سلامتی کونسل کے مستقل ارکان بند کمرہ اجلاس میں کشمیر کی صورتحال پر غور کرینگے

  سلامتی کونسل کے مستقل ارکان بند کمرہ اجلاس میں کشمیر کی صورتحال پر غور ...

نیو یارک (مانیٹرنگ ڈیسکّ )مقبوضہ کشمیر کی صورتِحال کا جائزہ لینے کےلئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس آج منعقد ہو رہا ہے۔ یہ اجلاس نیویارک میں واقع اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ہوگا۔ پاکستان کے وزیرِخارجہ شاہ محمود قریشی نے منگل کو سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک تازہ خط لکھا تھا جس میں انھوں نے استدعا کی تھی کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں انڈین حکومت کے جارحانہ اقدامات پر نظر ڈالی جائے۔ پاکستان اس سے پہلے بھی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو اسی موضوع پر دو خط لکھ چکا ہے۔ سکیورٹی کونسل میں مسئلہ کشمیر پر 1998 کے بعد پہلی بار بات چیت ہوگی جبکہ مسئلہ کشمیر پر غور کیلئے 50سال میں پہلی بار سلامتی کونل کا اجلاس بلایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے جوہری تجربوں کے بعد اقوامِ متحدہ کی قرارداد 1172 پر بحث ہوئی تھی۔فراسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سلامتی کونسل کا اجلاس پاکستانی وقت کے مطابق شام سات بجے ہو گا اور سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ارکان بند کمرہ اجلاس مین اس پر غور کریں گے۔سکیورٹی کونسل کا اجلاس کس طرح منعقد ہوتا ہے اور اس میں صورتحال کو کیسے زیر بحث لایا جاتا ہے اس پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفارتکاورں نے بی بی سی سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔۔سابق سفارتکار شمشاد احمد خان کہتے ہیں کہ کونسل کے ’پانچ بڑے‘ پہلے بند کمرے میں اکٹھے ہونگے اور صلاح مشورہ کریں گے کہ اس معاملے میں آگے کیسے بڑھنا ہے۔’پہلے نتیجے پر بات ہوگی پھر بحث ہوگی۔ خفیہ طور پر پانچ ممالک مل کر صلاح مشورہ کرتے ہیں کہ نتیجہ کیا نکالنا ہے۔ اسی وجہ سے ہی اسے پانچ بڑی طاقتوں کی اجارہ داری کہا جاتا ہے۔‘اس اجلاس کے بعد بھی کونسل کے صدر کی طرف سے کوئی بیان سامنے آسکتا ہے جس میں دونوں ممالک کو کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس صورتحال میں تحمل کا مظاہر کرتے ہوئے مذاکرات کریں اور کشمیر پر سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں کوئی حل تلاش کرنے کی کوشش کریں۔’اگر اوپن ڈیبیٹ ہوتی ہے تو پھر قرارداد پر بحث شروع ہوگی جس میں اقوام متحدہ کے تمام 192 ممالک بھی حصہ لینے کے اہل ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں اجلاس ہفتہ کیا 20 دن تک بھی جاری رکھا جا سکتا ہے۔‘اقوامِ متحدہ کے پانچ رکنی کمیشن نے 1949 میں استصوابِ رائے کی شرط رکھ کر انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے کیا تھا۔ کمیشن میں کولمبیا، چیکوسلواکیا، برما، آرجنٹینا اور بیلجیئم کے سفیر شامل تھے تسنیم اسلم کے مطابق کونسل ابھی ’آو¿ٹ کم‘ پر بھی بات کرے گی۔ اور یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ کونسل کے سامنے قرارداد کس شق کے تحت لائی جائے۔‘جنگی صورتحال کے خطرات کا تواتر سے جائزہ لینے کے لیے کونسل کوئی کمیشن بھی تشکیل دے سکتی ہے۔ اس سے قبل بھی جب مسئلہ کشمر پر دونوں ممالک کے درمیان جنگی خطرات بڑھ گئے تھے تو کونسل نے انڈیا پاکستان کمیشن بنا دیا تھا۔ بین الاقوامی مسئلے کے طور پر کشمیر کی صورتحال پر سلامتی کونسل غور کرتی رہتی ہے۔ لیکن ایکشن وہیں ہوتا ہے جہاں ایکشن لینا ہوتا ہے۔شمشاد احمد خان کا کہنا ہہے کہ جب مہاراجہ کے دستخط سے انڈیا کے ساتھ الحاق سے متعلق (مبینہ طور پر) جعلی معاہدہ سامنے آیا تو کشمیر کی عوام بالکل اسی طرح اٹھ کھڑی ہوئی جس طرح اب احتجاج کر رہے ہیں۔ انڈیا نے صورتحال کا فائدہ اٹھا کر اپنی فوجیں کشمیر میں اتار دیں اور پھر پاکستان اور انڈیا کے درمیان باقاعدہ جنگ چِھڑ گئی۔اس وقت کے انڈین وزیر اعظم جواہر لعل نہرو اس معاملے کو سلامتی کونسل کے سامنے لے کر گئے۔ کونسل نے سب سے پہلے دونوں ممالک کو سیز فائر کا حکم دیتے ہوئے کشمیر سے فوجیں نکالنے کا کہا۔اس کے بعد چار سال تک استصوب رائے سے متعلق قراردادوں پر سلامتی کونسل میں بحث جاری رہی کہ کیسے اور کس طرح رائے شماری کرائی جائے۔تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کی مداخلت کے بعد انڈیا نے سری نگر سے فوجیں ہٹا دیں تھیں اور اب بھی کونسل اس قسم کا حکم دے سکتی ہے۔شمشاد احمد خان کے مطابق انڈیا نے وعدے کے باوجود مکمل طور پر فوجیں نہیں ہٹائیں تھیں جس کی وجہ سے پاکستان نے اپنے زیر انتظام کشمیر میں بھی فوج کو رکھا۔’انڈیا بعد میں استصواب رائے کے وعدے سے بھی مکر گیا۔‘شمشاد احمد خان کے مطابق سلامتی کونسل کے پانچ رکن ممالک خود ایجنڈا تشکیل دیتے ہیں جسے کونسل کا صدر یو این کے تمام اراکین میں تقسیم کردیتا ہے۔ رکن ممالک اپنی تجاویز دیتے ہیں لیکن ہوتا پھر وہی ہے جو کونسل چاہتی ہے۔قرارداد پاس کرنے کا طریقہ کار بہت ہی پیچیدہ ہے۔ پہلے ڈرافٹ کی تیاری کچھ اس طریقے سے عمل میں لائی جاتی ہے کہ وہ سب کو قابل قبول بھی ہو۔کونسل میں قرارداد پیش ہونے کے بعد ووٹنگ کا مرحلہ آتا ہے جس میں پانچ مستقل رکن ممالک کے علاوہ دس غیر مستقل رکن ممالک بھی حصہ لیتے ہیں۔غیر مستقل رکن ممالک بھی قرارداد پر اپنی تجاویز دیتے ہیں لیکن اس کے بعد بھی ہوتا وہی ہے جو کونسل کے مستقل ارکان کی مرضی ہوتی ہے۔جب یہ ممالک ایک حل پر پہنچ جاتے ہیں تو پھر ہی کوئی نتیجہ نکلتا ہے لیکن اگر ایک رکن بھی متفق نہ ہو تو قرارداد ویٹو ہوجاتی ہے۔تسنیم اسلم کہتی ہیں کہ سلامتی کونسل نے کشمیر پر اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے دونوں ممالک میں اپنے نمائندے بھی بھیج دیے تھے۔ ’یہ نمائندے اپنی رپورٹ کونسل کو بھیجتے رہتے ہیں۔ ہر سال کونسل ان قراردادوں پربغیر بحث کے رنیو کرتی رہتی ہے۔‘شمشاد احمد خان عملدرآمد کے پہلو پر سلامتی کونسل کو محض ایک ’ڈبیٹنگ کلب‘ ہی سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ادارہ اب ایک رسمی کارروائی کے علاوہ کچھ نہیں اور انسانی حقوق پر بھی اب ملکی مفاد کو ترجیح دی جاتی ہے۔’جب اقوام متحدہ بنی تھی اسے دنیا میں انسانیت کی بہترین امید کہا جاتا تھا لیکن اب یہ آخری بد ترین سے بھی بد ترین امید کہلائی جا سکتی ہے۔‘ان کا کہنا ہے کہ اس وقت اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے سامنے سینکڑوں قراردادیں پڑی ہیں لیکن نتیجہ صفر ہے۔ ’کشمیر پر بھی قراردادیں یو این آرکائیو کا حصہ ہیں۔‘تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ انڈیا نے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے بجائے انکار کیا تو بھی اس کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکے۔’انڈیا نے 5 اگست کو سلامتی کونسل کے قراردادوں کو رد کر کے کشمیر کا جغرافیہ تبدیل کردیا لیکن ابھی تک کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی ہے باوجود اس کے کہ آج تک کشمیر سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہے۔‘

سلامتی کونسل

مزید : صفحہ اول