پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم سیاہ، احتجاج ، ریلیاں ، کشمیریوں سے اظہاریکجہتی اقوام متحدہ میں انڈیا کو سفارتی شکست، تنازع کشمیریوں پر غور کیلئے سلامتی کونسل کا اجلاس آج ہو گا

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم سیاہ، احتجاج ، ریلیاں ، کشمیریوں سے ...

اسلام آباد،لاہور،کراچی،پشاور،کوئٹہ، مظفر آباد،برسلز،لندن( نمائندہ خصوصی ،بیورورپورٹس ، نمائندگان ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں )پاکستان اورآزاد کشمیر سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کےلئے بھارت کے یوم آزادی کے دن کو یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا ، سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کی عمارتوں پر قوم پرچم سر نگوں رہا اورسیاہ پرچم لہرائے گئے ،احتجاجی ریلیوں اور مظاہروں میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے پتلے نذر آتش کئے گئے ،کئی مقامات پر بھارتی وزیر اعظم کے پتلوں کو علامتی پھانسی دی گئی اور اس پر جوتے برسائے گئے جبکہ کراچی میں پتلے کو سمندرد برد کیا گیا ، شرکاءکشمیر یوں کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے لگاتے رہے ،لاہور میں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی قیادت میں گورنر ہاﺅس سے پنجاب اسمبلی تک ریلی نکالی گئی جس میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوںکے رہنماﺅں، کارکنوں ،سول سوسائٹی کے افراد نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی ،آل پاکستان انجمن تاجران کے راہنماﺅں کی قیادت میں تاجروں کی بڑی تعداد نے ریلی میں شرکت کی اور بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم چلانے کے اعلان کیا ،دنیا کے مختلف ممالک میں بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی اور بھارت کے خلاف یوم سیاہ منایا گیا او رمظاہرے کئے گئے ۔تفصیلات کے مطابق پاکستانی حکومت کی جانب سے سرکاری طو رپر اعلان کے بعد 15اگست کوبھارت کے یوم آزادی کے دن کو یوم سیاہ کے طو رپر منایاگیا اور کشمیریوں سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا گیا ۔ اس دن کی مناسبت سے سرکاری اور نیم سرکاری عمارتوں پر قوم پرچم سرنگوں رہا جبکہ مختلف مقامات پر سیاہ پرچم لہرائے گئے ،ریلیوں اور مظاہروں کے شرکاءنے بھی بازﺅں پر سیاہ پٹیاں باندھیں ،شاہراہوں اور بازاروں میں سبز ہلالی پرچم کے ساتھ کشمیر کے پرچم بھی لہرائے گئے ۔ ریلیوں اور مظاہروںمیں شرکت کرنے والو ں کی بڑی تعداد نے بھارت کے خلاف یوم سیاہ کی مناسبت سے سیاہ لباس زیب تن کئے ۔ ملک بھر کے سینکڑوںمقامات پر بھارتی وزیر اعظم نریند ر مودی کے پتلے نذر آتش کئے گئے ،علامتی پھانسیاں دی گئیں او ران پر جوتے برسائے گئے ۔ شرکاءنے ہاتھوں میں پلے کارڈ ز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیریوں کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے درج تھے۔ لاہورمیں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں ، سول سوسائٹی کے افراد اور تاجروں کی کثیر تعداد نے مال روڈ پر نکالی گئی ریلی میں شرکت کی ۔ تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی او ررہنماﺅں کی قیادت میں کارکنوں کے قافلے ریلی میں شرکت کے لئے مال روڈ پہنچے ۔ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے اوربھارت کے یوم آزادی کے دن کو یوم سیاہ طور پر منانے کے لئے ریلی گورنر پنجاب چوہدری سرور، وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی قیادت میں گورنر ہاﺅس سے روانہ ہوئے جو حتمی مقام پنجاب اسمبلی تک پہنچی ۔ریلی کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا کہ اہل لاہورنے ثابت کر دیا ہے کہ پوری پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ ہے ۔ اس ریلی میں حریت رہنما یاسین ملک کی ننھی سی بیٹی بھی موجود ہے جو اپنے باپ سے نہیں مل سکی۔ کشمیری قائدین پر جتنا ظلم بڑھایا گیا ان کا جذبہ اتنا پروان چڑھا ہے۔ اس موقع پر گورنر پنجاب نے نریندر مودی جواب دو خون کا حساب دو اور کشمیربنے گا پاکستان کے نعرے بھی لگوائے ۔ گورنر پنجاب نے کہاکہ نریندر مودی جب گجرات کا وزیر اعلیٰ تھا تو اس نے مسلمانوں کا قتل عام کیا ،آج بھارت کا وزیر اعظم بن کر کشمیریوں کاقتل عام کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ 2002ءمیں جب میں برطانوی پارلیمنٹ کا ممبر تھا تو اس وقت نریندر مودی نے برطانیہ آنے کا اعلان کیا تھا جس پر میں نے برملا مخالفت کرتے ہوئے کہا تھاکہ مودی گجرات کا قصاب ہے اسے برطانیہ کا ویزا نہیں ملنا چاہیے جس پر برطانیہ نے اسے ویزا دینے سے انکا رکر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 70سال سے کشمیری کی بیٹیاں ،بیٹے، بہنیں اورمائیں اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہی ہیں او ران پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں لیکن اس کے باوجو بھارت کی افواج کشمیریوں کے جذبہ آزادی کوختم نہیں کر سکیں ۔ انہوںنے کہا کہ نریندر مودی کے اقدامات کی وجہ سے بھارت میں بسنے والی اقلتیں خود کو محفوظ نہیں سمجھتیں،بھارت میں اقلیتوںپر جب بھی ظلم ہوگا پاکستان کے 20کروڑ عوام ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے ۔ انہوںنے کہاکہ نریندر مودی دیکھ لو آج پوری دنیا میں تمہارے خلاف یوم سیاہ منایا جارہا ہے ۔ لاہو رمیں پاکستان کی سب سے بڑی ریلی نکلی ہے جس پر میں اہل لاہور کو خراج تحسین پیش کرتاہوں ۔ ہم نریندر مودی کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ تمہار اظلم اور بربریت کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں کر سکتے ۔ پاکستان کی مسلح افواج اور 20کروڑ عوام اس وقت تک کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیںجب تک وہ آزادی کی جنگ جیت نہیں لیتے۔مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بھی کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے جلسہ کیا گیا جبکہ حریت کانفرنس کی جانب سے بھارتی ہائی کمیشن کی جانب احتجاجی مظاہر ہ کیا گیا ۔کراچی میں بھی پاکستان تحریک انصاف نے ریلی نکالی جس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے پتلے کو سمندر برد کیا گیا۔ یوم سیاہ پر پی ٹی آئی کی جانب سے کراچی پریس کلب پر مظاہرہ کیا گیا، پریس کلب کے باہر مودی کے پتلے کو پھانسی دی گئی، مظاہرے میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کےلئے زبردست نعرے بازی کی گئی۔حیدر آباد،کشمور او ردیگر علاقوں میںبھی ریلیاںنکالی گئیں ۔فیصل آباد میں بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا ،کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے کاروباری مراکز بند رہے اور ریلیاں نکالی گئیں جس میں سیاسی و مذہبی جماعتوں،تاجروں، اور سول سوسائٹی کے افراد کی کثیر تعدادنے شرکت کی ،خوشاب میں بھی بھارتی یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا ، جوہرآباد میں بھی بھارت کے مظالم کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی،ریلی میں مختلف سکولوں کے بچوں اور شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی، ریلی میں پاک فوج زندہ باد کے نعروں سے گونجتے رہے،ریلی فوارہ چوک سے شروع ہو کر کالج چوک جوہرآباد پر اختتام پذیر ہوئی۔ننکانہ صاحب میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے نکالی گئی ،ریلی میں سکھ اور کرسچن کمیونٹی کے افراد بھی شریک ہوئے، ٹوبہ ٹیک سنگھ، راجن پور اور دیگر شہروں میں بھی ریلیاں نکالی گئیں جن میں سیاسی شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔شیخوپورہ، شرقپو ر شریف ، رائے ونڈ، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، لیہ، مظفرگڑھ، نارروال، نارنگ منڈی، ساہیوال، چیچہ وطنی، شورکوٹ سمیت پنجاب کے مختلف مقامات پر ریلیاں نکالی گئیںاو رمظاہرے کئے گئے جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ ڈیرہ بگٹی میں بھی ریلی نکالی گئی جس میں ایم این اے گہرام بگٹی اور قبائلی عمائدین شریک ہوئے۔بلوچستان کے ضلع جیکب آباد میں ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کشمیریوں سے یکجہتی کیلئے یوم سیاہ منایا گیا، جس میں شہریوں کی بڑی تعدا نے شرکت کی اور کشمیر بنے گا پاکستان اور گو انڈیا گو بیک کے نعرے لگائے، ریلی کے شرکا ءنے بازﺅں پر سیاہ پٹیاں باندھی ہوئیں تھیں۔پاکستان کے ساتھ دنیا بھر میں بھی احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں،۔یورپی یونین کے ملک بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں بھی بھارتی سفارتخانے کے سامنے کشمیر پر بھارت کے ظالمانہ رویے اور کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے کا اہتمام کشمیری کمیونٹی نے دیگرتنظیموں کے تعاون سے کیا گیا۔مظاہرے میں کشمیریوں اور پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرے میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی بڑی تعداد بھی شریک ہوئی۔ کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنےا بھر مےں مقےم کشمےریوں نے بھارت کا ےوم آزادی ےوم سےاہ کے طور پر منایا جس کا مقصد عالمی برادری کو ےہ پےغام دینا ہے کہ وہ بھارت کے جموںوکشمیر پر غیر قانونی قبضے کو تسلیم نہیں کرتے ۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطا بق یوم سیاہ منانے کا مقصد مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے بھارت کے یکطرفہ اقدام کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانا ہے ۔ قابض انتظامیہ نے مسلسل گیارہویں دن بھی لوگوں کو بھارت مخالف مظاہروں سے روکنے کیلئے پوری وادی کشمیرمیں سخت کرفیو اوردیگر پابندیوںکا سلسلہ جاری رکھا ۔قابض انتظامیہ نے مقبوضہ وادی کشمیرخاص طور پر سرینگر میں جگہ جگہ بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کر کے اسے مکمل طور پر ایک فوجی چھاﺅنی اور حراستی مرکز میں تبدیل کر دیا ۔اس کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں بھارتی یوم آزادی پر کوئی تقریب منعقد نہ کی جا سکی دنیا بھر کی طرح نیوزی میں بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کےلئے ولنگٹن میں بھارتی سفارتخانے کے باہر، آکلینڈ اوروائیکاٹو سمیت دوسرے شہروں میں بھارت مخالف زبردست احتجاجی مظاہرے کئے گئے جس میں نیوزی لینڈ میں رہنے وا لے پاکستانیوں کے علاوہ کشمیریوں اور مقامی لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کےلئے آکلینڈ کے اوٹیا سکوائرپر کشمیر ایسوسی ایشن اور پاکستان ایسوسی ایشن آف پاکستان کے زیر اہتمام ایک احتجاجی پروگرام منعقد کیا گیا جس میں شرکاءنے مختلف بینرز اٹھارکھے تھے جن پر بھارت مخالف اور کشمیریوں سے یکجہتی کے نعرے درج تھے ۔

یوم سیاہ

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک آئی این پی )بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج و مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ،اس حوالے سے ہزاروں افراد نے لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر احتجاج و مظاہرہ کیا۔اس دوران متعدد مظاہرین ہاتھوں میں پاکستانی اور کشمیر پرچم تھامے ہوئے تھے جبکہ کئی افراد نے پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے جس پر کشمیر کے حق میں نعرے درج تھے۔بھارت مخالف نعرے لگاتے ہوئے کہا کہ انڈیا کشمیر میں مظالم بند کرے اور کشمیر کو آزاد کرے،مظاہرین نے اس موقع پر بینرز ، کتبے اورپلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر انڈیا کشمیر سے نکل جاﺅ، کشمیر بنے گا پاکستان اور لے کر رہیں گے آزادی جیسے نعرے درج تھے۔ اس موقع پر امن و امان برقرار رکھنے کےلئے پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات تھی۔مظاہرین میں سکھوں کے علاوہ ترکی اور دوسرے ممالک کے شہریوں نے بھی شرکت کی۔ دنیا بھر کے میڈیا نے مظاہرے کو بھرپور کوریج دی، محتاط اندازے کے مطابق مظاہرین کی تعداد 15ہزار سے زائد تھی، مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ اقوام متحدہ کشمیریوں کی نسل کشی کا سختی سے نوٹس لے، مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کی وجہ سے بیمار علاج معالجہ کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے دم توڑ رہے ہیں جبکہ بھوک اور اشیائے خوردونوش کی قلت کی وجہ سے اموات بھی ہورہی ہیں، انہوں نے اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا جلد نوٹس لیا جائے اور کشمیر کی سابقہ پوزیشن کو بحال کیا جائے۔مشتعل مظاہرین نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا پتلا نذر آتش ‘ بھارتی ترنگا کو پاﺅں تلے روندنے کے بعد نذر آتش کر دیا گیا۔ مظاہرے میں معروف کشمیری رہنما اور برطانوی پارلیمنٹ کے تاحیات رکن پارلیمنٹ لارڈ نذیر نے بھی شرکت کی۔۔برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق لندن میں احتجاج کرنے والے مظاہرین نے 'کشمیر جل رہا ہے'، 'فری کشمیر' اور 'مودی: چائے کو جنگ نہیں بنا' کے نعروں کے بینرز اٹھا رکھے تھے۔مظاہرے کے لیے طے شدہ مقامی وقت 1 بجے سے قبل ہی سینکڑوں افراد ہائی کمیشن کے دائیں طرف پہلے سے جمع ہوئے اور لندن میں پاکستان کے حامیوں نے بھارتی اقدام کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ یہی نہیں بلکہ مقامی کشمیر کونسلز کے کارکنان اور اسپیکرز نے بھی احتجاج میں حصہ لیا اور مطالبہ کیا کہ بھارت، کشمیر میں اپنا قبضہ ختم کرے۔علاوہ ازیں سکھ برادری کے بھی افراد نے خالصتان کے بینرز تھامے اس مظاہرے میں پاکستان کے ساتھ حمایت کا اظہار کیا۔بھارتی ہائی کمیشن کے باہر احتجاج کے دوران پولیس الرٹ نظر آئی کیونکہ مرکزی مظاہرے کے دوسری طرف کچھ بھارت کے حامی اپنے ملک کے حق میں نعرے بازی کرتے نظر آئے۔تاہم اس موقع پر برطانوی پارلیمنٹ کے سابق رکن جیورج گیلووے نے مظاہرین سے خطاب میں کہا کہ 'مودی دنیا کو جنگ(جوہری جنگ) کے دہانے پر لے گئے ہیں اور دنیا بھر کے لوگوں کی سیکیورٹی اور تحفظ کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

لندن مظاہرہ

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک ،این این آئی)عالمی سطح پر بھارت کو بڑی سفارتی کا شکست کرنا پڑا اور کشمیر پر بھارتی قبضے کا معاملہ دوبارہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک پہنچ گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق بھارت کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 ختم کیے جانے اور مقبوضہ وادی میں کرفیو کے بعد پیدا ہونے کشیدہ صورت حال پر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کےلئے خط لکھا تھا۔اب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال پر اجلاس آج جمعہ کو طلب کر لیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر جوانا رونیکا نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں بند دروازے کے پیچھے 16 اگست کو زیر بحث آئے گا۔بھارت نے سلامتی کونسل کا اجلاس بلائے جانے سے روکنے کےلئے ہر ممکن کوشش کی مگر ناکام رہا۔دریں اثنا پرانے دوست روس نے بھی بھارت کا ساتھ چھوڑ دیا، روس نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کشمیر کی مخالفت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔روسی نائب مندوب دمیتری پولیانسکی نے نیویارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ روس کشمیر سے متعلق سلامتی کونسل کے اجلاس کی مخالفت نہیں کرے گا، میٹنگ سے پہلے آپس میں بات چیت بھی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے سب سے رابطے بھی جاری ہے۔دوسری طرفآزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے مقبوضہ کشمےر کی صورتحال کا جائزہ لےنے کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کا خےر مقدم کرتے ہوئے سلامتی کونسل پر زور دےا کہ وہ فوری طور پر بھارت پر دباﺅ ڈال کر مقبوضہ کشمےر مےں قتل عام بند کرائے، مقبوضہ وادی مےںمحصور آبادی تک خوراک اور زندگی بچانے والی ادوےات کی فراہمی کے لئے راہداری کھولے اور کشمےر کے حوالے سے اپنی منظور کردہ قراردادوں کو عملدرآمد کو ےقےنی بنائے تاکہ جنوبی اےشےا ءمےں جنگ کے منڈلاتے خطرات کو کم کےا جاسکے ۔ اےوان صدر مظفرآباد مےں پاکستان بھر سے آئے ٹےلی وےژن اےنکرز اور پاکستان مےڈےا کلب کے 25رکنی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے صدر آزاد کشمےر نے کہا کہ جنگ کو روکنا ، امن کے قےا م کو ےقےنی بنانا اور انسانی مصائب کا سبب بننے والے تنازعات کو حل کرنا سلامتی کونسل کی بنےادی ذمہ داری ہے اور ہمےں توقع ہے کہ سلامتی کونسل مستقل کے ارکان اپنی ےہ ذمہ داری پوری کرےں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سات دہائےوں سے مقبوضہ جموںو کشمےر مےں اےک جارح ملک کی حےثےت سے قابض ہے بلکہ اب اس نے بغےر کسی مےنڈےٹ کے مقبوضہ رےاست کو دو حصوں مےں ٹکڑے کر کے اسے اےک نو آبادی مےں تبدےل کر دےا ہے ۔ بھارت کا ےہ اقدام سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کے علاوہ جنےوا کنونشن اور دوسرے بےن الاقوامی قوانےن کی بھی خلاف ورزی ہے۔ انہو ں نے کہااقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اقوام متحدہ کے چارٹرز کے باب ششم کے تحت کشمےر پر اپنی قراردادےں منظور کی جن پر عملدرآمد نہ ہونے کے بعد اب ضروری ہوگےا ہے کہ سلامتی کونسل چارٹرز کے باب ہفتم کے تحت اس تنازعہ کو حل کرنے کے لئے نئے اقدامات کئے جائےں۔ انہوںنے کہا کہ سلامتی کونسل کے ممبران کو اس بات کا ادراک کرنا ہو گا کہ پاکستان اور بھارت کے درمےان کشےدگی کا سبب جموں وکشمےر کا تنازعہ ہے اس لئے جب تک اس کلےدی مسئلہ کو حل نہےں کےا جاتا ہے جنوبی اےشےاءمےں پائےدار امن کبھی قائم نہےں ہوسکتا ۔

سلامتی کونسل اجلاس

مزید : صفحہ اول