وہ ادارہ جس نے اپنی شارٹ ویو ریڈیو نشریات مقبوضہ کشمیر تک بڑھانے کا اعلان کردیا، خوش کردیا

وہ ادارہ جس نے اپنی شارٹ ویو ریڈیو نشریات مقبوضہ کشمیر تک بڑھانے کا اعلان ...
وہ ادارہ جس نے اپنی شارٹ ویو ریڈیو نشریات مقبوضہ کشمیر تک بڑھانے کا اعلان کردیا، خوش کردیا

  


لندن (ویب ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں ذرائع ابلاغ پر پابندی مسلسل 11 ہویں روز بھی جاری رہی لیکن برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) نے اپنی شارٹ ویو ریڈیو نشریات مقبوضہ وادی تک پہنچانے کا اعلان کر دیا۔مقبوضہ کشمیر میں مسلسل گیارہ دنوں سے ذرائع ابلاغ پر مکمل پابندی جاری لیکن بی بی سی ورلڈ سروس نے اپنی ریڈیو نشریات مقبوضہ کشمیر تک بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے۔بی بی سی کے مطابق یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ پابندیوں میں گھرے کشمیری عوام تک غیر جانبدارانہ  خبریں پہنچائی جاسکیں۔یادرہے کہ بھارت نے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے سے قبل ہی مقبوضہ کشمیر میں اضافی فوجی دستے تعینات کردیے تھے کیوں کہ اسے معلوم تھا کہ کشمیری اس اقدام کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی تعداد اس وقت 9 لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے وادی بھر میں کرفیو نافذ ہے، ٹیلی فون، انٹرنیٹ سروسز بند ہیں، کئی بڑے اخبارات بھی شائع نہیں ہورہے۔بھارتی انتظامیہ نے پورے کشمیر کو چھاؤنی میں تبدیل کررکھا ہے، 7 اگست کو کشمیری شہریوں نے بھارتی اقدامات کیخلاف احتجاج کیا لیکن قابض بھارتی فوجیوں نے نہتے کشمیریوں پر براہ راست فائرنگ، پیلٹ گنز اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں 6 کشمیری شہید اور 100 کے قریب زخمی ہوئے۔اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج نے 8 اگست کو کشمیر میں احتجاج کرنے والے تقریباً 500 کشمیریوں کو بھی حراست میں لے لیا ہے جبکہ حریت قیادت سمیت بھارت کے حامی رہنما محموبہ مفتی اور دیگر نظر بند ہیں۔

مزید : بین الاقوامی /انسانی حقوق /سائنس اور ٹیکنالوجی