عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر48

16 اگست 2018 (14:54)

ادریس آزاد

دوبار کے تجربے سے سلطان مراد خان ثانی کو بخوبی اندازہ ہوگیا تھا کہ شہزادہ محمد خان میں ابھی سلطنت کے سنبھالنے کی کافی قابلیت پیدا نہیں ہوئی۔ کیونکہ وہ ایک سال میں دو بار تخت نشین ہوچکا تھا ۔ لیکن ہر بار سلطان کو خود بگڑتے ہوئے حالات کو سنبھالا دینا پڑتا تھا۔ چنانچہ اس نے پھر تخت چھوڑنے کا قصد نہ کیا ۔ چنانچہ سلطان نے شہہ بار ہ تخت نشین ہونے کے کچھ عرصہ بعد شہزادہ محمد خان کو ایشائے کوچک میں بھیج دیا ۔ تاکہ وہ وہاں رہ کر سلطنت کے متعلق زیادہ تجربہ حاصل کرسکے۔ بادشاہ تخت سے دستبردار تو ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن دو مرتبہ تخت چھوڑ کر پھر سلطنت کی ذمہ داریوں کو اپنے سر لینا صرف سلطان مرادخان ثانی کے ساتھ مخصوص ہے۔ یہ فلسفی سلطان دنیاوی عظمت کی بے حقیقی سے آگاہ ہو کر 40سال کی عمر میں دوبار تخت سے علیحدہ ہوا۔

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر47 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

لیکن اس مرتبہ تخت پر آنے کے بعد اس نے عیسائیوں کو پھر سر اٹھانے کا موقع نہ دیا۔نہ ہی بلاوجہ کسی کو ستایا۔ حالانکہ شاہِ قسطنطنیہ اپنی شرارتوں اور فساد انگیز یوں کے سبب عثمانیوں کا سب سے بڑا دشمن اور منبعء فساد تھا ، سلطان کے لیے اس کا قلع قمع کردینا کچھ زیادہ دشوار نہ تھا ۔ لیکن اس نے قیصر کو بھی اس کے حال پر رہنے دیا۔ البتہ اس مرتبہ اسے ’’موریا‘‘ کی طرف توجہ کرنی پڑی۔ جہاں قیصر قسطنطنیہ کے دو بھائی ’’قسطنطین‘‘ اور ’’تھامس‘‘ علیحدہ علیحدہ حصوں پر حکمران تھے۔ قسطنطین نے اپنے مقبوضات کے تحفظ کے لیے ’’خاکنائے کورنتھ‘‘ کی قلعہ بندی کی۔ اور ادھر سے مطمئن ہونے کے بعد ’’تھیس‘‘(thebse)کے شہر پر جو اس کی سرحد سے قریب سلطنتِ عثمانیہ کا مقبوضہ تھا ، دفعتاً حملہ کردیا ۔ اور تھیس پر قبضہ کرلیا۔ اس حملہ کی اطلاع ملتے ہی سلطان فوراًموریا کی طرف روانہ ہوا۔ ’’قورنتھ‘‘ کا مضبوط قلعہ اس کی راہ میں حائل تھا ۔ مگر عظیم آہن گر اربان کی بنائی ہوئی توپوں کی گولہ باری کے سامنے وہ زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکا۔ ۔ یہ پہلی جنگ تھی جس میں عثمانی فوج نے توپیں استعمال کی تھیں۔ ( دولتِ عثمانیہ) قورنتھ کی فتح کے بعد موریا کا راستہ بالکل صاف تھا ۔ قسطنطین اور تھامس کے لیے اظہارِاطاعت کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہ گیا تھا ۔انہوں خراج دینا منظور کیا ۔ اور ’’موریا‘‘ بھی دولتِ عثمانیہ کی باجگزار ریاستوں میں شامل کرلیا گیا ۔

ادھر سلطان کا دیرینہ دشمن ’’ہونیاڈے ‘‘ اپنی معاہدہ شکنی کے نتیجے میں ہونے والی ’’وارنہ ‘‘ کی شکست کے بعد سے لے کر اب تک ترکوں سے انتقام لینے کی تیاریوں میں مصروف رہا تھا ۔ اس کے دامنِ شہرت پر شکستِ وارنہ کا داغ بہت بد نما تھا ۔ چنانچہ اس نے چار سال کے اندر اسی ہزار کی ایک زبردست فوج پھر جمع کرلی۔ اور ’’دریائے ڈینوب‘‘ کو عبور کرکے ’’سربیا‘‘ میں داخل ہوگیا ۔ یہاں سربیا اور بوسنیا کے سپاہی ایک بار پھر ہونیاڈے کے ساتھ مل گئے۔ حالانکہ سربیا اور بوسنیا نے جنگِ وارنہ کے بعد دولتِ عثمانیہ کی اطاعت قبول کرلی تھی۔ مگر ہونیاڈے کی کوششوں سے یہ دونوں حکومتیں اپنے معاہدے سے منحرف ہوگئیں۔ اور مکمل آزادی کی خواہش انہیں سلطان کے بالمقابل میدانِ جنگ میں پھر کھینچ لائی۔ یہ قوت آزمائی ’’کسودہ ‘‘ کے اسی میدان میں ہوئی جہاں تقریباً ساٹھ سال پہلے عثمانی فرمانروا مراد خان اول نے سربیا کی طاقتور سلطنت کو شکست دے کر اپنا مطیع بنا لیا تھا ۔ اس مرتبہ تین روز کی شدید جنگ کے بعد 18شعبان 852ھ بمطابق 17اکتوبر 1448ء کو بالآخر سلطان نے ہونیاڈے کی متحدہ افواج کو بری طرح شکست دی۔’’کسودہ‘‘ کی اس عظیم الشان جنگ کا نتیجہ یہ ہوا کہ سربیا کی آزادی سلب کرلی گئی۔ اور وہ سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ بن گیا ۔ البتہ سلطان نے بوسنیا سے اس مرتبہ بھی سالانہ خراج وصول کرنے پر اکتفا ء کیا ۔ اس جنگ میں بھی حسبِ معمول قاسم بن ہشام اپنے برق رفتار دستے کے ہمراہ شریک ہوا۔ اور اس نے کشتوں کے پشتے لگادیے۔ اب وہ صرف ایک مجاہد اور سپاہی ہی نہ تھا بلکہ ایک چاند سی بیٹی کا باپ بھی تھا۔ اس نے اپنی بیٹی کا نام ’’غزالہ رکھا۔ اور وہ اسے کبھی کبھی مارسی کہہ کر بھی پکارتاتھا۔

کسودہ کی جنگ کے خاتمے پر سلطان نے سکندر بیگ کو ایلچیوں کے قتل اور دیگر جرائم کی وجہ سے سبق سکھانا ضروری سمجھا اور البانیہ پر چڑہائی کردی۔ لیکن البانیہ سکندر بیگ کی ماہرانہ چالوں کی وجہ سے سلطان کے لیے ترنوالہ ثابت نہ ہوا۔ البانیہ کے پیچ در پیچ پہاڑی دروں کی وجہ سے عثمانی فوجوں کو کھل کر لڑنے کا موقع نہ ملتاتھا ۔ چنانچہ متعدد کوششوں کے باوجود سلطان البانیہ کو فتح نہ کرسکا۔ حتیٰ کہ سلطان مراد خان ثانی کا وقتِ وصال قریب آپہنچا۔

۵ محرم الحرام 855ھ بمطابق 9 فروری1451ء کو سلطان مراد خان ثانی نے عثمانی دارالسلطنت ادرنہ میں وفات پائی۔ اور اس کی تجہیز و تکفین قدیم پایہء تخت ’’ بروصہ‘‘ میں ہوئی۔

**

عمر اور علی علی الترتیب نو اور بارہ سال کے ہوچکے تھے۔ ننھی غزالہ اب حمیرا کے ساتھ چلتی تو مان کی انگلی نہ پکڑتی ۔ وہ پانچ سال کی ہونے والی تھی۔ چھ سال کے اس عرصہ میں قاسم کی بوڑھی ماں بھی اپنے خالقِ حقیقی سے جاملی تھی۔ قاسم کی کوششوں سے طاہر دوسال اداس اور غمگین رہنے کے بعد شادی پر آمادہ ہوگیا تھا ۔ چنانچہ قاسم نے بوڑھے ملاح عباس کی بیٹی مریم کا ہاتھ اپنے بھائی طاہر بن ہشام کے لیے مانگ لیا تھا ۔ لیکن طاہر کی ابھی تک مریم کے بطن سے کوئی اولاد نہ تھی۔ اربان اور عباس بھی قاسم اور طاہر کے ساتھ ہی رہتے تھے۔ قاسم اب ایک پختہ کار اور زیرک مرد بن چکا تھا ۔ اس کی عمر سلطان مرادخان ثانی کی وفات کے وقت بمشکل تیس سال بھی نہ تھی۔ لیکن اس کے تجربہ اور دانائی نے اسے صفِ اول کے سالاروں میں شمار کروادیا تھا ۔ 

اب بھی البانوی کنیز مارتھا کی بیٹی مارسی اسے کبھی کبھی بے حد یاد آتی ۔ وہ مارسی کو یاد کرتا اور اداس ہوجاتا۔ وہ کبھی کبھی لالہ شاہین کی یادگار جاکر ٹوٹی ہوئی بارہ دری میں بیٹھ کر مارسی کے ساتھ کیے ہوئے وعدے دھرانے لگتا۔ سلطان کی وفات سے قاسم کو بھی بہت دھچکہ لگاتھا۔ آغاحسن ابھی تک ینی چری میں موجود تھا ۔ اور اب وہ اپنے تجربے کی بنیاد پر پوری سپاہ کا نائب سپہ سالار بن چکا تھا ۔قاسم کے زیر کمان دس ہزار کی سپاہ تھی۔ البتہ ان کے دوسرے تمام دوست یا تو شہید ہوچکے تھے اور یا ابھی تک اپنے سابقہ عہدوں پر ہی موجود تھے ۔ خصوصاً ریاض بیگ ابھی تک ینی چری میں موجود تھا ۔ سلطان کی وفات ہوئی تو سکندر بیگ نے سکھ کا سانس لیا ۔ شہزادہ محمد اب نوعمر لڑکا نہیں تھا ۔بلکہ ایک کڑیل اور ذہین نوجوان بن چکا تھا ۔ باپ کی وفات پر اسے ایشیائے کوچک سے فوراً بلوا کر ادرنہ کے تخت پر بٹھا دیا گیا ۔ تخت نشینی کے وقت سلطان محمد خان کی عمر اکیس ۲۱ سال چند ماہ تھی۔

اس مرتبہ شہزادہ محمد تخت نشین ہوا تو اس کی عمر بائیس سال کے لگ بھگ تھی۔ اس سے پہلے وہ دومرتبہ جب ابھی اس کی عمر صرف چودہ پندرہ سال تھی باپ کی زندگی میں تخت نشین ہوچکا تھا۔ سلطان مرادخان ثانی کی وفات کے بعد ایشیائے کوچک میں موجود شہزادہ محمد خان کو بلانے کے لیے اراکینِ سلطنت نے اس کے پاس خبر بھیجی ۔ اور وہ بلا توقف وہاں سے روانہ ہوکر درِ دانیال کو عبور کرتا ہوا ادرنہ پہنچا۔ یہیں اس کی تخت نشینی کے مراسم ادا ہونے تھے۔

سلطان محمد خان خاندانِ آلِ عثمان کا ساتواں نوجوان فرمانروا تھا ۔ سلطنتِ عثمانیہ کا بانی خود’عثمان خان‘‘ تھا ۔ جو ’’غیاث الدین کیخسرو سلجوقی‘‘ کا داماد تھا ۔ سلطان محمد خان عثمان خان کی پشت میں ساتواں حکمران تھا۔ عثمانی سلطنت کی بنیاد آج سے ایک سو چھپن برس قبل اس وقت رکھی گئی تھی۔جب 1300عیسوی میں تاتاریوں نے ایشائے کوچک پر حملہ کرکے سلجوقی فرما نروا ’’سلطان علاؤالدین ‘‘ اور پھر اس کے بیٹے ’’غیاث الدین کیخسرو‘‘ کو قتل کر دیا تھا ۔ غیاث الدین کا کوئی بیٹا نہ تھا ۔ صرف ایک لڑکی تھی جو ’’عثمان خان‘‘ کے عقد میں تھی۔ لہٰذا اراکینِ سلطنت نے متفقہ طور پر عثمان خان کو ’’قونیا ‘‘ کے تختِ سلطنت پہ بٹھا کر اپنا بادشاہ تسلیم کرلیا تھا ۔ اس طرح ’’اسرائیل بن سلجوق ‘‘ کی اولاد نے جو سلطنت 1077 عیسوی میں قائم کی تھی۔ 1300عیسوی میں اس کا خاتمہ ہوگیا ۔ اور اس کی جگہ سلطنت عثمانیہ قائم ہوئی۔(جو موجودہ زمانے (1915ء) تک رہی ........) عثمانی سلطنت سے پہلے سلجوقی سلطنت تھی۔ جس کا جدامجد اسرائیل بن سلجوق تھا ۔ یہ وہی شخص تھا جس کو ’’سلطان محمودغزنوی‘‘ کے حکم سے سات برس تک ہندوستان کے ’’قلعہ کالنجر‘‘ میں قیدرہنا پڑا تھا ۔

(جاری ہے ... اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزیدخبریں