الیکشن ہوگئے۔۔۔ آگے بڑھیں!

الیکشن ہوگئے۔۔۔ آگے بڑھیں!
الیکشن ہوگئے۔۔۔ آگے بڑھیں!

  

حالیہ الیکشن اس طرح ہوئے ہیں کہ کسی تجزیہ کی ضرورت نہیں رہی۔ووٹرز کے رحجانات، ترجیحات، رہنماؤں کے بیانات، پارٹیوں کی قومی کارکردگی،امیدواروں کے مقامی امیج کی عکاسی ووٹوں کی تعداد میں کتنی ہوئی، بات کرنا وقت ضائع کرنا ہے۔ شائد کوئی اصغرخان کیس ان انتخابات کی حقیقت بتاسکے، مگر اب اصغر خان جیسے لوگ کہاں ملتے ہیں؟ شائد کوئی’ضمیر‘ چند سالوں بعد جاگے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ 2008ء میں ریٹائرڈ میجر جنرل احتشام ضمیر نے اعتراف کیا انہوں نے کس طرح 2002ء کے انتخابی میدان کونیب کی مدد سے گنگز پارٹی کے لئے ہموار کیا۔

انتخابات میں دھاندلی نئی بات نہیں اور نہ ہی ہر الیکشن کے بعد ہارنے والوں کی دہائی۔ کبھی دھاندلی کا شور آندھی بن کر ابھرا اور کبھی ہلکی دھنوں کی مدھر سروں کی طرح رہا۔ ملک میں ہونے والے گزشتہ دس عام انتخابات میں سے 1977ء، 1990ء اور 2002ء کے انتخابات نے خاص اہمیت حاصل کی۔ 1977ء میں دھاندلی کے خلاف قومی اتحاد نے ملک گیر احتجاجی تحریک چلائی جس کا فائدہ جنرل ضیاء الحق نے اٹھایااور اقتدار پر آبیٹھے۔ 1990ء کے انتخابات کے بعد اگرچہ پیپلز پارٹی نے وائٹ پیپر شائع کیا، جس میں پولنگ ڈے پر ہونے والی بے ضابطگیوں کے حقائق لکھے گئے، مگر اصل حقیقت اصغر خان کیس میں سامنے آئی۔ اصغرخان کیس کے ذریعے پتہ چلا کہ کس طرح ایک پاپولر پارٹی کا راستہ روکنے کے لئے مختلف الخیال پارٹیوں کو اکٹھا کرکے اسلامی جمہوری اتحاد بنایا گیا اوراسے قومی خزانے سے پیسے دیئے گئے۔ 2002ء میں بھی اس وقت کی فوجی حکومت نے من پسند نتائج لینے کے لئے مقدس اداروں کو استعمال کیا، جس کا اعتراف بعد میں کئی باضمیر افسروں نے کیا۔ 2013ء کے الیکشن کے بعد عمران خان نے اڑھائی سال دھاندلی کے خلاف احتجاج کیا۔ اس طرح دیکھا جائے تو ہر الیکشن کے بعد دھاندلی کا شور بلند ہوتا ہے، مگر خوش آئند بات یہ رہی ہے کہ سیاسی قوتوں نے آگے بڑھنے پر اتفاق کیا، شائد 77ء کے مارشل لاء سے کچھ سبق سیکھا۔

عمران خان نے اگرچہ 1996ء میں تحریک انصاف بنائی، مگرقابل ذکر سیاسی قوت کے طور پر ان کا سفر 2011ء میں شروع ہوا۔ 2013ء میں انہیں اور ان کے نوجوان پیروکاروں کو یقین تھا کہ وہ لینڈ سلائیڈ فتح حاصل کریں گے، مگر انتخابات کے نتائج دیکھ کر انہیں دھچکا لگا، لہٰذا ایک سال بعدکپتان باہرسڑکوں پر نکل آئے اور پھر سڑکوں پر ہی رہے۔ دوسری طرف نوازشریف حکومت کے پہلے سال ہی سول وخاکی تعلقات میں دراڑیں ابھر آئیں جو وقت کے ساتھ گہری ہوتی گئیں۔ یوں گزشتہ چار سال سڑکوں پر دھرنوں، احتجاجوں اور اندر سول و خاکی کھینچا تانی کی نذر ہوگئے۔کہیں اناؤں اورکہیں مفادات کا کھیل چلتا رہا۔سیاسی عدم استحکام تمام بحرانوں کی ماں ہوتا ہے۔ احتجاجوں سے ابلتی سڑکیں اور لڑکھڑاتی حکومتیں، ملک میں انتشار اورقوم میں ہیجانی کیفیت پیدا کردیتے ہیں۔ ملک کو بحران سے نکالنا قومی رہنماؤں کی ذمہ داری ہوتی ہے، سرکاری ملازمین کی نہیں ۔سرکاری ملازمین کی قومی مفاد کے نام پر کوششیں ان کی مدت ملازمت تک ہوتی ہیں، ملازمت ختم قومی خدمت ختم۔لیکن سیاسی قیادت سے وسیع النظری اور کشادہ دلی کی توقع کی جاتی ہے۔ انہیں کسی مقتدرسے الجھے بغیر اپنی حدود میں بھی رہنا ہے اور ڈیلیور بھی کرنا ہے سفر طویل اور جگہ جگہ لینڈ مائنز۔ سیاست دان خود ایک دوسرے کو اکھاڑتے پچھاڑتے ہیں اورکمزور کرتے ہیں، جس کا فائدہ ان کے حریف اٹھاتے ہیں۔

سیاسی قیادت کے پاس آگے بڑھنے اور بڑھتے رہنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ دھاندلی کا ہلکا پھلکا بیک گراؤنڈ میوزک چلاتے رہیں،مگر پارلیمنٹ کے اندر۔دھرنوں اور سازشوں سے ملک کو بہت نقصان پہنچا ہے، اگر ان کے دل میں ملک کا تھوڑا سا بھی درد ہے، تو اسے احتجاجی سیاست کاری سے بچائیں۔ جب عمران خان سڑکوں پر نیا پاکستان تعمیر کررہے تھے تو مسلم لیگ ن کے رہنما اس احتجاج کو ملکی معیشت کے لئے نقصان دہ بلکہ ملک کے خلاف سازش کہتے رہے، اگر اپوزیشن خان صاحب کی پیروی کرتے ہوئے وہی کچھ کرے تو اچنبھے کی بات نہیں ہوگی، کیونکہ سیاسی جماعتوں کے اصول حکومت میں الگ اور اپوزیشن میں الگ ہوتے ہیں۔حکومت میں بیٹھی ہر سیاسی قیادت کو چومکھی لڑائی لڑنا پڑتی ہے۔ ایک طرف مقتدروں کی کھینچی سرخ لائن‘ دوسری طرف انکساری سے اپنی منواتی بیوروکریسی، تیسرا محاذاپوزیشن کا اور چوتھی جانب میڈیا اور عوام کی توقعات کا دباؤ۔ چاروں اطراف سے خود کو بچا کر ڈیلیور بھی کرنا ہے۔ عمران خان سیاست کے نئے کھلاڑی ہیں، انہیں روایتی سیاست کے داؤ پیچ نہیں آتے‘ انہیں نچلی سیاست کی حرکیات سے بھی آشنائی نہیں، لیکن ان کی کرشماتی شخصیت نے بھٹو کی طرح اپنا ووٹ بنک بنایا ہے، نیم سیاسی تعلیم یافتہ نوجوانوں کو سیاست میں متحرک کیا ہے اور اسی ووٹ بنک نے انہیں وزارت عظمیٰ تک پہنچایا ہے۔ وہ سیاسی بکھیڑوں کو سلجھانے کے اہل نہیں، ان کے لئے ٹکٹوں کی تقسیم ایک کٹھن مرحلہ تھا، جسے انہوں نے خودایک عذاب قرار دیا تھا۔ یہ عذاب اس لئے بنا کہ انہیں بہت سے لوگوں کو سیاسی مجبوری میں کراہت کے ساتھ ٹکٹ دینا پڑے۔

اسی طرح انہیں حکومت میں رہ کر ناگوار فیصلے کرنے کا تجربہ اور اس کے اندر کی اندھیری گھاٹیوں کا ادراک نہیں تھا، اس لئے حکومت کو بے دھڑک لتاڑتے رہے، جلسوں میں حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے اور بر ی حکمرانی پر رگڑا لگاتے رہے۔ وہ اس بات سے بے پروا رہے کہ جس آئیڈیلزم کی بات کررہے ہیں، اسے حکومت میں آکر کیسے اور کس حد تک عمل میں لاسکیں گے۔ ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں سن سن کر اورمدینہ کی ریاست کا خواب دیکھ دیکھ کر ان کے چاہنے والوں کی توقعات بڑھتی گئیں اور وہ اس وقت کے حکمرانوں کوروئے زمین کی ساری برائیوں کی جڑ سمجھنے لگے۔ اب نئے پاکستان کا خواب دیکھنے والے بے تابی سے اس دن کا انتظار کررہے ہیں، جب وہ مغربی ممالک کی شفافیت اور معاشی ترقی اور مدینہ کی ریاست کی اعلیٰ اخلاقی اقدار کا کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کرسکیں گے۔

مگر کیا حد سے بڑھی توقعات کو انیسویں صدی کے گھسے پٹے انتظامی سٹرکچر کے ساتھ پورا کیا جاسکتا ہے؟ سٹیٹس کُو کی سب سے بڑی قوت بیوروکریسی کے اندر کسی انقلابی پروگرام کوجذب کرنے کی اہلیت ہی نہیں، البتہ نمائشی اقدامات پر وہ شاد رہیں گے۔ بابوؤں کے کلف زدہ رویے، ضوابط کے گورکھ دھندے اور دیمک زدہ فائلوں کے دفتر بدلنے کے لئے بڑاعزم اور بڑاوقت چاہیے۔ ان کو بدلتے بدلتے بلکہ ان کو سمجھتے سمجھاتے منتخب نمائندوں کی مدت ختم ہوجاتی ہے اور پھر سب کچھ جوں کا توں رہتا ہے۔عمران خان کو تسلی اور آسائش سے نیا پاکستان بنانے دیں۔ اُمید ہے کہ ان کی حکومت بننے سے بہت کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ ڈیڑھ سال سے جاری سول وخاکی اناؤں کے درمیان تناؤ ختم ہو گا اور عدلیہ سمیت سارے ادارے ہم آہنگ ہوجائیں گے۔ سرگوشیوں اور سازشوں کی دن رات چلنے والی مشینوں کو کچھ قرار آئے گااور گلی گلی میں شور اور اوئے توئے کی توپیں بھی سکھ کا سانس لیں گی۔ اگر ساری سیاسی قیادت کا اتفاق جمہوریت پر ہے تو اس کی بقا تسلسل میں ہے۔ اپنے مطالبات کے لئے احتجاج جمہوری حق ہے، مگر ایسا احتجاج جس سے عوام کی اذیت میں اضافہ ہو۔خود جمہوریت سے بیزاری کے لئے کافی ہے۔ ملک کا استحکام اور اجلا امیج جمہوریت سے وابستہ ہے، جمہوریت کو پھلنے دیں، ملک کو آگے بڑھنے دیں!

مزید :

رائے -کالم -