پاک  انگلینڈ ٹیسٹ سیریز ایک اور امتحان……!

پاک  انگلینڈ ٹیسٹ سیریز ایک اور امتحان……!

  

پاکستان کے پاس معیاری فاسٹ بولرز ہیں،محض تجربے کی ضرورت ہے

 ٹیسٹ میچ اظہر علی کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے شکست کی صورت میں ان کو کپتانی سے ہا تھ بھی دھونا پڑسکتا ہے

ہماری اولین ترجیح ہوگی کہ اب ہم اپنی سیریز اپنی سر زمین پر ہی منعقد کریں: احسان مانی

پاکستان کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ ہارنے کے بعد سیریز میں واپسی کے لئے دوسرے ٹیسٹ میں کامیابی کے لئے بھرپور کوششوں میں مصروف ہے پاکستان کی ٹیم کے لئے یہ ٹیسٹ اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے اگر ہار جاتی ہے تو سیریز میں شکست اس کا مقدر بن جائے گی پہلے ٹیسٹ میچ میں ٹیم جیتنے کے قریب تھی جب شکست کا سامنا کرنا پڑا قومی ٹیم میں دوسرے ٹیسٹ میچ کے لئے ایک تبدیلی کی گئی شاداب کی جگہ فواد عالم کو ٹیم میں شامل کیا گیا مگر فواد عالم ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے انتخاب کو درست ثابت کرنے میں ناکام رہے۔قومی ٹیم میں 11 سال کے طویل عرصے بعد واپسی کرنے والے فواد عالم کو اس وقت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جب وہ کرس ووکس کی گیند پر ایل بی ڈبلیو قرار دیے گئے جبکہ انہیں کھاتہ کھولنے کی مہلت بھی نہیں دی گئی۔سابق قومی کرکٹرز کی نیک تمنائیں فواد عالم کے کام نہ آسکیں اور ان کی جانب سے عمدہ کارکردگی کی بھاری توقعات کا محل محض چار گیندوں میں مسمار ہو گیا اور فواد عالم کو کھاتہ کھولے بغیر پویلین لوٹنا پڑا۔سابق کپتان اور چیف سلیکٹر انضمام الحق نے بائیں ہاتھ کے بیٹسمین کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ فواد عالم عمدہ کارکردگی دکھا سکتے ہیں اور ان کا اسکور کرنا ٹیم کیلئے بھی مفید ثابت ہوگا لیکن حقیقت یہی ہے کہ بری طرح گھبراہٹ میں مبتلا فواد عالم اپنے انوکھے اسٹانس اور غیر روایتی انداز کے باعث صفر تک محدود رہے۔سابق قومی کپتان محمد یوسف نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کے فیصلے کو بڑا ایڈوانٹیج قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ دس سال کے بعد فواد عالم کو اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کا موقع ملا ہے لہٰذا وہ اس میچ میں رنز بنا کر خود پر سے دباؤ کم کر سکتے ہیں اور پاکستانی ٹیم بھی بہتر پوزیشن میں آسکتی ہے مگر بائیں ہاتھ کے بیٹسمین کو شدید پریشر کے سبب مشکلات سے دوچار دیکھا گیا۔

سابق آف اسپنر ثقلین مشتاق کا کہنا تھا کہ فواد عالم بخوبی سمجھتے ہیں کہ دباؤ کے عالم میں رنز کیسے بنائے جاتے ہیں اور انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں بارہا اس بات کو ثابت کیا لہٰذا بہتر موقع ملنے پر وہ موثر کھیل پیش کر سکتے ہیں۔ثقلین مشتاق کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم میں پلٹ کر وار کرنے کی بھرپور صلاحیت ہے۔جبکہ ٹیسٹ میچ اظہر علی کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے شکست کی صورت میں ان کو ٹیسٹ کپتانی سے ہا تھ بھی دھونا پڑسکتا ہے پاکستان کی ٹیم دوسرے ٹیسٹ میں بھی دباؤ میں نظر آرہی ہے جو خوش آئند بات نہیں ہے کپتان اظہر علی و دیگر کھلاڑیوں کو اگر اس ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرنی ہے تو اس کے لئے بہت محنت درکار ہے انگلش ٹیم نے پہلا ٹیسٹ جیت کر پاکستان کی ٹیم پر نفسیاتی برتری حاصل کرلی ہے جس کا وہ فائدہ اٹھاتی ہوئی نظر آتی ہے بلاشبہ پاکستان کی ٹیم نے دوسرے ٹیسٹ میچ کے لئے بہت زیادہ پریکٹس کی مگر اس کے باوجود اس کے لئے جیتنا آسان نہیں جبکہ قومی ٹیم کے بولنگ کوچ وقار یونس نے انگلینڈ سے پہلے ٹیسٹ کی شکست کو بڑا دھچکا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نسیم شاہ نے اتنی اچھی بولنگ نہیں کی جس کی توقع تھی، مانچسٹر ٹیسٹ کے دوران ٹیم نے مجموعی طور پر اچھا کھیل پیش کیا، لیکن ہر شعبے میں کچھ غلطیاں ہوئیں، جو شکست کا سبب بنیں،پہلے ٹیسٹ میچ میں شکست کڑوا گھونٹ تھا ہم نے زیادہ سیشن جیتے تھے مگر شکست سے دھچکا لگا۔ وقار یونس نے کہا کہ نسیم شاہ بہت ہنرمند بولر ہے لیکن نسیم شاہ نے اتنی اچھی بولنگ نہیں کی جس کی توقع تھی۔دنیا کے نمبر ون ٹیسٹ آل رانڈر بین اسٹوکس کے سیریز سے دستبردار ہونے پر ردعمل دیتے ہوئے بولنگ کوچ نے کہا کہ اسٹوکس نہ ہوناکوئی بڑافائدہ نہیں، اسٹوکس کے خلاف ہماراپلان کامیاب ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یاسر شاہ میچ وننگ بولر ہے فہیم میں ٹیلنٹ ہے، وہ ٹیسٹ میں آگے نہیں بڑھ سکا جب کہ حتمی ٹیم کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا۔اظہر علی کی کپتانی سے متعلق سوال پر وقار یونس کا کہنا تھا کہ کپتانی اور اوپر کے نمبروں پر کھیلنا آسان نہیں جب رنز نہ بنیں تو دماغ میں منفی چیزیں آتی ہیں اظہر سینئرکھلاڑی ہے اسے پتہ ہے اب کیا کرنا ہوگا،انھوں نے مزید امید ظاہر کی کہ کپتان اظہر علی آئندہ میچز میں اچھا پرفارم کریں گے۔ بولنگ کوچ وقار یونس نے کہا ہے کہ مانچسٹر ٹیسٹ میں شکست کا افسوس ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ پہلے ٹیسٹ میں کچھ سیشنز اچھے نہیں گئے، آخری روز قسمت نے بھی ساتھ نہیں دیا۔بولنگ کوچ کا کہنا تھا کہ پہلے ٹیسٹ میں پاکستان نے اچھی کرکٹ کھیلی ہے، ہر شعبہ میں کچھ غلطیاں ہوئیں، جس کی وجہ سے شکست ہوئی۔وقار یونس نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ٹیم میں کم بیک کرنے کی صلاحیت موجود ہے، پاکستان کے پاس معیاری فاسٹ بولرز ہیں صرف تجربے کی ضرورت ہے، نوجوان فاسٹ بولرز کو وقت ملے گا تو کارکردگی بھی بہتر ہوجائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے باعث لگائے گئے لاک ڈان کی وجہ سے 5 ماہ سے انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھیلی جس کا نقصان تو ہوا ہے۔

  پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے کہا کہ پاکستان اب اپنی کوئی بھی ہوم سیریز نیوٹرل مقام پر نہیں کھیلے گا بلکہ پاکستان میں ہی سیریز کا انعقاد کیا جائے گا احسان مانی نے کہا کہ سال 2022 میں انگلینڈ کے دورہ پاکستان نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں لگتا،  پاکستان اب ایک محفوظ ملک ہے اور یہاں  کا دورہ کرنے والی ٹیموں کو سربراہ مملکت جتنی سیکیورٹی دیتے ہیں۔احسان مانی نے کہا کہ ہماری ہوم سیریز اب کبھی نیوٹرل مقام پر نہیں ہو گی، اپنے ہوم میچز پاکستان میں کھیلیں گے یا نہیں کھیلیں گے مگر ہماری اولین ترجیح ہوگی کہ اب ہم اپنی سیریز اپنی سر زمین پر ہی منعقد کریں اور اس کے لئے ہم ہر ممکن کوشش کریں گے انہوں نے مزید کہا کہ  ایم سی سی کی ٹیم نے یہاں گالف کھیلی، تاریخی مقامات اور ریسٹورنٹس بھی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ جب 2 سال بعد انگلینڈ کرکٹ ٹیم آئے گی تو حالات اور بھی بہتر ہوجائیں گے انہوں نے کہا کہ کرکٹ کی بحالی کے لئے پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو انگلینڈ بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اس فیصلہ کو بہت زیادہ سراہا گیا ہے اور اب امید ہے کہ انگلینڈ کی ٹیم بھی پاکستان کا دورہ کرے گی او ر اس حوالے سے بات چیت کا آغاز کردیا گیا ہے احسان مانی نے کہاکہ پاکستان کھیلوں کے لئے محفوظ ملک ہے اور پی ایس ایل فائیو کا کامیاب انعقاد اس کا منہ بولتا ثبوت ہے مستقبل میں ہم اپنی ہوم سیریز کا انعقاد پاکستان میں ہی کروانے کی کوشش کریں گے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -