آج سلامتی کونسل کا بڑا امتحان!

آج سلامتی کونسل کا بڑا امتحان!
آج سلامتی کونسل کا بڑا امتحان!

  

آج پچاس سال میں پہلی بار اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا کشمیر کے مسئلے پر اجلاس ہو رہا ہے۔ یہ اجلاس پاکستان کی درخواست پر بلایا گیا ہے، جس نے کہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور اُس نے ایک کروڑ بیس لاکھ کشمیریوں کو کرفیو لگا کر عملاً محبوس کر رکھا ہے۔اس خط میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ بھارت نے یکطرفہ طور پر مقبوضہ کشمیر کا جغرافیہ تبدیل کر کے کشمیریوں کو اُن کی بنیادی شناخت سے محروم کرنے کی کوشش کی ہے، جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بھی خلاف ہے۔اس وقت پوری دُنیا میں کشمیر کا مسئلہ جس طرح آگ کا بگولہ بن کر چھا گیا ہے،اُس کی وجہ سے سلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلانا ناگزیر ہو گیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس اجلاس کا انعقاد بھارت کے لئے ایک بہت بڑا دھچکا ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے اب اسے فوری طور پر مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھانا پڑے گا۔ انٹرنیٹ اور میڈیا سے پابندیاں بھی اٹھانا پڑیں گی۔ نیز بھارتی سپریم کورٹ کو بھی اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرنا ہو گی،جو اس نے مقبوضہ کشمیر کے خراب حالات کی وجہ سے آرٹیکل 370 اور 35اے کو ختم کرنے کے خلاف دائر درخواستوں پر دیا اور سماعت دو ہفتوں کے لئے ملتوی کی۔ بھارت کو ایسا اس لئے کرنا پڑے گا کہ سلامتی کونسل میں دینے کو اُس کے پاس کوئی دلیل نہیں۔کشمیریوں کو یکسر نظر انداز کر کے بھارتی حکومت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا جو بل پاس کیا،اُس کی حمایت میں بھی بھارت کے پاس کوئی دلیل نہیں، کیونکہ وہ خود اقوام متحدہ میں اسے ایک متنازعہ علاقہ تسلیم کر چکا ہے،جو حل طلب ہے اور جس کے بارے میں اقوام متحدہ کی ایک رہنما قرارداد بھی موجود ہے کہ اس مسئلے کو کیسے حل کرنا ہے۔

پاکستان کا کیس مضبوط ہے،خاص طور پر وزیراعظم عمران خان نے بھارتی اقدامات کی وجہ سے خطے میں جنگ کے خطرات کا جو ذکر کیا ہے اور آزاد کشمیر اسمبلی میں یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ بھارت آزاد کشمیر پر حملے کی تیاری کر رہا ہے،اُس کی وجہ سے یہ معاملہ بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔اب دو معاملے بہت توجہ طلب ہیں اور سیکیورٹی کونسل اُن سے صرفِ نظر نہیں کر سکتی۔ایک معاملہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا ہے،جن کی ضمانت اقوام متحدہ کا منشور دیتا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں دس دن سے زائد ہو گئے کرفیو لگا ہوا ہے اور ہرگھر کے دروازے پر بھارتی فوج کا سپاہی کھڑا ہے، اتنے عرصے تک کرفیو تو فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں کبھی نہیں لگا، کیونکہ انسانی ضرورت کی اشیاء اتنے دِنوں کے لئے ذخیرہ نہیں کی جا سکتیں۔ پھر بیماری کی صورت میں علاج و معالجہ میسر نہیں اور ہسپتالوں تک کو محبوس کیا ہوا ہے۔ دوسرا معاملہ وہ ہے جس کی طرف وزیراعظم عمران خان بار بار توجہ دِلا رہے ہیں کہ بھارت کی ہٹ دھرمی اور جارحانہ اقدامات سے خطے میں جنگ چھڑ سکتی ہے۔

یہ جنگ صرف اسی خطے تک محدود نہیں رہے گی،بلکہ اس کے اثرات پوری دُنیا پر پڑیں گے، پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جنگ شروع ہوئی تو بڑھتے بڑھتے ایٹمی جنگ کی شکل اختیار کرلے،جو دُنیا کی تباہی پر منتج ہو۔ عمران خان اپنی تقریروں اور ٹوئٹس میں بار بار نریندر مودی کو ہٹلر کے مشابہ قرار دے رہے ہیں،دُنیا پر اس بات کا گہرا اثر ہو ہا ہے اور اسے عالمی میڈیا بڑی اہمیت دے رہا ہے۔ اب اِن حالات میں پاکستان کی درخواست پر سلامتی کونسل کا فوری اجلاس نہ بلایا جاتا تو اس کے وجود پر کئی سوالیہ نشان اُبھرتے۔ سو یہ اجلاس بُلا لیا گیا ہے اور اب اس پر پوری دُنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ ہمارے اور کشمیری عوام کے لئے یہ اچھی خبر اِس لئے بھی ہے کہ مودی اگر کشمیر کا اسٹیٹس بدلنے کی حماقت نہ کرتا تو مسئلہ کشمیر نے دبے رہنا تھا اور سلامتی کونسل کے اجلاس کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہونا تھا۔اب یہ معاملہ پوری دُنیا کے لئے فلیش پوائنٹ بن چکا ہے۔ دو ایٹمی طاقتیں اس کی وجہ سے آمنے سامنے آ چکی ہیں۔ پاکستان کی ایک اور بڑی کامیابی یہ ہے کہ روس نے بھی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی حمایت کر دی ہے۔روس جس کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ بھارت کا اتحادی ہے،اِس امر کو بھانپ چکا ہے کہ حالات کی سنگینی کسی فوری عالمی مداخلت کا تقاضا کر ر ہی ہے۔

ویسے بھی یہ سلامتی کونسل کے ممبر ممالک کا کڑا امتحان ہے کہ وہ حالات کی سنگینی کا ادراک کریں۔ بھارت اپنی ایک ارب آبادی کی مارکیٹ کے بل بوتے پر بڑے ممالک کو بلیک میل کر لیتا ہے،لیکن سلامتی کونسل کے ممبران تمام ممالک کو اب صرف اپنے مفادات کو ہی نہیں دیکھنا ہو گا، بلکہ دُنیا کے امن کو لاحق خطرات سامنے رکھ کر فیصلے کرنے ہوں گے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ اور اندرونی معاملہ قرار دینے کی سر توڑکوشش کرے گا،لیکن وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں سے انکار کیسے کرے گا؟ وہ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کر سکتا کہ کشمیر میں زندگی مفلوج ہو گئی ہے،کیونکہ تقریباً سوا کروڑ کشمیریوں نے بھارتی اقدامات کو مسترد کر دیا ہے۔ اگر ان سب حقائق کے باوجود سلامتی کونسل کے ممالک بھارت کی حمایت کرتے ہیں تو انہیں دُنیا اور اپنے عوام کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا اور اگر اُن کے اِس فیصلے کی وجہ سے برصغیر میں کوئی انسانی المیہ جنم لیتا ہے

تو پھر کوئی بعید نہیں کہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے۔پہلے ہی اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کے بارے میں عالمی رائے عامہ بہتر نہیں،کیونکہ وہاں مظلوموں کے حق میں کم اور ظالموں کے حق میں زیادہ فیصلے ہوتے ہیں، بڑی طاقتیں جہاں اپنا مفاد دیکھتی ہیں، وہاں اقوامِ متحدہ کی فوج بھیج کر اپنا غیر علانیہ تسلط قائم کر لیتی ہیں۔اس وقت مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال فوری طور پر یو این او فورس کی تعیناتی کی متقاضی ہے، کیونکہ بھارتی فوج لاکھوں میں ہونے کے باوجود وہاں امن قائم نہیں کر سکی،بلکہ اُس کی موجودگی وہاں بدامنی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔بھارتی فوجی سامنے سے گولیاں مار کر نہتے کشمیریوں کو شہید کر رہے ہیں،حتیٰ کہ بچے اور خواتین بھی اُن کے مظالم سے محفوظ نہیں،اس سے زیادہ بُرے حالات کیا ہو سکتے ہیں کہ بھارت کشمیریوں کو مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت بھی نہیں دے رہا۔

سلامتی کونسل کا یہ اجلاس فیصلہ کرے گا کہ عالمی سطح پر بنائے جانے والے یہ ادارے کتنی آزادی اور جرأت کے حامل ہیں، کتنا انصاف کرتے ہیں اور انہیں بنیادی انسانی حقوق کا کتنا خیال ہے،اگر سلامتی کونسل کے مستقل ارکان میں سے کوئی ملک اِن حالات میں بھارت کی حمایت کرتا ہے تو اس کا ہمیں بائیکاٹ کرنا چاہئے۔سنا ہے آج اقوام متحدہ کے باہر اس اجلاس کے موقع پر کشمیری،پاکستانی اور سکھ ایک بہت بڑا مظاہرہ کر رہے ہیں،جس کا مقصد دُنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ صرف افسانہ نہیں،بلکہ حقیقت ہے اور دُنیا کی تاریخ میں پہلی بار لاکھوں نہتے عوام کو بارہ دن سے حبس بے جا میں رکھا گیاہے،جو انسانی حقوق کی بدترین سے بھی کچھ زیادہ خلاف ورزی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ دُنیا میں کشمیر کے سفیر کا کردار ادا کریں گے۔ یہ بڑی اہم بات ہے،اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ عمران خان بیرون ملک بھی اپنے لئے بھرپور سپورٹ رکھتے ہیں۔

دورہئ امریکہ کے دوران انہوں نے واشنگٹن میں پاکستانیوں کا ایک تاریخی جلسہ کر کے یہ ثابت کیا کہ انہیں دُنیا بھرکے پاکستانیوں کی حمایت حاصل ہے۔ اب اگر وہ کشمیر کے سفیر کی حیثیت سے دُنیا کے مختلف ممالک میں جاتے ہیں اور پاکستانیوں نیز کشمیریوں کے بڑے بڑے جلسے کر کے بھارتی جارحیت سے آگاہ کرتے ہیں تو اس سے کشمیر کے مسئلے کو دُنیا میں سلگتا ہوا ایشو بنانے میں بڑی کامیابی حاصل ہو گی……نریندر مودی نے نجانے سوچا کیا تھا، تاہم جو کچھ سامنے آ رہا ہے اس نے بھارت کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔اگر تو مودی کے اس اقدام کی کشمیری حمایت کرتے اور کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے پر خوشی سے نہال ہو جاتے تو مودی کے لئے یہ فخر اور خوشی کا مقام ہوتا،مگر اب تو رفتہ رفتہ مودی کے بارے میں خود بھارت کے اندر یہ خیال پروان چڑھ رہا ہے کہ وہ بھارت کے لئے گورباچوف بنتے جا رہے ہیں،جن کے دور میں بھارت کے کئی ٹکڑے ہو جائیں گے۔ہمیں بھارت کے ٹکڑے ہونے سے تو کوئی غرض نہیں،البتہ اس بات کا شدت سے انتظار ہے کہ بھارت کب کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے سامنے ہتھیار ڈال کر اُن کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کرتاہے۔ مودی کی بدحواسیاں اور حالات کی کروٹیں بتا رہی ہیں کہ یہ دن اب زیادہ دور نہیں، کشمیر آج دُنیا کا مسئلہ نمبر ون بن چکا ہے،جس سے نظریں چرانا دُنیا کو ایک بڑی تباہی سے دوچار کر سکتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -