اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ہوں یا کوئی اور اس کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہوگا

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ہوں یا کوئی اور اس کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہوگا
اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ہوں یا کوئی اور اس کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہوگا

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن نے طے کیا تھا کہ قائدِ ایوان کے امیدوار کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہوگا، سپیکر کے منصب کے لئے امیدوار پیپلز پارٹی دے گی جبکہ ڈپٹی سپیکر کے عہدے کے لئے نامزدگی ایم ایم اے کرے گی، پارٹی پوزیشن کے حساب سے قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی تعداد 80، پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد 52 اور ایم ایم اے کے ارکان کی تعداد 15 ہے، اسی حساب سے امیدواروں کی تقسیم بھی کی گئی تھی یعنی سب سے بڑی پارٹی کے لئے وزیراعظم، دوسری کے لئے سپیکر اور تیسری کے لئے ڈپٹی سپیکر، بدھ کو جب سپیکر کا انتخاب ہوا تو یہ واضح ہوگیا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں نے انہیں ووٹ دیا ہے، اپوزیشن جماعتوں کے ووٹوں کی تقسیم کا اگر کسی کو خدشہ تھا تو یہ درست ثابت نہیں ہوا، سید خورشید شاہ کو 146 ووٹ ملے، آٹھ ووٹ مسترد ہوئے ہیں اور کامیاب امیدوار اسد قیصر کو 176 ووٹ ملے، اس لحاظ سے دیکھا جائے تو زیادہ ووٹ تحریک انصاف کے مسترد ہوئے، اپوزیشن کے تو کل 148 ووٹ تھے (مسلم لیگ ن+ پیپلز پارٹی+ ایم ایم اے+ اے این پی) جن میں سے 146 خورشید شاہ کو مل گئے، دوسرے مرحلے میں جب ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہوا تو بھی اپوزیشن متحد نظر آئی اور اس کے ووٹوں میں کوئی تقسیم نہیں دیکھی گئی، ڈپٹی سپیکر کے لئے اپوزیشن کے امیدوار اسد محمود کو 144 ووٹ پڑے جو خورشید شاہ کو ملنے والے ووٹوں سے صرف دو کم ہیں، البتہ منتخب ڈپٹی سپیکر کے ووٹ بڑھ گئے اور انہیں سپیکر اسد قیصر کی نسبت زیادہ ووٹ ملے، انہیں 184 ووٹ ملے، یہاں تک تو ٹھیک ہے دو جماعتوں کے دو ارکان نے انتخاب لڑا اور دونوں کو جتنے ووٹ ملے اس سے اتحاد کا تاثر ابھرا۔

اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا جب قائد ایوان (وزیراعظم) کا انتخاب ہوگا تو اپوزیشن کا یہی ووٹنگ پیڑن رہے گا، یہ سوال اس لئے اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ کہا جارہا ہے کہ پیپلز پارٹی کو شہباز شریف کے نام پر اعتراض ہے اور وہ چاہتی ہے کہ مسلم لیگ (ن) اپنے کسی دوسرے رکن کو امیدوار بنائے، اصولاً تو شہباز شریف کے نام پر پیپلز پارٹی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ان کا نام طے شدہ فارمولے کے تحت ہی دیا گیا ہے، تاہم بہتر یہ ہے کہ اس پر مزید مشاورت کرلی جائے اور اگر اس کے نتیجے میں کوئی اتفاق رائے ہوتا ہے تو کرلیا جائے، مسلم لیگ (ن) اپنے کسی دوسرے رکن کو امیدوار بنانے پر رضا مند ہوتی ہے یا نہیں یا پیپلز پارٹی شہباز شریف پر اپنا اعتراض واپس لیتی ہے یا نہیں، یہ تو واضح نہیں ہے لیکن اتنا تو معلوم ہو ہی چکا ہے کہ اپوزیشن اپنا امیدوار وزیراعظم بنوانے کی پوزیشن میں نہیں، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب سے یہ بات پوری طرح واضح ہوگئی ہے اب جو منصب اپوزیشن کے حصے میں نہیں آنے والا، اس پر زیادہ مین میخ کی تو ضرورت نہیں، جو منصب اپوزیشن کے حصے میں آنا یقینی ہے، اس پر کیوں نہ بات کرلی جائے۔

اپوزیشن عددی لحاظ سے کم ارکان پر مشتمل ہو، یا زیادہ پر، جہاں ایک وزیراعظم ہوتا ہے وہاں ایک قائدِ حزب اختلاف بھی ہوتا ہے، یہ ضروری نہیں ہے کہ جو شخص وزیراعظم کے عہدے کا الیکشن لڑے وہی اپوزیشن لیڈر بھی ہوگا، یہ کوئی بھی ہوسکتا ہے اور عام طور پر اس کا تعلق اپوزیشن جماعتوں میں سب سے بڑی جماعت سے ہی ہوتا ہے، اگر ان جماعتوں میں کسی وجہ سے قائدِ حزب اختلاف کے مسئلے پر اختلاف ہوجائے تو سپیکر کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ اپوزیشن ارکان کی رائے لے لے کہ وہ کسے لیڈر بنانا چاہتے ہیں، اپوزیشن ارکان کی اکثریت جسے اپنا قائد بنالے گی وہی قائدِ حزب اختلاف ہوگا۔ اس معاملے میں سرکاری بنچوں کا کوئی کردار نہیں اور نہ ہی سرکاری ارکان سے اس ضمن میں کوئی رائے لینے کی ضرورت ہوتی ہے، مثال کے طور پر 2013ء کی اسمبلی کا ذکر کیا جاسکتا ہے جس میں مسلم لیگ (ن) حکمران جماعت تھی جبکہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف اپوزیشن بنچوں پر تھیں، عددی اعتبار سے پیپلز پارٹی کو تحریک انصاف پر فوقیت حاصل تھی لیکن عمران خان کے کئی بہی خواہ جن میں شیخ رشید پیش پیش تھے انہیں قائدِ حزبِ اختلاف بنانا چاہتے تھے، شیخ رشید نے اس ضمن میں کوششیں بھی کیں لیکن اس وقت ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا جس کے ارکان کی تعداد پچیس تھی، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے ارکان مل کر تعداد میں تحریک انصاف سے زیادہ ہوجاتے تھے اس لئے خورشید شاہ کو قائدِ حزب اختلاف بنالیا گیا، اگرچہ شیخ رشید پھر بھی کوشش کرتے رہے کہ عمران خان کو اپوزیشن لیڈر بنا دیا جائے، اسمبلی کی مدت ختم ہونے سے کوئی چھ ماہ پہلے بھی ایسی کوشش کی گئی لیکن اس میں بھی انہیں کوئی کامیابی نہ ہوئی، وجہ اس کی یہ تھی کہ پیپلز پارٹی تو اپنے لیڈر خورشید شاہ کے ساتھ تھی ہی، بہت سی دوسری جماعتیں بھی ان کو ہٹانے کے حق میں نہ تھیں، ایم کیو ایم نے بھی تحریک انصاف کا ساتھ نہ دیا، جماعت اسلامی اور اے این پی کی رائے بھی یہی تھی، اس لئے عمران خان قائدِ حزب اختلاف نہ بن سکے۔ اب وزیراعظم تو عمران خان منتخب ہوجائیں گے، قائد حزبِ اختلاف وہی ہوگا جسے اپوزیشن ارکان کی اکثریت چاہے گی، مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی تعداد اسی ہے اور قائدِ حزب اختلاف کا منصب اس کا حق ہے، پیپلز پارٹی اگر چاہے بھی تو یہ منصب حاصل نہیں کرسکتی، کیونکہ اس کے اور ایم ایم اے کے ارکان مل کر بھی مسلم لیگ (ن) کے برابر نہیں ہوتے، حزبِ اختلاف کی تیسری جماعت اے این پی ہے جس کا صرف ایک رکن ہے، ایسی صورت میں قائدِ حزب اختلاف تو وہی ہوگا جسے مسلم لیگ (ن) چاہے گی، وہ شہباز شریف ہوسکتے ہیں یا کوئی بھی دوسرا رکن، ایسے میں پیپلز پارٹی شہباز شریف پر کیوں تحفظات کا اظہار کررہی ہے، اس کی مصلحتیں صرف وہی سمجھتی ہے۔

اپوزیشن لیڈر

مزید : تجزیہ