آزاد سیاسی ماحول میں فریقین کو یکساں موقع ملتا تو سپیکر کے انتخاب میں اپ سیٹ ہو سکتا تھا

آزاد سیاسی ماحول میں فریقین کو یکساں موقع ملتا تو سپیکر کے انتخاب میں اپ سیٹ ...

تجزیہ سہیل چوہدری

کوئی اپ سیٹ ہوا نہ ہی اس کی ذرہ بھر امید تھی ! اگرچہ بعض تجزیہ کار اس بنیاد پر کسی ممکنہ اپ سیٹ کی قیاس آرائیاں کررہے تھے کہ سپیکر و ڈپٹی سپیکر کے انتخابات کیلئے خفیہ رائے شماری کا طریقہ اپنایا جاتا ہے، بلاشبہ سابق اپوزیشن رہنماء سید خورشید شاہ سپیکر کے امیدوار کے طورپر اپنے حریف اسد قیصر سے سیاسی لحاظ سے قدرے بھاری بھرکم تھے لیکن خفیہ رائے شماری کا حربہ بہت ہی کار گر ثابت ہوسکتاتھا اگرمجموعی طورپر ملک میں آزادانہ سیاسی ماحول ہو ، تمام فریقین کیلئے یکساں مواقع ہوں ، لیکن ’’صاف چلی نہ شفاف چلی ‘‘ہوا کے نتیجہ میں ایسی توقع رکھنا عبث تھا ، اس وقت پاکستان مسلم لیگ ن کے لئے تو بالکل سازگار فضا نہیں، ن لیگ کیلئے سیاسی حد نگاہ شائد صفر ہی ہو جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کیلئے منظر دھندلا تو ضرور ہے لیکن شائد اس حد تک نہیں کہ آگے بڑھ ہی نہ پائے ! سید خورشید شاہ اور متوقع قائد حزب اختلاف صدر پاکستان مسلم لیگ ن کے مابین قدرے انڈر سٹینڈنگ تو موجو دہے لیکن شہباز شریف او رپاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین سابق صدر زرداری کے مابین ڈیڈ لاک ہنوذ ہے ، اس بناء پر گزشتہ روز صبح ہی سے پارلیمنٹ کی غلام گردشوں میں خبر یا افواہ کے طورپر اطلاعات چل رہی تھیں کہ اپوزیشن اتحاد میں پھوٹ پڑ چکی ہے اور پاکستان پیپلزپارٹی شہبازشریف کو وزارت عظمیٰ کیلئے ہر گز ووٹ نہیں دیگی ، اس بنا پر قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ گزشتہ روز سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخابات میں ن لیگ پیشگی اقدام کے طورپر ایوان سے غیر حاضر رہے گی ، جبکہ یہ قیاس آرائیاں اس وقت زور پکڑ گئیں جب لیگی ارکان اپنے قائد نوازشریف سے اظہار یکجہتی کیلئے شہباز شریف کی قیادت میں نیب عدالت میں پہنچ گئے سپیکر کے انتخابی عمل کے شروع ہونے کے کافی دیر بعد ایوان میں پہنچے اس تمام عرصہ میں اس حوالے سے قیافوں کے گھوڑے دوڑائے جاتے رہے ، دریں اثناء ن لیگ کے سابق وزیر دفاع خرم دستگیر اورعبدالرحمن کانجو پارلیمنٹ پہنچے تو انہوں نے واضح کیا کہ ن لیگی ارکان احتساب عدالت سے شہباز شریف کی قیادت میں پہنچ رہے ہیں اور ن لیگ ہر صورت سپیکر کے امیدوار سید خورشید شاہ کو ووٹ دینے کا وعدہ نبھائے گی ، یوں جب شہباز شریف لیگی ارکان کے جلوس کے ہمراہ پارلیمنٹ پہنچے تو صبح سے جاری بے یقینی کا خاتمہ ہوا، ایوان میں سپیکر و ڈپٹی سپیکر کے انتخابات کا مرحلہ خوش اسلوبی سے جاری رہا کوئی نا خوش گوار واقعہ دیکھنے میں نہیں آیا ، عمران خان ، شہبازشریف ، آصف علی زرداری اوربلاول بھٹو جب ایوان میں آئے یا ووٹ ڈالنے کیلئے اٹھے تو تب تب ان کے حق میں ہلکی پھلکی نعرہ بازی دیکھنے میں آئی جبکہ ایوان میں آصف علی زرداری ، عمران خان اور شہباز شریف اپنی اپنی نشستوں پر ایک دوسرے سے لا تعلق ہوکر بیٹھے رہے ، تاہم پی ٹی آئی کی دوسرے نمبر کی قیادت میں سے بعض ارکان نے شہبازشریف اور آصف علی زداری کی نشستوں پر جاکر ان سے مصافحہ کیا ، اس طرح پاکستان پیپلزپارٹی کے ارکان بھی شہبازشریف سے ملے جبکہ شہباز شریف خود اپنی نشست سے اٹھ کر خورشید شاہ سے اس وقت ملے جب آصف علی زرداری موجود نہیں تھے ، اس وقت آصف علی زرداری ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کے کمرے میں تشریف فرما تھے ، پرویز خٹک ، اسد قیصراور فواد چوہدری تینوں نے خوشگوار موڈ میں شہباز شریف کی نشست پر جاکر ان سے مصافحہ کیا ، عمران خان کے ہمراہ شاہ محمود قریشی تشریف فرما تھے جبکہ اسد عمر اور شیریں مزاری عمران خان سے پچھلی نشستوں پر براجمان تھے ، زیادہ تر وقت عمران خان کے گرد پی ٹی آئی کے اراکین کا جھمگٹا لگا رہا ، شہبازشریف نے زیادہ وقت رانا تنویر ، خواجہ آصف اور احسن اقبال کے گپ شپ میں گزارا ، بلاول بھٹو اور راجہ پرویز اشرف زیادہ وقت محو گفتگو رہے جبکہ کچھ دیر اپنی نشست سے پیچھے مڑ کر مسکراتے ہوئے پچھلی نشست پر بیٹھی حنا ربانی کھر سے بھی گفتگو کرتے نظرآئے ، پولنگ کا عمل قدرے طویل تھا سپیکر کیلئے نتیجہ سامنے آنے پر8 ووٹ مسترد ہوئے ، پریس گیلری میں بعض سینئر صحافیوں کاخیال تھا کہ بعض ارکان نے شاید دانستہ اس انداز میں ووٹ ڈالے ہیں کہ انہیں مسترد کرنا پڑا جبکہ بعض کا خیال تھا کہ نو منتخب اراکین اسمبلی کو ایوان میں آنے سے قبل کسی تربیتی کورس میں شرکت کرنی چاہئے کیونکہ قومی رہنماؤں کی جانب سے ووٹ کے استعمال کے طریقہ کار سے عدم آگہی کو مستحسن قرار نہیں دیا جاسکتا ، سابق سپیکر سردار ایاز صادق نے نتیجہ کے اعلان کے بعد مائیک سابق ڈپٹی سپیکر سردار مرتضیٰ عباسی کو دیا تو انہوں نے انتخابات کو جعلی قرار دیا جس پر لیگی ارکان نے ایوان میں ووٹ کو عزت دو ‘‘ نوازشریف کو رہا کرو اور وزیراعظم نوازشریف کے زور دار نعروں سے ایک ہنگامہ مچا دیا،بہت سے لیگی ارکان نے نوازشریف کی تصویروں والے پوسٹر بھی اٹھارکھے تھے ، شہباز شریف کا فی دیر تک اپنی نشست پر خاموش بیٹھے رہے تاہم جب لیگی ارکان نے مسلسل نعرہ بازی جاری رکھی تو سپیکر ڈائس کے سامنے آگئے تب شہباز شریف بھی ان میں شامل ہوگئے ،ایوان میں اس طرح کے احتجاج ہوتے رہتے ہیں لیکن یہ اپنی شدت اور حدت کے اعتبار سے ماضی سے قدرے مختلف لگ رہا تھا ، لیگی ارکان غیر معمولی طورپر مشتعل نظرآ رہے تھے ایک موقع پر وہ نعرے لگاتے ہوئے عمران خان کی نشست کے آگے آگئے جسے پہلے ہی سے پی ٹی آئی ارکان نے حفاظتی حصار میں لے لیا تھا ، تاہم کپتان عمران خان اس صورتحال پر سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور وقفہ وقفہ سے وہ اپنے اراکین کو جوابی نعرے لگانے سے منع کرتے ہوئے بھی نظر آئے تاہم مہمانوں کی گیلری سے پی ٹی آئی کے حق میں بھی خوب نعرہ بازی ہوئی جس پر پیپلزپارٹی کی حنا ربانی کھر سمیت بعض اراکین نے سخت تنقید کی کہ ایوان میں جاری کاروائی پرمہمانوں کی گیلری سے آوازیں کسنے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی ، گوجرہ سے تعلق رکھنے والے رکن خالد وڑائچ سب سے پیش پیش اور غصہ میں تھے ، جبکہ کراچی سے پی ٹی آئی کے رکن عامر لیاقت تمام وقت خوب اچھل کود کرتے پائے گئے کبھی عمران خان کے پاس جاتے ،کبھی زرداری کے گھٹنوں کو ہاتھ لگاتے کبھی ن لیگی ارکان کو منانے کیلئے آگے بڑھتے لیکن ماحول کو بھانپتے ہوئے انہیں ان کے اپنے ارکان نے ہی قابوکرلیا کہ کہیں کوئی ہاتھا پائی نہ ہوجائے ، کپتان عمران خان نے ہاتھ میں پکڑی تسبیح کا ورد جاری رکھا ، تاہم شہبازشریف نے لیگی ارکان کو ٹھنڈا کیا اورنشستوں پر بیٹھنے کیلئے کہا ، لگتا ہے کہ شہبازشریف ابھی اپوزیشن رہنماء کے کردار کیلئے شاید پوری طرح ذہنی طور پرتیار نہیں ہوئے ، شاید وہ حالات کی سختی کے باعث آہستہ آہستہ اپنے آپ کو اس نئے کردار کیلئے ڈھال لیں گے ، تاہم وہ ایوان میں اپوزیشن رہنماء بننے کیلئے مصر ہیں ، کیونکہ ایوان میں بہرحال اپوزیشن رہنماء کا بھی ایک خاص پروٹوکول ہوتاہے ان کے رویہ کو بنیاد بنا کر پی پی پی بھی الگ ہونے کیلئے پر تولتی ہوئی نظر آرہی ہے ، چونکہ پی پی پی کے پاس ’’نئے پاکستان ‘‘میں شائد کچھ آپشنز زیادہ ہیں اس لئے پی پی پی ان آپشنز کے حصول کیلئے شائد ن لیگ سے علیحدہ ہونے کیلئے کوئی حیلہ بہانہ گھڑنے سے بھی گریز نہ کرئے کیونکہ آصف علی زرداری اس موجودہ سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہیں ،سینٹ ،قومی اسمبلی اور سندھ اسمبلی میں نمبر گیم کی بنیاد پر پی پی پی نہ صرف اپنا چیئرمین سینٹ لانے بلکہ آئندہ صدر کے انتخاب میں بھی کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے ، جبکہ سندھ حکومت کا بھی اسے ایڈوانٹیج حاصل ہے ، یہ تو ساری’’ گاجریں‘‘ ہیں دوسری طرف انور مجید کی گرفتاری کا دباؤ بھی ان کے سیاسی رخ کا تعین کر سکتاہے ، درحقیقت ملک کی موجودہ مجموعی سیاسی صورتحال میں انور مجید کی گرفتاری کہیں موجودہ سیاسی طوفان میں ان کیلئے قطب نما نہ ثابت ہو،شائد اسی بناء پر پیپلزپارٹی ن لیگ کے ساتھ احتجاج میں شامل نہیں ہوئی اور ایوان میں خاموش تماشائی بنی رہی ، گزشتہ روز ایوان میں ن لیگ کا احتجاج اس محاورے ’’جو بوئے گا وہ کاٹے گا ‘‘ کے مصداق ہے ، تاہم سید کورشید شاہ ،ایاز صادق اورشاہ محمودقریشی کی تقریریں ایوان کو آئندہ سنجیدگی سے چلانے کے حوالے سے خوش آئند تھیں لیکن پی ٹی آئی گزشتہ روز کے ایک احتجاج سے اس وقت حواس باختہ نظر آئی جب اس کی طرف سے حکومت میں آنے سے قبل ہی نوازشریف کے جیل میں ٹرائل کے حوالے سے ایک دھمکی آمیز بیان منظر پر آگیا ، ابھی حکومت قائم نہیں ہوئی اور ’’ادلے کا بدلہ ‘‘ والے دھمکی آمیز رویہ سے حکومت اور ایوان دونوں کو چلانے میں چیلنجز میں خود اضافہ کرلے گی ، سیاسی محاذ آرائی کا فائدہ ہمیشہ اپوزیشن کو ہوتا ہے اورحکومت کی بدقسمتی شمار ہوتی ہے۔

مزید : تجزیہ