یوم آزادی پر پنجاب بھر میں 1355 ٹریفک حادثات، 1547افراد زخمی ہوئے،ریسکیوحکام

یوم آزادی پر پنجاب بھر میں 1355 ٹریفک حادثات، 1547افراد زخمی ہوئے،ریسکیوحکام

  

 لا ہو ر (کر ائم رپو رٹر) ڈائریکٹر جنرل پنجاب ایمرجنسی سروس ڈاکٹر رضوان نصیر نے جشن آزادی کے حوالے سے گذشتہ روز روڈ ٹریفک حادثات میں ریسکیو سروس کی فراہمی کے حوالے سے اعداد وشمار کا جائزہ لیا۔ پنجاب ایمرجنسی سروس نے پنجاب بھر میں 1547متاثرین کو1355روڈ ٹریفک حادثات میں جشن آزادی کے موقع پرریسکیو کیا۔ اعداد و شمار کے مطابق زیادہ تر حادثات لاہور میں کل295حادثات،ملتان میں 119 اورفیصل آباد 

میں 109حادثات وقوع پذیر ہوئے جبکہ سب سے کم 5 حادثات ضلع بھکرمیں پیش آئے۔ ڈی جی ریسکیو پنجاب نے اس بات کا جائزہ لیا کہ ٹریفک حادثات کی سب سے بڑی وجہ موٹر سائیکل ہیں۔14اگست کو حادثات میں ہونے والے کل 1547زخمیوں میں 234کو سنگل فریکچر، 147کو سر کی چوٹ، 72کو زیادہ ہڈی ٹوٹنے کی ایمرجنسیز،28کو کمرکی چوٹ جبکہ 1066افراد معمولی زخمی شامل ہیں۔جن کو موقع پر طبی امداد دی گئی جس کی وجہ سے ہسپتالوں سے مریضوں کا اضافی بوجھ کم ہو ا۔ڈی جی ریسکیو پنجاب نے اس بات کابھی بغور جائزہ لیا کہ ان حادثات میں خواتین کی نسبت مردسب سے زیادہ 83فیصد متاثر ہوئے اور 17فیصد خواتین زخمی ہوئیں جبکہ ان حادثات میں 13افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

 اعدادو شمار کے تجزیہ سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ  46.2فیصد حادثات اوورسپیڈنگ،31.6 فیصد غیر محتاط ڈرائیونگ،5.9فیصد غلط موڑمڑنے، جبکہ 16.1فیصد دیگر وجوہات کی بناء پرپیش آئے۔اسی طرح 73.4فیصد حادثات موٹر سائیکل، 8.5 فیصدکار، 7.9 فیصدرکشہ،1.5  فیصد ویگن، جبکہ2.42فیصد ٹریکٹر ٹرالی،بسیں اور ٹرک وغیرہ کی وجہ سے  پیش آئے۔ ڈاکٹر رضوان نصیر نے پراونشیل مانیٹرنگ سیل کی کارکردگی کو سراہاتے کہا کہ پی ایم سی منظم انداز میں مانیٹرنگ کررہا ہے، انہوں نے کہا کہ   روڑ ٹریفک حادثات کے نتیجے میں صرف ایک دن میں 13قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں اور481افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹریفک قوانین کی پابندی وقت کی اہم ضرورت ہے اور انہوں نے عوام الناس کو ٹریفک قوانین کی پابندی اور حفاظتی تدابیر اپنانے پر زور دیا جبکہ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ ڈرائیونگ میں اپنے بچوں اور رشتہ داروں کو کم عمری میں ڈرائیونگ سے روکنے اور ڈرائیونگ کے دوران سیفٹی ہیلمٹ پہنانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ 

مزید :

علاقائی -