سلامتی کونسل کا اجلاس، پاکستانی ڈپلومیسی کی آزمائش

سلامتی کونسل کا اجلاس، پاکستانی ڈپلومیسی کی آزمائش

پاکستان کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج طلب کر لیا گیا ہے۔ گزشتہ روز ہی اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا اس سلسلے میں مراسلہ سلامتی کونسل کے صدر کے حوالے کیا تھا،جس کے جواب میں سلامتی کونسل کا اجلاس توقع سے بھی زیادہ جلدی بُلا لیا گیا ہے،جہاں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے حالیہ بھارتی اقدام پر غور کیا جائے گا اور اس کے خلاف قرارداد منظور کرانے کی کوشش کی جائے گی،یہ پچاس سال میں پہلا اجلاس ہے۔ جو کشمیر کے معاملے پر غور کے لئے طلب کیا گیا۔چند روز قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کہہ چکے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل ہونا چاہئے اور بھارت کو کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے سے گریز کرنا چاہئے،اس اجلاس میں بھی پاکستان یہی موقف اختیار کرے گا، جوکشمیر کی خصوصی حیثیت بدلنے کے اقدام سے پہلے ہی معلوم و معروف ہے اور پاکستان ہمیشہ یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ یہ دیرینہ تنازعہ عالمی ادارے کی قراردادوں کی روشنی میں طے کیا جائے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے اور کشمیر پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔اُن کا کہنا تھا کہ کاغذکا ٹکڑا کشمیر کی حیثیت پہلے بدل سکا اور نہ ہی اب بدل سکے گا، کشمیر کاز کے لئے اپنی قومی ذمے داریاں نبھانے کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔

سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اور دس غیر مستقل ارکان ہیں،یہی پندرہ ارکان کسی بھی قرارداد کی منظوری میں اہم اور بنیادی حیثیت رکھتے ہیں،قرارداد کی منظوری کے لئے پاکستان کو اجلاس کے باہر سخت محنت کرنا ہو گی اور اگر یہ قرارداد منظور ہو گئی تو خدشہ یہ ہے کہ کوئی نہ کوئی ملک اس قرارداد کو ویٹو کر دے گا۔البتہ اگر منظوری کے مرحلے میں پاکستان کو کامیابی حاصل ہو جاتی ہے تو یہ بھی غیر معمولی پیش رفت ہو گی،کیونکہ اِس وقت سلامتی کونسل کی جو ہیئت ترکیبی ہے اس کے ہوتے ہوئے بھارت کے خلاف قرارداد منظور کرانا آسان نہیں ہو گا تاہم یہ پاکستان کی ڈپلومیسی کی ایک بڑی آزمائش بھی ہے عام تصور یہ تھا کہ پاکستان جب اجلاس کی طلبی کی درخواست کرے گا تو اس درخواست کے جواب میں ہنگامی اجلاس طلب کرتے کرتے دس پندرہ دن لگ جائیں گے اِس دوران پاکستان سفارتی محاذ پر اپنی لابنگ میں سرگرمی دکھائے گا اور رُکن ممالک سے رابطے کر کے قرارداد منظور کرانے کی راہ ہموار کرے گا، لیکن وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مظفر آباد میں اِس سلسلے میں جن خیالات کا اظہار کیا اگرچہ انہیں ”زمینی حقائق“ کے قریب تر قرار دیا جا سکتا ہے،لیکن وزیر خارجہ کے الفاظ میں یاسیت کا عنصر نمایاں تھا اور اُن کا خیال تھا کہ برادر مسلمان ممالک کی جانب سے بھی بھارت کے خلاف جانے کے امکانات کم ہیں،کیونکہ اِن ممالک نے بھارت میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور وہ شاید ہی یہ چاہیں گے کہ بھارت کے خلاف قرارداد منظور ہو،اگر ایسا ہے بھی تو ان تمام پہلوؤں پر اجلاس طلبی کی درخواست سے پہلے غور کرنا چاہئے تھا۔

قرارداد کی منظوری کے دو مرحلے ہوں گے، ایک تو پہلے مرحلے میں قرارداد ڈرافٹ ہو گی جس کا مسودہ کونسل میں پیش ہو گا جس پر بحث کے بعد اس پر رائے شماری کرائی جائے گی اور اگر قرارداد منظور ہو گئی تو دوسرا مرحلہ اسے ویٹو کے حملے سے بچانا ہو گا،لیکن دونوں ہی کام جس قسم کی سفارتی نزاکتوں کے طلب گار ہیں۔ کیا ایسی صلاحیت اِس وقت ہماری صفوں میں موجود ہے بھی یا نہیں، سلامتی کونسل میں کوئی قرارداد اس وقت ویٹو ہوتی ہے جب اس کی منظوری روکنا کسی کے بس میں نہ رہے اور کوئی ویٹو پاور اس کی منظوری نہ چاہتی ہو تو پھر اس کے پاس ویٹو کے حق کے استعمال کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہ جاتا۔شاہ محمود قریشی کے خیال میں اگر یہ خدشہ موجود ہے کہ کوئی نہ کوئی رکن اس قرارداد کو ویٹو کر دے گا تو بھی پہلے مرحلے میں تو سفارتی دھوڑ دھوپ کی کامیابی پر تکیہ کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان خود تو سلامتی کونسل کا رکن نہیں ہے،اِس لئے جو بھی قرارداد اجلاس میں پیش کی جائے گی وہ چین یا کسی دوسرے دوست ملک کی جانب ہی سے لائی جا سکتی ہے، بھارت نے اپنے وزیر خارجہ کو چین کے دورے پر اس مقصد کے لئے بھیجا تھا لیکن چین نے دوٹوک انداز میں بھارتی موقف مسترد کر دیا اور کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے عمل کی مخالفت جاری رکھنے کا اعلان کیا، سلامتی کونسل کے اندر جو بھی سفارتی سرگرمی ہو گی اس سب کا دارو مدار چین کی سفارتی مہارت اور اس جذبے پر ہے کہ وہ قرارداد کی منظوری کے لئے کس حد تک کوششیں کرنے پر رضا مند ہو گا،کیونکہ اگر قرارداد ابتدائی مرحلے ہی میں ناکام ہوتی نظر آئی تو چین اِس سلسلے میں کوئی آبرومندانہ حل پاکستان کی مشاورت سے تلاش کر سکتا ہے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس بلائے جانے کی اطلاع کے ساتھ ہی بھارت نے کشمیر کی کنٹرول لائن پر جارحیت میں اضافہ کر دیا ہے،تازہ حملے میں پاک فوج کے تین جوان شہید ہو گئے ہیں اس حملے کا مقصد دُنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر کی اندوہناک صورتِ حال سے ہٹانا ہے، جہاں گزشتہ دس دن سے کرفیو نافذہے اور خوراک و ادویات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ پوری ریاست میں ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سمیت ہر قسم کے مواصلاتی رابطے منقطع ہیں اور سرکاری ٹیلی فون کی دو دو منٹ کی ایمرجنسی کال کا فائدہ اٹھانے والی خواتین کی طویل قطاریں لگی ہیں، کشمیری خواتین، بچے اور بوڑھے جن مشکل حالات سے دوچار ہیں ان پر خود بھارت کے اندر بھی احتجاج ہو رہا ہے اور سابق وزیراعظم من موہن سنگھ نے بھی اس پر احتجاج کیا ہے،لیکن نریندر مودی اپنے منصوبے کے مطابق واقعات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے مظفر آباد میں کشمیر کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت آزاد کشمیر میں حالات خراب کرنے کی کوشش کرے گا،کنٹرول لائن پر تازہ فائرنگ سے لگتا ہے کہ مودی کے اس منصوبے کا آغاز ہو گیا ہے۔جس کا وزیر اعظم کو خدشہ ہے تاہم جارحیت کے ذریعے بھارت اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتا،دنیا کو کشمیر کے حالات سے باخبر کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی پوری صورتِ حال ارکان کے سامنے لائی جائے تاکہ وہ جان سکیں کہ آٹھ لاکھ بھارتی فوج کشمیر پر کس قسم کے مظالم ڈھا رہی ہے۔

مزید : رائے /اداریہ