ایل او سی پر بھارتی جارحیت، لپاک فوج کے 3جوان شہید، جوابی کارروائی میں 5سورماہلاک، متعدد زخمی، کئی چوکیاں بنکرز تباہ

    ایل او سی پر بھارتی جارحیت، لپاک فوج کے 3جوان شہید، جوابی کارروائی میں ...

  

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی نازک صورتحال سے توجہ ہٹانے کیلئے ایل او سی پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک بارپھر بلا اشتعا ل فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں پاک فوج کے تین جوان شہید ہوگئے، جبکہ پاک فو ج کی جوابی کارروائی میں پانچ بھارتی سورما جہنم واصل، متعدد کو زخمی کر نے سمیت متعدد چوکیا ں اور بنکرز تباہ کر دیئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور کے مطابق گزشتہ روز بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی نازک صورتحا ل سے توجہ ہٹانے کیلئے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 3 پاکستانی فوجی جوان شہید ہوگئے،میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹوئٹ میں بتایا پاک فوج نے موثر جواب دیتے ہوئے 5 بھارتی فوجیوں کو ہلاک کردیا،ترجمان کے مطابق پاک فوج کی جوابی کارروائی میں متعدد بھارتی فوجی زخمی بھی ہوئے، کئی چوکیاں اوربنکرز تباہ کر دی گئیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا اپنے ٹوئٹ میں مزید کہنا تھا دنیا کہ توجہ کشمیر کی صورتحال سے ہٹانے کیلئے بھارت نے ایل او سی پر فائرنگ میں اضافہ کردیا ہے، ایل او سی پر وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے،بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہید ہونیوالے جوانوں میں نائیک تنویر، لانس نائیک تیمور اور سپاہی رمضان شامل ہیں،شہید نائیک تنویر اور سپاہی رمضان کا تعلق خانیوال جبکہ لانس نائیک تیمور کا تعلق لاہور سے ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق14سال سے پاک فوج میں خدمات انجام دینے والے 37سالہ شہید ناییک تنویر نے پسماندگان میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں،26سالہ شہید لانس نائیک تیمور جو آٹھ سال سے پاک فوج میں خدمات سرانجام دے رہے تھے کے پسماندگان میں ایک بیٹی اوربیوہ شامل ہیں جبکہ شہید سپاہی رمضان 20 سال کے کڑیل جوان تھے اورتین سال سے پاک فوج سے وابستہ تھے۔

پاک فوج جوان

  اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) ڈی جی ساؤتھ ایشیا و سارک ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خا ر جہ طلب کرکے لیپا اور بٹل سیکٹر پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے پاک فوج کے 3 جوانوں کی شہادت پر شدید احتجاج کیا۔دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ڈی جی ساؤتھ ایشیاو سارک ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفترخارجہ طلب کرکے بھارتی فوج کی جانب ایل او سی پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی اور بھارتی فوج کی فائرنگ سے پاک فوج کے جوانوں کی شہادت پر شدید احتجاج کیا۔بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو پاکستان کی جانب سے ایک مراسلہ بھی دیا گیا، جس میں بتایا گیا بھارتی افواج لائن آف کنٹرول پر تسلسل سے شہری آبادی کو بھاری اسلحہ سے نشانہ بنا رہی ہیں، جمعرات کے روز بھی بھارتی افواج نے ایل او سی کے لیپا اور بٹل سیکٹر پر بلا اشتعال فائرنگ کی، بھارتی فائرنگ سے پاک فوج کے 3 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔مراسلے میں تنبیہ کی گئی ہے بھارتی کی طرف سے 2017 سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں تیزی آئی ہے اور اس دوران بھارت کی جانب سے 1 ہزار 970 بار سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی، بھارت کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزی علاقائی امن و سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔پاکستان نے بھارت پر 2003 کی جنگ بندی مفاہمت کا احترام کرنے کا زور دیتے ہوئے کہا ہے بھارت اپنی افواج کو جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت کرے اور لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر بھارت امن برقرار رکھے، جبکہ بھارت اقوام متحدہ کے امن مشن کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کردار ادا کرنے دے۔دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی شدید مذمت کی ہے۔ ایک بیان میں وزیر اعظم عمران خان نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہید ہونیوالے پاک فوج کے جوانوں کے درجات کی بلندی کی دعا کی۔

بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر

مزید :

صفحہ اول -