہے‘‘

نصرت فتح علیخان نے قوالی کو نیا رنگ دیا ،لوگ کہتے رہے کہ انہوں نے قوالی کو بگاڑ دیا ہے لیکن ان کا موقف مختلف تھا، کہا کرتے تھے ’’میں اب قوالی نہیں گا رہا،قوالی بڑا ٹھوس کام ہے اور اسکا انداز جدا ہے ۔میں نوجوان نسل کے لئے کچھ کرنا چاہتا تھا اس لئے میں نے ویسٹرن موسیقی آلات کے ساتھ اپنی آواز کا استعمال کیا،بھیرویں اور پہاڑی راگوں کو نئے آلات کے ساتھ گایا ۔اس لئے یہ قوالی نہیں ،میری آوازکا ایک تجربہ تھا جو کامیاب ہواہے‘‘ نصرت فتح علیخان کو ہم سے بچھڑے ہوئے بیس برس ہوگئے ہیں ۔جب بھی انکی صورت سامنے آتی ہے،یادوں اور باتوں کے دریچے وا ہوجاتے ہیں۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ