مقبوضہ وادی میں پلوامہ سے بڑے سانحہ کا بھارتی پلان بے نقاب

مقبوضہ وادی میں پلوامہ سے بڑے سانحہ کا بھارتی پلان بے نقاب

  

نئی دہلی ،لندن (آئی این پی) ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے پلوامہ سے بھی بڑے سانحہ رونما کرانے ، اس کا الزام پاکستان اور تحریک آزادی کی تنظیموں پر عائد کرنے سمیت کشمیریوں کے قتل عام کیلئے گرینڈ آپریشن کا انکشاف کر تے ہوئے کہا ہے کہ اس ضمن میں ہندو دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کو فوجی وردیاں پہنا کر تعینات کر دیا گیا ہے جبکہ آئندہ 36گھنٹے انتہائی اہم ہیں،ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نمائندے کے مطابق اِس بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے باقاعدہ رپورٹ یو این کو ارسال کردی جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بھی آگاہ کردیا گیا۔دوسری طرف بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 12ویں روز بھی کرفیو نافذ رہا، اشیاءخوردونوش کی شدید قلت ، پینے کا پانی بھی بند، مسا جد کو تالے لگے رہے، تفصیلات کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نمائندے نے بھارت کی طرف سے گھناﺅنے و مذموم عزائم پر مبنی منصوبے کو بے نقاب کرتے ہوئے بتایاہندوستان آ ئندہ 36گھنٹوں میں پلوامہ سے بھی بڑے سانحہ کی تیاری کررہا ہے،جس کا الزام پاکستان اور تحریک آزادی کی تنظیموں پر ڈالا جائےگا،جس کے بعد کشمیریوں کےخلاف ایک بڑا آپریشن کرکے قتل کیا جائے گا ، ایک رپو رٹ کے مطا بق تمام تر پلان کو سرانجام دینے کےلئے سربراہ بھارتی خفیہ ا یجنسی ”را“ سمیت فوج کے اعلیٰ آفیسرز بھی میٹنگ میں شریک تھے،میٹنگ میں گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام جبکہ بابر ی مسجد کو شہید کرنےوالے آر ایس ایس کے دہشت گرد بھی میٹنگ میں شریک ہوئے ، میٹنگ میں یہ پلان طے کیا گیا کہ مقبوضہ وادی میں فوجی چھاﺅنی ، پولیس ٹریننگ سنٹر سمیت سرکاری املاک کو نشانہ بنایا جائے گا جو سانحہ پلوامہ سے بڑا ہوگا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نمائندے کے مطابق اِس بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے باقاعدہ رپورٹ یو این کو ارسال کردی جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بھی آگاہ کردیا گیا۔دریں اثنائانسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ بھارت نے کشمیریوں سے پوچھے بغیر خصوصی حیثیت ختم کی ، بھارت کے یوم آزادی پر مقبوضہ وادی میں5اگست سے بلیک آ ﺅٹ ہے،تفصیلات کے مطابق انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا بھارت کا یوم آزادی ہے اور مقبوضہ وادی میں5اگست سے بلیک آﺅٹ ہے، بھارت نے کشمیریوں سے پوچھے بغیر خصوصی حیثیت ختم کی،ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ مقبوضہ وادی میں لاک ڈاﺅن ہے،لوگ رائے کااظہارنہیں کرسکتے، مقبوضہ کشمیرمیں سیاسی رہنما اور کارکن قید ہیں، مقبوضہ جموں کشمیرکے عوام کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔

یمنسٹی انٹرنیشنل

سرینگر(این این آئی)معروف بین الاقوامی نیوز آرگنائزیشن ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی ) کا کہنا ہے مقبوضہ کشمیرکے گرمائی دارالحکومت سرینگر میں بڑی تعداد میں جگہ جگہ خار دار تاریں لگا کر رکاوٹیں قائم ، ڈرونز اور ہیلی کاپٹر فضا میں گشت کر رہے ہیں ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطا بق اے پی کی رپورٹ میں کہاگیا ہے جدید اور خودکار ہتھیاروں سے لیس بھارتی فوجیوںکی بڑی تعداد سرینگر میں قائم چوکیوں پر تعینات ہے ، وادی کشمیر کے 40لاکھ رہائشی رواں ماہ کے آغاز سے جب بھارتی حکومت نے اچانک دفعہ 370کی منسوخی کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کر دی تھی کے بعد سے مسلسل اپنے گھروں میں محصور ہیں، شہریوںکاکہنا ہے انہوںنے اس کی طرح کی پابندیاں پہلے کبھی نہیں دیکھیں۔ شہر کی سڑکوں پر کھڑی کی جانیوالی رکاوٹوں اور چوکیوں سے گزرنے کے راستے تبدیل ہوتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے وہ تیزی سے تبدیل ہوتے راستوں کو یاد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ سرینگر کے ایک رہائشی ضمیر احمد کاکہنا ہے کشمیریوںکی آواز کو دبانے کیلئے پورے سرینگر شہر میں خار دار تاریںبچھا دی گئی ہیں۔ وادی کشمیر جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں 5اگست کے بعد سے مسلسل سخت کرفیو اور پابندیاں نافذ ،ٹیلی فون اور انٹرنیٹ نیٹ سروس معطل ہیںاور ذرائع مواصلات پر سخت قدغن عائد ہے جبکہ ہزاروں اضافی فوجیوںکو مقبوضہ علاقے میں تعینات کردیا گیا ہے جو پہلے ہی دنیاکا واحد علاقہ ہے جہاں بڑی تعداد میں قابض فوجی تعینات ہیں ۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے سرینگر میں لوگوںکو اکٹھا ہونے سے روکنے کیلئے خار دار تاریں اور رکاوٹیں کھڑی کر کے علاقوں کو تقسیم کردیا گیا ہے ۔ بعض شاہراہوں کو فوجی گاڑیوں یا بڑی بسوں کو کھڑا کر کے بند کردیا گیا ہے اورتیزی سے تبدیل ہوتی صورتحال میں کسی خاص مقام تک جانے اور پھر واپس آنے کیلئے مختلف راستے مختص کئے گئے ہیں ۔ سرینگر کے علاقے ڈاﺅن ٹاﺅن کے رہائشی بشیر احمد نے میڈیا کو بتایا بھارتی فورسز نے انہیں اپنے ہی شہر میں انجان بنادیا ہے ۔ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کی صائبہ ورما جو میڈیکل انتھروپولوجی میں تحقیق کیلئے سرینگر میں مقیم ہیں نے بتایا فورسز کی اس مشق کا مقصد لوگوںکی نقل و حرکت کو منظم اور کنٹرول کرنا ہے، یہ لوگوں کو یہ بتانے کیلئے کہ وہ اپنی مرضی کے مالک نہیں ہیںایک نفسیاتی حربہ ہے۔ اے پی نے اپنی رپورٹ میں مزید کہاکہ انتظامیہ نے چوکیوں یا ناکہ بندی کے بارے میںکسی قسم کی تفصیلات دینے سے انکار کر دیا ہے ۔ ان کا دعویٰ ہے صورتحال معمول پر واپس آرہی ہے کیونکہ کرفیو اور پابندیوں کے آغاز کے بعد سے اب تک کسی کے جاںبحق یا زخمی ہونے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ،تاہم رپورٹ میں کہاگیا ہے نقل و حرکت اور مواصلاتی قدغن کے باعث انتظامیہ کے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی ۔

اے پی رپورٹ

مزید :

صفحہ اول -