اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 16

16 اگست 2018 (14:56)

اے حمید

موگاش نے اپنی محبوبہ روکاش کو ساتھ لیا اور دونوں شمع میں تیز تیز قدموں سے سرنگ میں سے گذرنے لگے۔ جب وہ اندھیری سرنگ سے باہر نکلے تو سیاہ بادلوں مین لپٹی ہوئی تاریک رات بادلوں بھرے آسمان پر بجلیوں کے کوندھے لپکاتی انہیں کسی آنے والے خطرے سے آگاہ کر رہی تھی۔ چاروں طرف گھپ اندھیرا چھایا تھا۔ فصیل شہر کے آگے کھائی تھی جس میں زہریلے سانپوں اور بچھوؤں کی پرورش کرنے ولای جنگلی جھاڑیاں اگی ہوئی تھیں۔ 

موگاش نے شمع سرنگ میں ہی پھینک دی تھی۔ ایک جگہ انہوں نے کھائی عبور کی اور اب ان کے سامنے ریت کے ٹیلوں کا سلسلہ تھا جو اندھیری رات میں مہیب عفرتیوں کی طرح دور تک پھیلا ہوا تھا۔ رقاصہ روکاش نے کہا۔ 

’’ ہمیں گھوڑوں کی ضرورت ہے۔ کاش ہمیں گھوڑے مل جاتے۔‘‘ 

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 15 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

موگاش نے جواب میں روکاش کا ہاتھ تھام کر کہا۔ ’’ ہمیں گھوڑے کہیں سے نہیں مل سکتے اس لئے جتنی جلدی ہوسکے یہاں سے پیدل ہی دور نکلنا ہوگا۔‘‘

محبت کرنے والے ایک جذبہ بے اختیار کے تحت عشق کے پر لگا کر دیوانہ وار صحر ا میں نکل کھڑے ہوئے۔ شاہی بت تراش موگاش اسی شہر کا رہنے والاتھا۔ وہ انہی ریت کے ٹیلوں میں کھیل کود کر جوان ہوا تھا۔ وہ ملک شام کوجانے والے صحرائی راستے سے واقف تھا۔ اسی راستے پر شام کے ملک کو جانے والے قافلے سفر کیا کرتے تھے۔ بجلی چمک رہی تھی۔ بادل گرج رہے تھے۔ اب بوندا باندی بھی شروع ہوگئی تھی صحرا کی ٹھنڈی ریت پر وہ آگے ہی آگے بڑھتے چلے جا رہے تھے۔

وہ کافی دور نکل گئے۔ موگاش نے پیچھے مڑ کر ریکھا۔ شہر کی قدیم فصیل کی برجیوں میں جلنے والی مشعلیں ستاروں کی طرح جھلملا رہی تھیں۔ 

روکاش تھک گئی تھی۔ اسی کے نازک پاؤں درد کرنے لگے تھے۔ موگاش نے اسے حوصلہ دیا۔ روکاش نے موگاش کی طرف محبت بھری نظروں سے دیکھا۔ رات کے اندھیرے میں اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ بارش کی بوندیں اس کے سیاہ بالوں سے ٹپکنے لگی تھیں۔ ریت کے دیو پیکر ٹیلوں کا سلسلہ صحرائی شاہراہ پر ان کی دونوں جانب پھیلا ہوا تھا۔ پھر وہ شاہراہ سے ہٹ کر ٹیلوں کے درمیان سے ہو کر گذرنے لگے۔ نازک اندام رقاصہ روکاش تھک گئی تھی اور اس سے چلا نہیں جا رہا تھا۔ موگاش نے اس کو کاندھے پر اٹھا لیا مگر چند قدم چلنے کے بعد وہ بھی تھک گیا۔ گیلی اور نرم ریت میں اس کے پاؤں دھنس دھنس جاتے تھے۔ اس وقت موگاش کو دور ایک ٹیلے کے پاس کھجوروں کے چند درخت اندھیری رات میں سر اٹھائے جھکے کھڑے ہیں اور پاس ہی ایک جھونپڑے کے پاس شمع جل رہی ہے۔ جس شے کو دیکھ کر اس کے تھکے ہارے جسموں میں پھر سے طاقت امڈ آئی وہ ایک گھوڑا تھا جو کھجور کے درختوں کے نیچے کھڑا تھا۔ 

موگاش نے روکاش کو آہستہ سے کہا۔ ’’ محبت کے دیوتاؤں نے ہماری مدد کے لئے یہ گھوڑا بھیجا ہے۔‘‘ موگاش آہستہ آہستہ گھوڑے کی طرف بڑھا۔ اسے خدشہ تھا کہ اگر گھوڑے نے کوئی آواز نکالی تو اس کا مالک جھونپڑے میں سے نکل آئے گا۔ مگر گھوڑا خاموش کھڑا رہا۔ موگاش نے سب سے پہلے اپنی محبوبہ روکاش کو گھوڑے پر بٹھایا اور پھر خود سوار ہوا اور گھوڑے کو قدم قدم چلاتا جھونپڑی سے دو ر لے گیا پھر اس نے ایڑ لگائی اور گھوڑا ہوا سے باتین کرتے لگا۔ وہ بہت خوش تھے کہ قسمت ان کا ساتھ دے رہی ہے۔ دیوتا ان کی مدد کر رہے ہیں لیکن قدرت کو جو منظور تھا وہ ظاہر ہونے والا تھا۔ پردہ غیب سے ظہور میں آنے والے خونی المیے کو کڑکتی بجلیوں نے دیکھ لیا تھا۔ اس کی آتشیں کوندے صحرا میں لپک رہے تھے۔ بادل گرجتا تو رقاصہ روکاش کا دل دہل جاتا اور وہ اپنے محبوب کے کندھے سے اپنا سر لگا دیتی ۔ گرجتی، کڑکتی طوفانی رات ، محبت کی ماری روکاش کو کسی ناگزیر سانجے سے خوفزدہ کر رہی تھی۔ موگاش نے گھوڑے کی باگیں ڈھیلی کر رکھی تھیں اور وہ صحرا میں سرپٹ دوڑا جارہا تھا کہ اچانک بادلوں کی ہیبت ناک گرج کے ساتھ ہی قرنے کی تیز آواز گونجی۔ موگاش نے روکاش کواپنے قریب کر لیا وہ اس کی آواز کو خوب پہچانتا تھا۔ یہ موہنجودرو کے مطلق العنان جابر بادشاہ سومر کے دستہ خاص کی آمد کی آواز تھی۔ جو ان محبان صادق کا تعاقب کرتا ان کے سر پر آن پہنچا تھا۔ آن واحد میں گرانڈیل مسلح سپاہیوں نے انہیں گھیرے میں لے لیا۔ ان سپاہیوں کے پلے ہوئے گھوڑے برق رفتاری سے سندھ کے ویران ٹیلوں کو عبور کر کے ایک ناگہانی آفت بن کر ان تک پہنچ گئے۔

موگاش نے تلوار سونت لی۔ سپاہی اس پر ٹوٹ پڑے۔ روکاش گھوڑے سے گر پڑی۔ وہ قسمت کی ستم ظریفی پر گریہ کناں تھی اور پوپھٹے کی کا فوری روشنی میں موگاش کو شاہی جیش کے تنومند گرانڈیل سپاہیوں سے لڑتا دیکھ رہی تھی مگر اکیلا موگاش کہاں تک اتنے سپاہیوں کا مقابلہ کر سکتا تھا۔ ایک سپاہی نے پیچھے سے آکر تلوار لہرائی۔ روکاش کی چیخ نکل گئی۔ تلوار موگاش کی گردن پر پڑی اور اس کا سرکٹ کر بارش میں بھیگتی صحرائی ریت پر گر پڑا۔ روکاش بے ہوش ہوگئی۔ جیش کے سردار نے موگاش کے سر کو تیزے پر چڑھالیا۔ بے ہوش رقاصہ روکاش کو گھوڑے پر باندھا اور شاہی محل کی طرف واپسی کا حکم دیا۔ 

حکمران سومر کا حکم تھا کہ موگاش کا سر کاٹ کر لایا جائے اور روکاش رقاصہ کو زندہ پکڑ کر شاہی محل کے قید خانے میں ڈال دیا جائے اور شاہی احکام پر پوری طرح عمل کیا گیا۔ رقاصہ روکاش قید خانے میں پڑی تھی کہ مجھے ہڑپہ میں اس واقعہ کی خبر پہنچ گئی۔ میرا خیال تھا کہ رقاصہ روکاش کو دیوی اور دیوتا بعل کے حضور قربان کیا جائے گا لیکن یہ سن کر کہ بادشاہ کے خاص حکم پر روکاش کا شاہی قید خانے میں رکھا گیا ہے میرا ماتھا ٹھنکا۔ اس کا صاف مطلب یہی تھا کہ بادشاہ نے رقاصہ کو مندی کی تحویل سے واپس لے لیا ہے اور یقیناً اس نے یہ الزام لگایا ہو گا کہ مندر کا عملہ شاہی مجرموں کی نگہبانی کرنے میں ناکام رہا ہے۔

میں خاموش رہا اورواپس موہنجودڑو نہ گیا۔ میں رقاصہ روکاش کے انجام کا منتظر تھا۔ میرے اندر اس عہد کی ساری اچھائیاں ، برائیاں ، کمینگیاں ، کدورتیں ، حسد ، رقابتیں اور نفرتیں موجود تھیں۔ میں اس عہد کی تصویر تھا۔ اس عہد کے انسانی معاشرے کا مزاج میرے مزاج میں رچاہوا تھا۔ میں رقاصہ روکاش کی محبت میں پاگل ہوگیا تھا مگر اس نے مجھے چھوڑ کر موگاش کا بازو تھام لیا تھا۔ خواہ اس کی وجہ کچھ ہی تھی۔ مجھے اس وجہ سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ یہ اس عہد کے انسانی معاشرے کی خود غرضی تھی جو میرے کردار کا ایک ناگزیر حصہ تھی۔ میں موگاش کے قتل پر اندر سے خوش تھا اور اب یہ خبر سننے کے انتظار میں تھا کہ رقاصہ روکاش کو دیوتا بعل کے سامنے قربان کر دیا گیا ہے لیکن بادشاہ سومر اسے شاہی محل کے قید خانے میں لے گیا تھا جس سے میں مشکل میں پڑ گیا تھا۔ آخر وہی ہوا جس کا مجھے اندیشہ تھا۔ میرے خاص جاسوس نے مجھے آکر خبر دی کہ بادشاہ نے میرے نائب کاہن کو زرو جواہر کی رشوت دے کر راضی کر لیا ہے کہ وہ مندر میں جاکر یہ اعلان کر دے کہ دیوتاؤں نے اپنی خوشی سے رقاصہ روکاش کو بادشاہ کے حوالے کر دیا ہے تاکہ وہ مقدس رقاصہ جو صرف دیوتاؤں کے آگے رقص پیش کیا کرتی تھی، اب بھرے دربار میں امراء وزراء کے سامنے رقص کرے اور دیوتاؤں کی نگاہوں میں ذلیل و رسوا ہو۔

میں خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا۔ آخر موہنجودڑو کا عیش پرست حکمران حسین روکاش کو اپنی خوشیوں کے لئے حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ اب میرے لئے رقاصہ روکاش کا وجود ایک سانپ تھا جسے میرے سینے پر لوٹنے رہنا چاہیے تھا۔ اور یہ بات میرے لئے ناقابل برداشت تھی۔ میری راتوں کی نیند اُڑ گئی۔ مجھے کسی کل چین نہیں پڑتا تھا۔ عبادات و ریاضیت سے جی اکھڑ گیا تھا۔ ہر گھڑی، ہرپل ایک تصویر میرے آنکھوں کے سامنے رہتی اور میں روکاش کو بادشاہ کے محل میں رقص کرتے دیکھتا تو میں تڑپ اٹھتا۔ آخر میں نے روکاش کو قتل کرنے کا فیصلہ کرلیا اور ایک روز ہڑپہ سے موہنجودڑو کی طرف روانہ ہوگیا۔

(جاری ہے ۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزیدخبریں