سندھ بھر میں ا نسداد ٹائیفائیڈ مہم21 اکتوبر سے شروع ہوگی

    سندھ بھر میں ا نسداد ٹائیفائیڈ مہم21 اکتوبر سے شروع ہوگی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی سمیت صوبے میں پہلی بار بچوں کو ٹائیفائیڈ سے بچاو کی حفاظتی ویکسین مہم شروع کی جا رہی ہے تاہم نومبر کے اختتام تک ٹائیفائیڈ ویکسین کو بچوں کے قومی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام(ای پی آئی)میں شامل کرلیا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق حکومت سندھ نے صوبے کے بچوں کو ٹائیفائیڈ کے جراثیم سے محفوظ رکھنے کیلیے پہلی بارٹائیفائیڈکی حفاظتی ویکسین لگانے کا حتمی پروگرام (بقیہ نمبر8صفحہ12پر)

مرتب کر لیا ہے، ٹائیفائیڈ حفاظتی ویکسین 9 ماہ سے 15سال عمر تک کے بچوں کو انجکشن کے ذریعے لگائی جائے گی جبکہ مہم حیدرآباد سمیت سندھ کے 8 اربن اضلاع کے بچوں میں بھی حفاظتی ویکسین لگائی جائے گی۔ای پی آئی پروگرام کے صوبائی مینجر ڈاکٹر ظہور بلوچ نے بتایا کہ ٹائیفائیڈ ویکسین مہم کے دوران 11لاکھ بچوں کو ٹائیفائیڈ کے جراثیم سے بچاوکی حفاظتی ویکسین لگائی جائے گی، یہ مہم 3دن تک جاری رہے گی جبکہ بچوں کو ٹائیفائیڈکے جراثیم سے محفوظ رکھنے کیلیے اس ویکسین کو پہلی بار بچوں کے قومی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات میں بھی روٹین ویکسین کے طور پر شامل کیا جا رہا ہے جس میں بچوں کی روٹین ایمونائزیشن کے دوران ٹائیفائیڈ ویکسین کی ایک ڈوز لگائی جائے گی۔ای پی آئی میں شامل کی جانے والی ٹائیفائیڈ ویکسین کو اس لیے شامل کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں ٹائیفائیڈکے جراثیم پر دستیاب اینٹی بائیوٹک کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے جس پر ماہرین صحت اور عالمی اداروں کی سفارش کے بعد ٹائیفائیڈ ویکسین کو بچوں کی روٹین ایمونائزیشن میں شامل کرنے کا فیصلہ کیاگیا جو رواں سال نومبر تک شامل کر لی جائے گی۔واضح رہے کہ کراچی، حیدرآباد سمیت اندرون سندھ میں ٹائیفائیڈ کی وبا نے ماہرین صحت کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے کیونکہ ٹائیفائیڈکے جراثیم نے موجود دستیاب اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت اختیارکر لی ہے جس کی وجہ سے ماہرین صحت کو اینٹی بائیوٹک ادویہ دینے کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے جس کی وجہ سے بچوں کو زیادہ مقدارمیں اینٹی بائیوٹک دینا پڑ رہی ہے۔نئی ویکسین عالمی اداروں کی مدد سے پاکستان منگوائی گئی ہے، ای پی آئی پروگرام میں ٹائیفائیڈ ویکسین شامل کرنے کے بعد بچوں کے قومی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکے جات میں 10بیماریوں سے بچاو کی حفاظتی ویکسین شامل ہوجائے گی۔

مزید : ملتان صفحہ آخر