اگر کبھی ایسی عورت آپ کے محلے میں آجائے تو تو جان لیں آپ کو پہلا کام کیا کرنا ہوگا

اگر کبھی ایسی عورت آپ کے محلے میں آجائے تو تو جان لیں آپ کو پہلا کام کیا کرنا ...
اگر کبھی ایسی عورت آپ کے محلے میں آجائے تو تو جان لیں آپ کو پہلا کام کیا کرنا ہوگا

  



لاہور(نظام الدولہ)ایک زمانہ تھا جب دیہاتوں میں ملنگنی کے روپ میں عورتیں گھر گھر سے نذر نیاز اکٹھی کرنے جاتی تھیں ،وہ اناج دانہ لیکر دعائیں دیتیں ۔بعض کے ہاتھوں میں چھوٹی چھوٹی سلگتی ہوئی ہنڈیائیں ہوتی تھیں ۔جب کوئی ان سے کہتا کہ ان کے گھر میں بھوت پریت یا نحوست کا ڈیرہ ہے تو وہ زیر لب کچھ پڑھتے ہوئے سلگتی ہنڈیامیں کافور اور حرمل کے بیج ڈال کر دھونی دیتیں جس سے گھر والوں کو ذہنی سکون مل جاتا کہ ان کے گھر سے نحوست کا سایہ اٹھ گیا ہے ۔ لیکن جوں جوں لوگوں کا شعور بڑھا ،ملنگنیاں محدود ہوتی گئیں ۔البتہ ان کی دیکھا دیکھی ”کاریگر“ عورتوں نے ملنگنیوں کا روپ دھار کر گھروں پر دستک دینی شروع کردی۔وہ بھی ہاتھوں میں سلگتی ہنڈیا لیکر نکلتیں اور بڑی ہوشیاری سے لوگوں کو وہم میں مبتلا کرکے ان سے اناج کی بجائے پیسے بٹورتیں ،اگر کوئی انکار کرتا تو تیوری چڑھا کر آنکھیں سرخ کرکے ان کو بددعائیں دیتیں کہ اس گھر کا ستیاناس ہوجائے گا۔اکثر ایسی عورتیں گھروں میں وارداتیں بھی کرانے لگیں۔ایسی بہروپیہ عورتیں ہر دور میں موجود رہی ہیں۔تاہم اب وہ ملنگیوں کا روپ نہیں دھارتیں بلکہمانگنے والی،دکھیاری یا کسی فلاحی تنظیم یاکمپنی کی نمائندہ بن کر وارداتیں ڈالتی ہیں ۔اسکے باوجود کبھی کبھار شہروں اور قصبوں کی پسماندہ گلیوں محلوں میں شام کے وقت ایسی عورتیں نظر آتی ہیں جو گھروں سے جنات نکالنے کے لئے دم درود اور دھونی کا کام کرتی ہیں ۔ اس حوالے سے یہ جان لینا چاہئے کہ جب کبھی کسی محلے میں ایسی خواتین نظر آئیں اپنے گھروں کے دروازے ان پر مت کھولیں نہ انہیں اپنے مسائل بتا کر اپنی کمزوری سے آگاہ کریں ۔کیونکہ ایسا کرنے سے آپ کی جان و مال کو انجانے دشمن سے خطرہ رہے گا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...