انسان، لینڈ مینجمنٹ اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ

انسان، لینڈ مینجمنٹ اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ
 انسان، لینڈ مینجمنٹ اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ

  

ھوالذی خلق السموات والارض فی ستتہ ایام

زمین اور آسمان کی تخلیق کے بعد آسمان پر تو اللہ تعالیٰ خود جلوہ افروز ہوگئے اور زمین پر انسان کو بھیج دیا گیا، وہ بھی اشرف المخلوقات بنا کر۔ اب انسان پر موقوف ہے کہ وہ کیسے ثابت کرتا ہے کہ اس کو سب مخلوقات پر شرف حاصل ہے؟ اللہ پاک خود فرماتا ہے کہ میں خوبصورت ہوں اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں۔ 

اللہ جمیل و یحب الجمال

ایسے ہی تو نہیں اس نے نیلگوں آسمان پر رات کے اندھیرے میں چاندی نما جھلملانے والے ستاروں کی چادر  بچھارکھی ہے تاکہ دیکھنے والے دیکھتے ہی رہ جائیں،پھر چاند کی دودھیا روشنی سے رات کے اندھیرے کو دھو  دیا۔ پھر کمال ہے کہ خون صد ہزار انجم کی قربانی دے کر طلوع سحر کردی اور زمین کو بقعہ نوا بنا دیا۔ بادلوں کی فوجیں آسمان پر چلا کر  ان کی گرج اور چمک سے پہلے اپنی مخلوق کو ڈرایا اور پھر خوفزدہ مخلوق پر رحم کھاتے ہوئے ایسی بارش برسائی کہ زمین  جل تھل ہو گئی۔اس طرح  اللہ نے آسمان کو تو خوبصورت بنایا ہی تھا، زمین کی خوبصورتی کے بھی اسباب پیدا کردیئے اور اسباب کے استعمال پر انسان کو مکمل طور پر اختیار دے کر اس کو خلیفتہ اللہ فی الارض کے عہدۂ جلیلہ پر متمکن کردیا۔ اب اس نے اپنے عمل سے ثابت کرنا ہے کہ وہ زمین پر اپنا کردار ادا کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوا ہے یا  اس نے اختیارات کے ناجائز استعمال میں حد کردی ہے۔ خیر حدود سے تجاوز کی اجازت اللہ ایک خاص حد تک ہی دیتا ہے ورنہ تو وہ چیونٹیوں سے ہاتھیوں کے لشکروں کو ختم کروانے پر مکمل قادر ہے۔ فرعون کو نیست و نابود ایک ہی مچھر سے کروانے پر قدرت رکھتا ہے۔ سمندروں کو اچھال کر بستیوں کو بے آباد کرنا اس کے لئے معمولی بات ہے۔ یہ وہ ساری باتیں ہیں جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ا نسان اشرف المخلوقات ضرور ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ زمین پر اپنا کردار ادا کرے، بصورت دیگر اس کو سیدھا کرنے کے لئے دیگر مخلوقات خداوندی اپنا کردار ادا کریں گی اور پھر تب ”نہ رہے گا بانس اور نہ بجے بانسری۔“

انسان کا زمین پر کیا رول ہے؟اس سلسلے میں ویسے تو انسان نے ہی لکھ لکھ کتابیں کالی کی ہوئی ہیں اور اتنی ساری کتابیں پڑھنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اوپر سے اس نے اپنا کتاب سے تعلق توڑ لیا ہے اور نیٹ سے دوستی کرلی ہے۔ اس طرح اس کی نیٹ ورکنگ تو بہتر ہو گئی ہے لیکن زمین پر اس نے کیسے رہنا ہے،اس سلسلے میں وہ ابھی تک پوری ورکنگ نہیں کرسکا۔ کاش کوئی سمجھائے اس کو کہ تیرے پاس وقت بہت کم ہے اور مزید مہلت والا آپشن زندگی کے نیٹ میں نہیں ہے۔ خیر یہ سوشل اینیمل(سماجی حیوان) ہے اس کو نیٹ میں لا کر سمجھایا جا سکتا ہے کہ آپ کا زمین پر بنیادی کردار یہ ہے کہ آپ زمین کو خوبصورت بنائیں کیونکہ اللہ تعالیٰ خوبصورتی پسند فرماتا ہے۔ یقینا انسان نے خود بھی تو اللہ کے یہ ارشادات سنیں ہوں گے۔ ہر گز نہیں ……کیونکہ یہ دنیا جہان کی کتابیں پڑھتا ہے البتہ اس کے پاس کتاب الٰہی پڑھنے کے لئے وقت ہی نہیں۔

زمین کو خوبصورت بنانے کے لئے بادی النظر میں سب سے ضروری کام لینڈ مینجمنٹ ہے۔ زمین پر خون ہوتا ہے۔ زمین کے لئے خون ہوتا ہے اور زمین کا خون ہوتا ہے۔ خون سے ہی بدمزگی، بد نظمی، شور شرابا، آہ و بکا، افراتفری، بے چینی، غیر یقینی، جلاؤ گھراور قتل و غارت اور سب سے بڑھ کر یہ کہ شیطان خوش ہوتا ہے اور رحمن ناراض ہوتا ہے۔ پھر جب رحمن ناراض ہو جاتا ہے تو انسان کی چیخیں نکلتی ہیں،یہاں تک کہ اس کی آواز کو بھی باہر  نہیں نکلنے دیا جاتا۔ منزل کی تلاش میں کبھی اِدھر کبھی اُدھر دھکے کھاتا ہے  اس طرح انسان خوار و زبوں ہو جاتا ہے۔

انسان کا کردار ہونا اور اس کا کردار ادا نہ کرنا۔ انسان کو اپنی منزل کے بارے میں پتہ نہ ہونا۔ انسان کا اِدھر اُدھر دھکے کھانا اور انسان کا رل جانا۔ اف اللہ اس کا عملی مظاہرہ تو آج کل میں نے ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں دیکھا ہے۔ جس کا بنیادی کام لینڈ مینجمنٹ  ہے اور اس اہم ذمہ داری کی ادائیگی کے لئے شیر شاہ سوری نے ایک سسٹم وضع کروایا تھا جس کو لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم کہتے تھے۔ جس کی مزید نوک پلک مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کے دور میں سنواری گئی اور اسی سسٹم کو انگریز حکومت نے بھی جاری رکھا لیکن اس میں ڈی سی کا رول بھی رکھ دیا گیا۔ جو پاکستان کا ڈی سی اس انداز سے ادا نہ کرسکا جو اس سسٹم کے خالق ٹوڈر مل کا ویژن تھا۔

جس پر جذبہ حب الوطنی سے سرشار ایک پاکستانی حکمران نے مندرجہ ذیل تین کام کرکے ملک میں سیاسی، معاشی اور معاشرتی انقلاب برپا کردیا۔ اولاً:ڈی سی کا عہدہ ہی ختم کردیا گیا تاکہ تمام محکمے "بلا خوف و خطر" اپنا "کام"کریں اور عوام کا نمائندہ ناظم "خوش" رہے۔ دوئم:پولیس کے کام میں ڈی سی کا رول ختم کردیا گیا تاکہ پولیس جرائم پیشہ افراد کو الٹا لٹکا کر عوام کو سیدھاکردے۔ اس سے پہلے کہ عوام "سیدھے" ہوجائیں اور حکمرانوں سے حق خود ارادیت مانگنا شروع کر دیں۔ سوئم: ڈی سی کے پاس جو چھوٹے موٹے عدالتی اختیار تھے وہ واپس لے لئے گئے تاکہ عوام کو ڈور سٹیپ کی بجائے کورٹ سٹیپ پر انصاف مہیا کیا جا سکے اور محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر مشرف بہ انصاف ہو سکیں۔ ازاں بعد ایک دن پنجاب کے ٹوڈر مل کو اپنے تراشے ہوئے تحصیلداروں اور پٹواریوں پر غصہ آگیا جس پر اس نے پٹوار کلچر کے خلاف جہاد کا اعلان کردیا۔ اور  لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم کی تقسیم کو ہی پٹوار کلچر کے خاتمے کے لئے ضروری قرار دیا۔ اس طرح مغل دور کے ٹوڈر مل اور عصر حاضر کے پنجابی ٹوڈر مل میں اختلاف عمل پیدا ہوگیا۔  اپنے اپنے ویژن کی بات ہے،کہاں آج اور کہاں کل اور وہ بھی شیر شاہ سوری کا کل۔ خیر حکم جاری ہو گیا کہ لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم کو  فوری طور پر دو حصوں میں تقسیم کردیا جائے۔ لینڈ مینجمنٹ کا کام پٹواری اور تحصیلدار کریں گے جبکہ اس کے نتیجے میں جو ریکارڈ تخلیق ہوگا اس کی مینجمنٹ ماہرین کمیپیوٹر کریں گے۔گرداوری، حدبراری، نشاندہی، تقسیم کھاتہ جات، عملدرآمد احکام عدالت ہائے اور موقعہ ملاحظہ وغیرہ جیسے امور تحصیلدار اور پٹواری سر انجام دیں گے  اور اس لینڈ سے متعلقہ ریکارڈ کمپیوٹر سٹاف مرتب کریگا۔

 گویا کہ عوام کو دو دروازے کھٹکھٹانا پڑیں گے۔ مشکل تو ہے۔ سفر شروع تو کریں ابھی تو دو اداروں میں تصادم بھی ہونا ہے اور اس تصادم کے نتیجہ میں اور تو کچھ نہیں ہو گا صرف عوام خراب ہوں گے۔ وہ تو پہلے بھی ہو رہے ہیں۔ کیا ہوا چند دھکے اور لگ گئے تو۔ ابھی توکالونئیل سسٹم کی گرتی ہوئی دیواروں کو ایک اور دھکا دینا ہے تاکہ نہ لینڈ محفوظ رہے اور نہ اس کا ریکارڈ۔ بیڑہ غرق پروگرام۔ اس طرح ایک نیا تجربہ تو ہوا۔ بہرحال بہتری کی گنجائش ہمیشہ ہوتی ہے۔ اب خاموشی سے پرانے سسٹم کی طرف رجوع کرتے ہیں اور رجوع کرنا شرعی طور پر جائز ہے۔ تجربے کرنا تو بالکل بری بات نہیں ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ  آج کے اور انگریز کے دور کے افسر میں  بڑا فرق ہے۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ  انگریز دور کے ڈی سی کو اپنی پوسٹنگ کے لئے ایم این اے یا ایم پی اے کے دروازوں پر نہیں جانا پڑتا تھا۔ انگریز دور میں سیاستدانوں کو کامیاب ہونے کے لئے اپنے بیٹوں کر تحصیلدار نہیں بنوانا پڑتا تھا۔ اس وقت ڈیرے اور ہاؤس ذاتی ذرائع آمدن سے چلائے جاتے تھے نہ کہ پٹواری کی آمدن سے۔ افسر لینڈ مینجمنٹ کرتے تھے نہ کہ سٹیٹ لینڈ کا کاروبار۔ ادارے ریاست کے ساتھ ہوتے تھے نہ کہ ریاست کے دشمنوں کے ساتھ۔ کاش آج کے افسروں پر یہ حقیقت عیاں ہو جائے کہ وہ انسان ہیں اور انسان کا کام لینڈ مینجمنٹ ہے اور لینڈ مینجمنٹ سے دنیا خوبصورت بنائی جاسکتی ہے۔ بے شک ہمارا خالق ومالک وخوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔

پانی کو چھو رہی ہے جھک جھک کے گل کی ٹہنی

جیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہو

مزید :

رائے -کالم -