آرٹیکل370 کے باعث کشمیر میں علیحدگی پسند تحریک کو ہوا ملی،مودی

    آرٹیکل370 کے باعث کشمیر میں علیحدگی پسند تحریک کو ہوا ملی،مودی

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھارتی" یوم آزادی "کے موقع پر لال قلعے میں سرکاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت میں تبدیلی سے متعلق متنازعہ فیصلے کا دفاع کیا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اگست میں اعلان کیا تھا کہ وہ کشمیر کو دستوری طور پر حاصل خصوصی حیثیت کا خاتمہ کر کے اسے بھارت میں ضم کر رہی ہے۔اس معاملے پر بعد دستوری تبدیلی کرتے ہوئے کشمیر کو یہ خصوصی حیثیت دینے والی دستوری شق 370تبدیل کر دی گئی تھی۔انہوں نے کانگریس کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 370 کو ختم کرنے پر کانگریس کو تنقید کرنے کا کوئی حق نہیں اگر ایسا ہی ہے تو اس نے اپنے دورہ اقتدار میں370 کو آئین کا مستقل حصہ کیوں نہیں بنایا، مودی نے کہا کہ ماضی میں کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت نے وہاں علیحدگی پسندی کی تحریک کو ہوا دی اور خواتین کے لیے ناانصافی کا سبب بنی۔ مودی نے کہا کہ اس شق کی وجہ سے کسی کشمیری خاتون کو کسی غیرکشمیری سے شادی پر اپنے بنیادی حقوق سے ہاتھ دھونا پڑتے تھے۔ جموں، کشمیر اور لداخ کے حوالے سے سابقہ طریقہ ہائے کار نے وہاں بدعنوانی اور اقربا پروری میں اضافہ کیا اور خواتین، بچوں، دلت اور قبائلی برادریوں کے لیے اس طریقہ کار نے ناانصافی کے دروازے کھولے۔بھارت کی جانب سے دفعہ 370میں تبدیلی کے بعد اب کوئی بھی بھارتی شہری کشمیر میں جائیداد کی خرید وفروخت کر سکتا ہے اور مستقل سکونت بھی اختیار کر سکتا ہے جو اس سے قبل ممکن نہیں تھا۔

مودی

مزید :

صفحہ اول -