کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو پش پشت ڈال کر بھارت کے ساتھ تعلقات استوار نہیں کئے جا سکتے: خواجہ آصف

کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو پش پشت ڈال کر بھارت کے ساتھ تعلقات استوار نہیں ...
کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو پش پشت ڈال کر بھارت کے ساتھ تعلقات استوار نہیں کئے جا سکتے: خواجہ آصف

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پورے بھارت میں مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے اور بے گناہ مسلمانوں کے خون بہانے کی سوچ نئی دہلی میں پروان چڑھی جس نے سارے ملک کو لپیٹ میں لے لیا ہےاور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اس سوچ کو فروغ دے رہے ہیں ۔جب تک بھارت سے اس سوچ کا خاتمہ نہیں ہوتا تعلقات میں بہتری نہیں آسکتی ، کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو پس پشت ڈال کر بھارت کے ساتھ تعلقات استوار نہیں کئے جا سکتے، نئی دہلی مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہا ہے اور توقع کر رہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر ہو جائیں گے مگر موجودہ حالات میں پاک بھارت تعلقات میں برف نہیں پگھل سکتی ۔

نوازشریف نااہلی کے بعد درست راستہ اختیار کرنے کی بجائے غرور اور تکبر کے گھوڑے پرسوار ہو گئے، آئین کو فرد واحد کے مفادات کے لئے تبدیل نہیں کیا جا سکتا :سینیٹر سراج الحق

نجی ٹی وی کے پروگرام ”کیپیٹل ٹاک “ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ افغانستان کی کشید ہ صورت حال کے حوالے سے مذاکرات کے لئے آئندہ دو ہفتوں میں امریکہ کا دورہ کروں گا کیوں کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات گذشتہ 70سالوں سے قائم ہیں اور واشنگٹن سے اختلافات ختم کرنا پاکستان کے مفاد میں ہیں۔ پاک بھارت تعلقات خطے میں امن کے لئے ضروری ہیں مگر بھارت ہماری مشرقی اور مغربی سرحدوں پر حملہ آور ہے ، لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف وزری ، پاک افغان بارڈ اور بلوچستان میں نئی دہلی کی پراگرسی وار پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں ہیں جس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، بھارت اگر سمجھتا ہے کہ کلبھوشن یادیو دونوں ممالک کے تعلقات میں رکاوٹ ہے تو اسے یہ سمجھنا چاہئے کہ کلبھوشن ہم نے نہیں بھیجا بھارتی ایجنسی نے اسے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئے بھیجا تھا۔مودی سرکار کشمیریوں کو گلے لگانے کا درس دیتی ہے مگر دوسری جانب بے گناہ کشمیریوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔بھارت کا یہ فلسفہ بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کے مترادف ہے۔ نئی دہلی کے ساتھ مودی کے دور حکومت میںبہتر تعلقات کے امکانات نہیں ہیں اور نہ ہی موجودہ صورت حال میں کوئی بڑا بریک تھرو ہونے کا امکان ہے۔

خواجہ آصف نے روس کے ساتھ تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں وزیر دفاع ہوتے ہوئے متعدد بار روس گیا اور ہر دورے میں ماسکو کے ساتھ تعلقات میں بہتری پیدا آئی، بہت جلد روس کا دورہ بھی کروں گا کیوں کہ پاکستان کے لئے روس اور چین کے ساتھ بہتر تعلقات اہمیت کے حامل ہیں۔ متحدہ عرب امارت کے ساتھ میرا خصوصی لگاﺅ ہے کیوں کہ1979ءسے میرے پاس یو اے ای حکومت کا اقامہ ہے ۔ ترکی کا ساتھ دینے کی وجہ سے خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے ہیں مگر ہم بہت جلد ان تعلقات کو بہتر کر لیں گے۔

مزید : قومی /اہم خبریں


loading...