مقبوضہ کشمیر کے عوام کو اپنا فیصلہ خود کرنے کا حق حاصل ہے،ایمل ولی خان

مقبوضہ کشمیر کے عوام کو اپنا فیصلہ خود کرنے کا حق حاصل ہے،ایمل ولی خان

  

صوابی(بیورورپورٹ)عوامی نیشنل پارٹی صوبہ خیبر پختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے واضح کر دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں شامل کرنے کے فیصلے کا حق انڈیا پاکستان امریکہ چین اور سعودی عرب کو حاصل نہیں بلکہ اس فیصلے کا حق صرف اور صرف کشمیر کے عوام کو حاصل ہے۔ اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف افغانستان کے امن کو کشمیر سے مشروط نہ کریں ان خیالات کااظہار انہوں نے ولی باغ چارسدہ میں اے این پی ضلع صوابی کے صدر حاجی آمان اللہ خان(بقیہ نمبر16صفحہ12پر)

 کی قیادت میں پارٹی کے ایک بڑے وفد سے خطاب کر تے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکہ نے آکر وہاں اپنا جھنڈا لگایا اسی طرح دیگر قوتوں نے بھی افغانستان میں بے جا مداخلت کر کے وہاں لاکھوں مسلمانوں کو شہید کر دیئے مگر یہ قوتیں اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکی اسی طرح اب امریکہ بھی ناکامی کے بعد افغانستان سے نکل رہا ہے انہوں نے کہا کہ کشمیر کی آزادی میں پختونوں نے ایک تاریخی کر دار ادا کیا ہم کشمیریوں پر کسی بھی صورت ظلم و بر بریت برداشت نہیں کرینگے۔انہوں نے کہا کہ 14اگست کو پاکستان کے عوام آزادی منا رہے ہیں جب کہ 12اگست کو بابڑہ چارسدہ کے مقام پر قیوم خان نے آزادی اور حقوق کے لئے نکلنے والے خدائی خدمتگاروں پر فورسز کے ذریعے اندھا دھند فائرنگ کر کے چھ سو سے زائد خدائی خدمتگاروں کو شہید اور اسی طرح سینکڑوں کو زخمی کر دیا تھا جب کہ شہداء کے خاندانوں پر جرمانے بھی لگائے گئے ہسپتالوں میں زخمیوں کی علاج معالجے کے لئے ڈاکٹروں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ بارہ اگست 1948کا دن پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا جس طرح کر بلا کا میدان اسلامی تاریخ کا سخت ترین دن تھا اسی طرح بارہ اگست کا دن بھی پختونوں کے لئے ایک سیاہ دن تھا۔انہوں نے کہا کہ بابڑہ کے سینکڑوں شہداء کی لاشوں کو دریا میں پھینک دیئے گئے ان کے گھروں کو جلا دیئے گئے لیکن اس کے باووجود ان خدائی خدمتگاروں نے اپنا جھنڈا ہاتھ سے گرنے نہیں دیا اور غیرت کا مظاہرہ کر کے شہادت کو ترجیح دی اسی طرح ظلم پر ظلم یہ ہوا کہ جب خدائی خدمتگاروں پر فائرنگ روکنے کے لئے خواتین اپنے بچوں اور قر آن پاک ساتھ لے کر میدان میں نکل آئے اور فورسز کو قر آن اور بچوں کا واسطہ دیا تو خدائی خدمتگاروں پر فائرنگ کر کے قتل نہ کیا جائے جس پر فورسز نے ان خواتین پر بھی فائرنگ شروع کر دی انہوں نے کہا کہ اے این پی نے ہمیشہ شہداء کے نظرانے پیش کئے باچا خان بابا نے اس موقع پر صبر و تحمل سے کام لیا اور عدم تشدد فلسفے کو ترجیح دے کر اپنی اراضی کو فروخت کر کے شہداء کے خاندانوں کے جر مانے ادا کئے انہوں نے کہا کہ ستر سال بعد آج بھی ہمارے منہ بند کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اب بھی اے این پی کے کارکنوں کو شہید کیا جارہا ہے اور یہ شہادتیں اے این پی کی قسمت میں لکھی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ انتخابات میں پی پی پی پی اور مسلم لیگ کی پوزیشن بر قرار رہی لیکن پختون مٹی کی حقیقی تر جمان اے این پی کو پارلیمنٹ سے دور رکھا گیا انہوں نے کہا کہ ہم سب سے اچھے پاکستانی ہے ہمارے بزرگ دادا باچا خان بابا نے صدقے دل سے پاکستان مان لیا تھا پاکستان کو جس نے تقسیم کیا ہے وہ محب وطن ہے جب کہ ہمارے بزرگ جو ملک و قوم کے وفادار ہے ان کو ہمیشہ ملک دشمن قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج محب وطن پاکستانیوں نے کشمیر کو الگ کر کے بھارت کے حوالے کر دیا ان محب وطن پاکستانیوں نے ڈرامے بازوں اور جھوٹ کہنے والوں کو پاکستان حوالے کیا ہے۔ ڈرامے بازوں کا کام ناچ گانے ہے انہوں نے کہا کہ جب کشمیر کو آسانی سے بھارت حوالہ کیا جا تا تو ستر سال کے دوران وہاں آزادی کشمیر کی جنگ میں بے گناہ کشمیریوں کا استحصال کیوں کیا اس کے متعلق حکومت کو وضاحت کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سازش کے تحت پنجاب کو پاکستان اور پاکستان کو پنجاب قرار دیا جارہا ہے لیکن پختونوں کو ان کے حقوق دینے ہونگے اور ان کے حقوق کے لئے اے این پی عملی کر دار ادا کرئے گی #

مزید :

ملتان صفحہ آخر -