فیکٹری میں کام کرنے والے نوجوان کی ٹویٹ کا ایک ایسی لڑکی نے جواب دے دیا کہ لاٹری لگ گئی، دنوں میں لاکھوں لوگ فالو کرنے لگے، ماہانہ لاکھوں روپے کمانے لگا، یہ لڑکی کون تھی؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

فیکٹری میں کام کرنے والے نوجوان کی ٹویٹ کا ایک ایسی لڑکی نے جواب دے دیا کہ ...
فیکٹری میں کام کرنے والے نوجوان کی ٹویٹ کا ایک ایسی لڑکی نے جواب دے دیا کہ لاٹری لگ گئی، دنوں میں لاکھوں لوگ فالو کرنے لگے، ماہانہ لاکھوں روپے کمانے لگا، یہ لڑکی کون تھی؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

  



لاس اینجلس(نیوز ڈیسک)امریکی نوجوان جیروم بلنگم دو سال قبل تک تو دھوبی کا کام کر کے بمشکل گزر بسر کرتا تھا لیکن ایک روز اس کی ایک ٹویٹ کا جواب امریکا کی ایسی مشہور و مقبول حسینہ نے دے دیا کہ اس نوجوان کی زندگی ہمیشہ کے لئے بدل گئی۔

میل آن لائن کے مطابق جیروم مشہور امریکی اداکارہ و ماڈل کم کارڈاشین کا پرستار ہے۔ ایک روز اس نے کم کے نام ایک معصومانہ ٹویٹ کی جس میں اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ”کیا آپ نے کبھی اپنے پرستاروں کی خبر لی ہے؟ میں آپ سے ڈھیروں محبت کرتا ہوں۔“ اس کے جواب میں کم کارڈاشین نے بھی اس سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں لکھا ”مجھے بھی تم سے محبت ہے۔“

یہ خاتون اس مہنگی ترین گاڑی کو ہتھوڑی سے کیوں توڑرہی ہے؟ وجہ جان کر تمام مرد کانوں کو ہاتھ لگانے پر مجبور ہوجائیں گے

بس اس ایک ٹویٹ نے ہی جیروم کی زندگی بدل دی۔ اس کے لئے کم کارڈایشین کے اظہار محبت کے بعد ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس کے فالوورز کی تعداد، جو پہلے صرف 200 تھی، بہت تیزی سے بڑھنے لگی اور اب تقریباً پانچ لاکھ افراد ٹویٹر پر اسے فالو کرتے ہیں۔ ہر ماہ اس کے اکاﺅنٹ کو تقریباً 60لاکھ لوگ دیکھتے ہیں۔ا نٹرنیٹ پر اس کی مقبولیت دیکھ کر بڑی بڑی کمپنیوں نے اس کے ساتھ رابطہ کرنا شروع کردیا اور وہ اب کئی عالمی شہرت یافتہ کمپنیوں کی مارکیٹنگ اپنے سوشل میڈیا اکاﺅنٹ پر کرتا ہے۔ ان کمپنیوں کی مصنوعات کے بارے میں ٹویٹ کرکے وہ ہر سال تقریباً پانچ لاکھ پاﺅنڈ(تقریباً آٹھ لاکھ پاکستانی روپے) کمالیتا ہے۔

جیرم نے اپنی زندگی میں آنے والی حیرت انگیز تبدیلی کے متعلق بات کرتے ہوئے بتایا کہ ”جس روز میں نے کم کارڈاشین کو ٹویٹ کی تھی وہ میرے لئے بظاہر تو ایک عام دن کی طرح تھا۔ میں اسے ٹویٹ کرنے کے بعد اپنے کام پر جانے کیلئے روانہ ہوا تھا کہ اچانک میرے فون پر پنگ پنگ کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ یہ آوازیں ایک بار شروع ہوئیں تو تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ دراصل یہ ٹویٹر پر مجھے فالو کرنے والوں کی وجہ سے موصول ہونے والے پیغامات تھے۔ بے شمار لوگ مجھے دھڑا دھڑ فالو کررہے تھے۔ بہت سے لوگ مجھے مبارکباد بھی دے رہے تھے۔ مجھے فالو کرنے والوں یہ بڑی تعداد ہی تھی جس کی وجہ سے آج میں بڑی بڑی کمپنیوں کی مارکیٹنگ کرتا ہوں۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ یہ سب ممکن نہیں تھا اگر کم اس روز میری ٹویٹ کا جواب نہ دیتیں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...