دوبارہ نہیں ،صرف ایک بار ،عوامی تحریک کو جلسے کی اجازت کے عدالتی حکم کوآئندہ مثال نہیں بنایاجاسکتا ،ہائی کورٹ نے فیصلہ جاری کردیا

دوبارہ نہیں ،صرف ایک بار ،عوامی تحریک کو جلسے کی اجازت کے عدالتی حکم کوآئندہ ...
دوبارہ نہیں ،صرف ایک بار ،عوامی تحریک کو جلسے کی اجازت کے عدالتی حکم کوآئندہ مثال نہیں بنایاجاسکتا ،ہائی کورٹ نے فیصلہ جاری کردیا

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی ) لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان عوامی تحریک کواس یقین دہانی پر استنبول چوک مال روڈ پر جلسہ کرنے کی اجازت دی کہ مال روڈ پردھرنا نہیں دیا جائے گا بلکہ جلسہ منعقد ہوگاجو رات 10بجے ختم کر دیا جائے گا۔

نوازشریف نااہلی کے بعد درست راستہ اختیار کرنے کی بجائے غرور اور تکبر کے گھوڑے پرسوار ہو گئے، آئین کو فرد واحد کے مفادات کے لئے تبدیل نہیں کیا جا سکتا :سینیٹر سراج الحق

جسٹس مامون رشید شیخ نے پاکستان عوامی تحریک کا مال روڈ پر دھرنا روکنے کے لئے تاجر محمدنعیم میر کی درخواست نمٹاتے ہوئے قراردیا ہے کہ پاکستان عوامی تحریک کو مال روڈ پر جلسہ کی اجازت کوآئندہ عدالتی نظیر کے طور پرپیش نہیں کیا جاسکے گا۔مال روڈ پرجلسے جلوسوں پر پابندی سے متعلق عدالت عالیہ کا 2فروری 2011ءکا حکم اور حکومتی پالیسی نافذالعمل رہے گی ۔پاکستان عوامی تحریک کو اس پابندی سے صرف ایک مرتبہ کے لئے استثنیٰ دیا گیاہے جسے مثال نہیں بنایا جاسکتا۔فاضل جج نے قراردیا کہ درخواست گزار تاجر کی طرف سے آزادی نقل و حرکت اور تجارت کے آئینی حقوق کی بات کی گئی ہے جبکہ پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے اجتماعات کی آزادی اور تقریر کی آزادی کے آئینی حقوق کا ذکر کیا گیا ہے ۔پاکستان عوامی تحریک کی استنبول چوک پر جلسے کی تیاریاں مکمل ہونے کے باعث انہیں ایک مرتبہ مال روڈ پر جلسے کی اجازت دی جارہی ہے ۔اس سے قبل درخواست گزار کی طرف سے اسد منظور بٹ نے موقف اختیار کیا کہ مال روڈ پر دھرنے کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں جبکہ دہشت گردی کے خدشات بھی  ہیں لہذا پاکستان عوامی تحریک کو مال روڈ پر دھرنا دینے سے روکا جائے، عدالتی کارروائی کے دوان سی سی پی او لاہور امین وینس، ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف، ڈپٹی کمشنر سمیر احمد، کمشنر لاہور ڈویژن عبداللہ سنبل، ڈپٹی سیکرٹری سیکیورٹی عثمان علی اورایڈووکیٹ جنرل پنجاب شکیل الرحمن عدالت میں پیش ہوئے، عوامی تحریک کی طرف سے بیرسٹر سید علی ظفر نے موقف اختیار کیا کہ احتجاج کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے، سی سی پی او لاہور نے عدالت کو بتایا کہ دہشت گردی  کا شدید خطرہ ہے، کسی جلسے کے لئے عوام کو دہشت گردوں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا، سڑک پر جلسہ یا دھرنا دہشت گردی کو کھلی دعوت دینا ہے، استنبول چوک میں دھرنے یا جلسے سے کوئی بھی سانحہ ہو سکتا ہے، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے موقف اختیار کیا کہ طاہر القادری اور پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے حکومت پر بلا جواز دباﺅ ڈالا جارہا ہے ۔پاکستان عوامی تحریک سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی جوڈیشل انکوائری کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کررہی ہے جبکہ پاکستان عوامی تحریک نے اس جوڈیشل انکوائری کا بائیکاٹ کردیا تھا ۔اس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ فریقین مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل نکالیں، فریقین نے ایک دوسرے کی بات نہ مانی تو دوبارہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن ہو سکتا ہے اور عدالت نہیں چاہتی کہ کسی بھی قسم کا تصادم ہو اور دوبارہ ماڈل ٹاﺅن جیسا سانحہ ہو، عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیئے کہ عوامی تحریک اس بات کو سنجیدہ لے کہ دہشت گردی کے خدشات موجود ہیں، فاضل جج نے مزیدریمارکس دیئے کہ عدالت کے نزدیک انسانی جانوں کا تحفظ سب سے مقدم ہے،انسانی جان کا تحفظ پہلے بنیادی حقوق کی بات بعد میں دیکھنا ہو گی۔عدالت نے فریقین کو باہمی رضامندی سے مسئلے کا حل نکالنے کی مہلت دی جس کے بعدسی سی پی او لاہور امین وینس، ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف، ڈپٹی کمشنر سمیر احمد، کمشنر لاہور ڈویژن عبداللہ سنبل، ڈپٹی سیکرٹری سیکیورٹی عثمان علی اورایڈووکیٹ جنرل پنجاب شکیل الرحمن کے پاکستان عوامی تحریک کے وکلاءبیرسٹر سید علی ظفر ،خواجہ طارق رحیم اور اشیاق احمد کے ساتھ مذاکرات ہوئے اوردرمیانی راستہ نکالنے پراتفاق ہوا۔

پاکستان عوامی تحریک کے وکلاءطاہر القادری سے ٹیلی فونک رابطہ کرنے کے بعد عوامی تحریک کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ عوامی تحریک نے دھرنے کو جلسے میں تبدیل کر دیا ہے، عوامی تحریک نے یقین دہانی کرائی ہے کہ دھرنا نہیں دیا جائے گا بلکہ رات 10بجے طاہر القادری کی تقریر کے بعد کارکن اور سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے شہداءکے لواحقین منتشر ہو جائیں گے ، اس یقین دہانی پر عدالت نے عوامی تحریک کو ایک دن کیلئے جلسہ کرنے کی اجازت دے دی ، عدالت نے عوامی تحریک کو ہدایت کی ہے کہ سیکیورٹی کے معاملے پر پولیس اور انتظامیہ سے تعاون کیا جائے جبکہ پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ سیکیورٹی کے لئے موثر انتظامات کئے جائیں، عدالت نے ہدایات جاری کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔عدالت نے درخواست نمٹاتے ہوئے مزید قرار دیا کہ عدالت پاکستان عوامی تحریک اور دیگر سیاسی جماعتوں سے یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ جلسے جلوسوں اور دھرنوں کے لئے درمیانی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کریں گے ،مستقبل میں مال روڈ پر احتجاج اور جلسے جلوسوں پر پابندی کا لاہور ہائی کورٹ کا2فروری2011ءکا حکم اور اس بابت سرکاری پالیسی برقرار رہے گی ۔

مزید : لاہور


loading...