آئی ٹی سیکٹر کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں: پاکستان بزنس فورم

آئی ٹی سیکٹر کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں: پاکستان بزنس فورم

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان بزنس فورم کے صدر عمر شاہد بٹ نے کہا ہے کہ آئی ٹی کے پوٹینشل سے فائدہ اٹھا کر ملک کے مالی مسائل حل اور غربت کاخاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ صلاحیت کے لحاظ سے کوئی قوم پاکستانیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتیں مگر بعض مسائل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں جنھیں ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ کاروباری برادری بھی آئی ٹی کے شعبہ میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتی جس سے مسابقت کا ماحول نہیں بنتا۔ عمر شاہد بٹ نے کہا کہ پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹ تقریباً ایک ارب ڈالر سالانہ ہے جبکہ اس کے مقابلہ میں بھارت کی آئی ٹی مارکیٹ کا حجم 181 ارب ڈالر اور برامدات 137 ارب ڈالر ہیں۔بھارت کی دو سو کمپنیاں اسی ممالک میں کاروبار کر رہی ہیں جبکہ پاکستانی کمپنیوں کی صورتحال مختلف ہے۔ انھوں نے کہا کہ آن لائن کام کرنے والوں میں بھارت دنیا میں سب سے آگے ہے جبکہ دوسرا نمبر بنگلہ دیش کا ہے جس سے وہاں بے روزگاری میں کمی اور محاصل میں اضافہ ہوا ہے۔پی ٹی آئی نے اقتدار میں آنے سے قبل چار جولائی 2018 کو اعلان کیا تھا کہ منتخب ہونے کی صورت میں آئی ٹی سیکٹر میں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی تاکہ برامدات اور روزگار میں اضافہ اور کرپشن میں کمی لائی جا سکے جس پر عمل درامد کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ چودہ سال قبل ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس دن دن تک معطل تھی جس سے ابھرتی ہوئی کال سینٹر انڈسٹری کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا اور یہ کاروبار ابھی تک اسکے اثرات سے نہیں نکل سکا ہے اس لئے انٹرنیٹ سروس میں کسی قیمت پر تعطل کی اجازت نہ دی جائے۔ چین نے آئی ٹی کی مدد سے غربت کم کرنے میں کامیاب رہا ہے اور اب اسے ختم کر رہا ہے جسکے تجربہ سے فائدہ اٹھایا جائے۔ انٹرنیٹ سے صنعت، زراعت، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی زبردست ترقی ممکن ہے۔حکومت نجی شعبہ کو مراعات دے، ٹیکس کم کرے، ریسرچ بڑھائے اور سرمایہ کاری کے قوانین کو سہل بنائے تاکہ ملکی ترقی کے نئے دور کا آغاز کیا جا سکے۔

مزید : کامرس