لین دین کے معاملات پر عورت اورمرد کی گواہی

لین دین کے معاملات پر عورت اورمرد کی گواہی

  

کوئی بھی لین دین کا معاملہ ہو اس کے بارے اللہ کریم فرماتے ہیں کہ اس کو لکھ لیا کرو اور پھر لکھنے کے بعد اس پر مسلمانوں میں سے دو مرد گواہ ہوں جو عادل ہوں، عاقل اوربالغ ہوں چونکہ شہادت کے لئے عدل شرط ہے۔ کوئی ایسا آدمی جس کے ذمے چوری یا ڈاکہ ہو، کوئی ایسا آدمی جس کے ذمے جھوٹ بولنے کی تہمت ہو، وہ شہادت کے قابل نہیں ہے۔ اگر دومرد اس وقت موقع پر میسر نہ ہوں تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں ضرور ہوں۔ گواہی دینے والا ایک مرد ہو اور دو عورتیں ہوں تو اس طرح بھی دوگواہوں کی شرط پوری ہو گئی۔ اس پہ ہمارے ہاں بڑی لے دے ہو رہی ہے کہ عورت کو برابری کے حقوق نہیں دیے اور قرآن نے عورت کی شہادت آدھی قرار دے دی۔ قرآن حکیم نے جہاں یہ حکم دیا ہے کہ عورتیں دو ہوں وہاں اس کی مصلحت بھی خود ارشاد فرما دی ہے۔اگر ایک بھول جائے تو دوسری اس کو یاد دلا دے۔ عورت اور مرد اللہ کی نظر میں دونوں برابر ہیں۔ دونوں اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں۔ جزا و سزا دونوں کے لئے ہے۔ جنت بھی عورت اور مرد دونوں کے لئے ہے اور دوزخ بھی مرد اورعورت دونوں کے لئے ہے۔ کیوں بھول جائے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنی تخلیق کے اعتبار سے مرد ا ور عورت کے وجود میں فرق ہے۔ ان کے اوصاف میں فرق ہے اوران کی ذمہ داریوں میں فرق ہے۔ چونکہ کاروبار، رزق کمانا اور بچوں کا پیٹ پالنا مرد کی ذمہ داری ہے۔ عورت اس میں بہت کم مداخلت کرتی ہے جب تک وہ مجبور نہ ہو جائے۔ کوئی مرد کمانے والا نہ رہے تو عورت اس میدان میں آ سکتی ہے۔ اگر ضرورت ہو تو اسلام نے روکا نہیں ہے۔ چونکہ عورتوں کو اس شعبے سے سابقہ ہی کم پڑتا ہے، تو ایک دفعہ گواہ بنانے کے بعد شاید برسوں گزر جائیں اور اسے یاد رہے یا نہ رہے۔ مرد کاچونکہ روز کا یہ کام ہے، اسے یاد رہتا ہے۔ فرمایا یہ اس لئے نہیں کہ عورت کوئی کم تر مخلوق ہے، یہ اس لئے ہے کہ یہ شعبہ عورت کا نہیں ہے، خواتین ہوں تو دو رکھو۔ اگر ان میں سے ایک بھول جائے تو دوسری خاتون اسے یاد دلا دے۔

گواہوں کو جب شہادت کے لئے طلب کیا جائے تو گواہی دینے سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔ اصول یہ ہے کہ وہ جب گواہ مقررہوئے ہیں تو جو حق بات ہے، وہ بیان کریں اور ایک بات یاد رکھو! لین دین بار بار کرتے ہو تو بار بار لکھنے سے اکتا مت جانا۔ کتنی خوبصورت بات ارشاد فرمائی! ہو سکتا ہے دن میں تم دس سودے کرتے ہو تو بار بار لکھو،تاکہ کل کوئی غلط فہمی نہ ہو، کسی کا نقصان نہ ہو، کسی فساد کی بنیاد نہ بن جائے۔ اگر تحریر ہو گی تو جھگڑا نہیں ہو گا، کسی کا حق نہیں مارا جائے گا۔ اگر کسی نے مال خریدا اور اس کی نقد قیمت دے دی، اسے حاضر مال مل گیا تو کوئی حرج نہیں اگر تم نہیں لکھتے چونکہ آئندہ کوئی مطالبہ باقی نہیں رہا۔ رقم کا مطالبہ ختم ہو گیا، اسے پوری رقم مل گئی اور مال والے کا مطالبہ ختم ہو گیا، اسے مال مل گیا۔ جو نقد لین دین کرتے ہو موقعہ پر سرمایہ بھی دے دیتے ہو اور مال بھی وصول کرلیتے ہو، اسے ضبط تحریر میں نہ لاؤ تو کوئی حرج نہیں۔ اسے بھی لکھ لوتو اچھی بات ہے، پھر کبھی بات ہو تو تحریر پاس ہو، لیکن جہاں بھی ادھار ہو گا، وہاں تحریرہونا ضروری ہے اور یہ بھی یاد رکھو!لین دین میں گواہ بھی ضرور رکھا کرو۔ یہ ساری چیزیں وہ ہیں جو بعد میں جھگڑوں کو جنم دینے سے روکتی ہیں اورانسان کو امن اور معاشرے کو تقویت پہنچاتی ہیں۔

اور ایک بات یاد رکھنی چاہیے! لکھنے والے کاتب پر یا گواہ پر دباؤنہیں ڈالنا چاہیے۔ بعد میں کوئی ایسا نہ کرے کہ گواہوں کو دھمکی دیتا پھرے کہ گواہی نہ دینا یا کاتب کے پیچھے دوڑے کہ تم نے کیوں لکھا، یہ ناجائز ہے۔ کسی گواہ کو کسی لکھنے والے کو مرعوب نہ کیا جائے، انہیں ایذا نہ دی جائے۔ اگر ایسا کرو گے تو یہ بہت بڑا گناہ ہو گا۔ اللہ کی ناراضگی کا سبب ہو گا۔ اللہ کی عظمت کا خیال کرو۔ تمہیں خالق کے سامنے جواب دینا ہے، لہٰذا اللہ کی عظمت کو نگاہ میں رکھو۔ اور اللہ تمہیں یہ سارے معاملات اس لئے تعلیم دے رہا ہے کہ اللہ ہر چیز سے آشنا ہے،ہر چیز سے آگاہ ہے، ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔

رہن کی صورت استفادہ جائز نہیں لین دین میں ایک صورت تو یہ ارشاد فرمائی کہ اگر ادھار دیں تو وہ لکھ لیں اور وقت کی تعیین ہو۔ اور کسی وقت سفر میں ہیں یا کوئی ایسی صورت ہے کہ کوئی لکھنے والا نہیں ملتا اور ادھار مطلوب ہے تو اس کے بدلے کوئی چیز رہن رکھی جا سکتی ہے۔

ادھار لینے والا جتنا ادھار لے رہا ہے، اتنی قیمت یا اس سے زیادہ قیمت کی چیز رہن رکھ دیتا ہے کہ میں پیسے ادا کر کے اپنی چیز واپس لے لوں گا۔ رہن میں شرعی طریقہ یہ ہے جو چیز جس کے پاس رہن رکھی جاتی ہے، وہ اس کے قبضے میں دی جاتی ہے اور جب تک مقروض وہ قرض ادا نہیں کرتا اور اپنی چیز واپس نہیں لیتا، وہ اس پر قابض رہ سکتا ہے، لیکن اسے استعمال نہیں کرے گا۔ ہمارے ہاں کاشتکارزمین کا ٹکڑا رہن رکھ دیتے ہیں تو راہن یا جس کے پاس رہن رکھا، اس کو زمین پر قبضہ رکھنے کا حق حاصل ہے۔ اب اگر اس زمین کو وہ استعمال کرتا ہے تو شرعی طریقہ یہ ہے کہ کاشت یا محنت کی بٹائی تو لے گا، لیکن جو حصہ مالک کا بنتا ہے وہ مالک کو دے یا قرضہ میں سے منہا کرتا جائے۔ یعنی جو چیز رہن رکھی جاتی ہے، اس سے استفادہ نہیں کیا جا سکتا اور اگر استفادہ کیا جائے تو مالک کے حصہ سے استفادہ صرف اس صورت میں درست ہو گا کہ اسے قرض سے منہا کرتے رہیں۔ اور جب تم ا یک دوسرے پر اعتماد کرتے ہو تو بندہ مومن کو نہیں چاہیے کہ دوسرے مسلمان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائے۔ جب اس نے تم پر اعتماد کیا ہے تو اس کا حق پورا پورا ادا کریں اور اس کے اعتماد کو بحال رکھیں۔ معاشرے کی بقاء کے لئے اور معاشرے میں بھلائی کو اور نیکی کو قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ جس آدمی پر جو اعتماد کیا گیا وہ اس کا حق ادا کرے اور اس کے مطابق کام کرے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -