ونڈانرجی کاٹیرف 14روپے یونٹ مقرر،10برسوں میں 700ارب روپے بچت ہوگی

ونڈانرجی کاٹیرف 14روپے یونٹ مقرر،10برسوں میں 700ارب روپے بچت ہوگی

  

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)حکومتی کمیٹی اور نجی بجلی گھروں کے درمیان ہونے والے معاہدے کی تفصیلات منظر عام پر آ گئیں۔ذرائع کے مطابق ونڈ پاور سے چلنے والے 13 بجلی گھروں نے حکومتی کمیٹی کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے، 6 ونڈ پاور بجلی گھر پیر کے روز معاہدے پر دستخط کریں گے، معاہدے پر دستخط کرنے والوں میں نجی، حکومتی اور سی پیک کے تحت بجلی گھر شامل ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے معاہدے کے تحت ونڈ انرجی ٹیرف 25 روپے کی بجائے 14روپے فی یونٹ ہو گا، اس معاہدے سے حکومت کو 700 ارب روپے سے زائد کی بچت ہو گی۔ذرائع کا بتانا ہے کہ 1994 اور 2002 کی پاور پالیسی کے تحت بجلی گھروں کو منافع ادائیگی ڈالرز کے بجائے روپے میں ہو گی، ڈالر کو روپے میں تبدیل کرتے وقت مستقبل میں ریٹ فکس کر دیا گیا ہے، جب تک معاہدوں کی مدت ہے ڈالر کا ریٹ 148 روپے ہو گا۔ذرائع کے مطابق کمیٹی اور بجلی گھروں کے درمیان مذاکرات میں کسی ایجنسی کا کوئی نمائندہ شامل نہیں تھا، کمیٹی کو مذاکرات کے لیے 2 طرح کے اختیارات دیے گئے ہیں، پہلا اختیار نجی بجلی گھروں کا فارنزک آڈٹ اور دوسرا اختیار مذاکرات سے معاہدے پر پہنچنا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نجی بجلی گھر حکومت کو 104 ارب روپے واپس کرنے پر تیار ہو گئے ہیں، وصولی نیپرا کے ذریعے ہو گی۔ذرائع کے مطابق ڈالر میں سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکیوں کو منافع ڈالر میں ملیگا، ڈالر میں غیر ملکیوں کا کل سرمایہ کاری میں حصہ 20 فیصد ہے۔حکومتی ذرائع کا بتانا ہے کہ یہ معاہدے مستقبل میں بجلی گھروں سے خریداری کے لیے بنیاد بنیں گے، بجلی گھروں کا ٹیرف بھی انہی معاہدوں کو بنیاد بنا کر طے کیا جائے گا۔خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے قوم کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا تھا کہ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدہ ہو گیا ہے، اب بجلی کی قیمت نیچے آئے گی۔

معاہدہ تفصیل

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،این این آئی) وزیراطلاعات و نشریات سنیٹر شبلی فراز نے کہاہے کہ ماضی میں کیے گئے مہنگے معاہدوں کے نتیجے میں مہنگی بجلی ملتی رہی، سسی بجلی کی پیداوار سمیت بجلی کی تقسیم کے نظام میں اصلاحات لا رہے ہیں،کسی حکومت نے بھی نجی کمپنیوں سے سستی بجلی کے لیے مذاکرات نہیں کیے،ڈالر کی قدر میں اضافہ سے بجلی بھی مہنگی خریدنی پڑتی تھی،عوام کو سستی بجلی کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے،اب بجلی کی وہی قیمت ادا کرنا پڑے گی جو استعمال ہوگی۔ہفتہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراطلاعات شبلی فراز نے کہاکہ ماضی کے معاہدوں کے باعث بجلی مہنگی ملتی رہی،مہنگے معاہدوں کی بدولت مہنگی بجلی ملتی رہی،وزیراعظم کی ہدایت پر ٹاسک فورس نے بجلی کے معاہدوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں بجلی کی تقسیم اور سستی بجلی پر توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہاکہ کسی حکومت نے بھی نجی کمپنیوں سے سستی بجلی کے لیے مذاکرات نہیں کیے،ماضی میں بجلی کی قیمت کو ڈالر کے ساتھ منسلک کیا گیا،ڈالر کی قدر میں اضافہ سے بجلی بھی مہنگی خریدنی پڑتی تھی۔ انہوں نے کہاکہ عوام کو سستی بجلی کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم چاہتے ہیں عوام کو سستی بجلی ملے۔ انہوں نے کہاکہ بجلی کمپنیوں نے ساتھ مذاکرات کے نتیجہ میں مفاہمت کی نئی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں بجلی خریدنے نہ خریدنے کی صورت میں کیپسٹی چارجز ادا کرنا پڑتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ اب بجلی کی وہی قیمت ادا کرنا پڑے گی جو استعمال ہوگی۔ معاون خصوصی شہزادہ قاسم نے کہاکہ معاہدے کے مطابق ایکویٹی کی ادائیگی ڈالر کی بجائے روپے میں ہوگی،نیپرا بجلی کے کارخانوں کی کارکردگی کا جائزہ لے گی۔ شہزادقاسم نے کہاکہ بجلی کمپنیوں کے منافع کا تعین بھی نیپرا کرے گی۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ ماضی میں متبادل توانائی منصوبوں کی حوصلہ کی جاتی رہی ہے، حکومت متبادل توانائی کے منصوبوں کو ہرممکن مراعات دے رہی ہے، انہوں نے کہاکہ حکومت کا منیادی مقصد مہنگی بجلی کو سستا کرنا ہے،حکومت قانونی پابندیوں کے باعث یکطرفہ طور پر بجلی سستی نہیں کرسکتی تھی،سرکلر ڈیبٹ پر سود ایک فیصد بھی کم ہو تو پندرہ ارب روپے کا فائدہ ہوتا ہے۔وزیراطلاعات نے کہاکہ بجلی مہنگی کرنا حکومت کیلئے آسان فیصلہ نہیں ہوتا۔ وزیراطلاعات نے کہاکہ موجودہ حکومت کو گردشی قرضہ ورثہ میں ملا اس کو ختم کرنا ہے۔ وزیراطلاعات نے کہاکہ بجلی مہنگی ہونے سے بجلی چوری میں بھی اضافہ ہوتا ہے، حکومت کی اولین ترجیح عوام کو سستی بجلی فراہم کرنا ہے۔معاون خصوصی شہزاد قاسم نے کہاکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ساتھ ٹیرف سے متعلق معاہدوں میں یکسانیت لانے میں وقت لگے گا۔ 

شبلی فراز

مزید :

صفحہ اول -