مسلم لیگ (ن)تحریک انصاف کی بی ٹیم بن گئی:آصف زرداری،سندھ حکومت کو چھیڑا گیا تو وفاقی حکومت بھی نہیں بچ پائے گی:رحمان ملک

مسلم لیگ (ن)تحریک انصاف کی بی ٹیم بن گئی:آصف زرداری،سندھ حکومت کو چھیڑا گیا ...

  

 کراچی(سٹاف رپورٹر،این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری نے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کوسیاسی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ مسلم لیگ(ن) نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ ناقابل اعتماد ہے،ہم ن لیگ کو ساتھ ملا کر طاقتور بناتے ہیں اور وہ ڈیل کر لیتے ہیں،اب پھر ن لیگ ڈیل کر کے تحریک انصاف کی بی ٹیم بن گئی ہے،پیپلز پارٹی کیلئے مقدمات نئی بات نہیں، ہمیشہ حالات کا مقابلہ کیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں ہفتہ کوپیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کیا۔ہفتہ کو پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی(سی ای سی)کااجلاس پارٹی چیئرمین بلاول بھٹوزرداری کی صدارت میں بلاول ہاؤس میں منعقد ہوا۔اجلاس میں وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ،سردار لطیف کھوسہ،سید قائم علی شاہ،رحمان ملک صاد ق عمرانی و دیگر فزیکل طور پر شریک ہوئے جبکہ سابق صدر آصف علی زرداری نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں کئی ایم فیصلے کیئے گئے۔ اجلاس میں کہ توشہ خانہ کیس میں سابق صدر آصف زرداری کی پیشی سے متعلق مشاورت بھی کی گئی،ذرائع کے مطابق آصف زرداری کاعدالت میں جانے کا فیصلہ کیاگیا۔سینٹرل ایگزیکٹوکمیٹی نے اے پی سی کو تاخیر کا شکار کرنے کا ذمہ دار ن لیگ کو قرار دے دیا۔دوران اجلاس شریک چیئر مین آصف علی زرداری نے ن لیگ کو ناقابل اعتماد قرار دیدیا۔ آصف زرداری نے ن لیگ پر دیگر قائدین کی تنقید کی تائید بھی کی۔ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کو ناقابل اعتماد قرار دیکر خود اے پی سی بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ قائدین کی تنقید کے بعد سی ای سی نے پیپلز پارٹی کی میزبانی میں اے پی سی کے انعقاد کی منظوری دے دی۔ اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کی اے پی سی میں ن لیگ کو بطور اپوزیشن جماعت مدعو کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔پیپلز پارٹی خود اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے مشاورت کے بعد اے پی سی کی تاریخ طے کرے گی۔ سی ای سی اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ ن لیگ اے پی سی میں آئے تو ویلکم، نہ آئے تو بھی اے پی سی ہوگی، پیپلز پارٹی کی چاروں صوبوں میں ازسر نو تنظیم سازی کا بھی فیصلہ کیا گیا۔دریں اثناسابق صدراور پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے سیاسی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ہفتہ کوانہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے  پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی۔پارٹی ذرائع کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور آج(اتوار)کراچی سے اسلام آباد پہنچیں گے۔ اجلاس کے بعد بلاول ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رحمان ملک نے کہاہیکہ ملک میں اس وقت سندھ حکومت ہی بہترپرفارم کررہی ہے، اسے چھیڑا گیا تو و وفاقی حکومت بھی بچ نہیں سکے اجلاس کے بعدپاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق چیئرمین سینٹ سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ اکنامک ٹیررازم کا مجوزہ قانون اسی حالت میں منظور کیا جاتا جس حالت میں حکومت نے پیش کیا تھا توتو ہر شہری کا جینا دشوار ہوجاتا، اٹارنی جنرل آف پاکستان کا کراچی سے متعلق بیان نئی بات نہیں ہے۔ کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کا خواب پورا نہیں ہوگا، کراچی سندھ کاحصہ ہے اور حصہ رہیگا،کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ کراچی کومرکزکے ماتحت کرکے اس کے ریونیوپرقبضہ کرے جوناممکن ہے۔ہفتہ کوبلاول ہاؤس میں پارٹی چیئرمین بلاول بھٹوزرداری کی صدارت میں کراچی میں پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔اجلاس کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنماؤں ں سینیٹر رضا ربانی، سینیٹر شیری رحمن اور سردار لطیف کھوسہ نے پریس کانفرنس کی اور اجلاس کے حوالے سے بریفنگ دی۔میاں رضا ربانی نے کہاکہ اجلاس میں گلگت بلتستان کے الیکشن، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف)سمیت چھ نکاتی ایجنڈے پر بات کی گئی ہے۔اجلاس میں موجودہ صورتحال اورنیب سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیاگیا،انہوں نے بتایاکہ اجلاس میں پنجاب کی صورتحال پربھی تبادلہ خیال کیا گیا۔میاں رضاربانی نے بتایا کہ نوید قمر نے ایف اے ٹی ایف قوانین پر اجلاس کے شرکا کو بریفنگ دی۔ انہوں نے کہاکہ دراصل وفاق کو پہلے پتا تھا پر جان بوجھ کر پارلیمنٹ میں بل دیر سے لایا گیا۔انہوں نے کہاکہ حکومت ایسی شقیں ڈال رہی ہے جس سے عام آدمی کے حقوق متاثر ہوں گے، اپوزیشن عوام کے حقوق پامال ہونے نہیں دے گی۔میاں رضاربانی نے کہاکہ  اکنامک ٹیررازم پر بنانے گئے قانون کی زد میں ہر آدمی آئے گا، ہر شخص کو خوف میں زندگی گزارنے جیسے قوانین بنائے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ درجن سے زیادہ تحقیقاتی ایجنسیاں بنی ہوئی ہیں،کنزیومرکی پرائیویسی کوختم کرنیکاقانون کالاقانون ہے،تحقیقاتی افسرکولامحدوداختیارات دینے کی بات کررہے ہیں۔رضا ربانی نے کہا کہ اگر یہ قانون اسی حالت میں آیا جیسا حکومت چاہتی ہے تو ہر انسان کا جینا دشوار ہوجائے گا، پیپلز پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتیں مل کر اور ڈٹ کر ان قوانین کا مقابلہ کریں گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی حکومت سندھ میں کبھی گورنر راج تو کبھی کراچی کو الگ کرنیکی بات کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہر روز 18 ویں ترمیم میں ردوبدل کی بات کرتی ہے۔ کراچی کے مسائل کا حل سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ سندھ حکومت اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے پوراکرے گی۔ کراچی سندھ کاحصہ ہے اورہمیشہ رہے گا۔ اٹھارویں ترمیم اورون یونٹ پرسمجھوتہ نہیں کریں گے۔سینیٹر رضاربانی نے کہا کہ اجلاس میں کہ توشہ خانہ کیس میں سابق صدر آصف زرداری کی پیشی سے متعلق مشاورت ہوئی ہے۔سابق صدر زرداری کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے،کورٹ کارویہ آصف زرداری کے ساتھ نامناسب ہے، پارٹی رہنما پیشی کے دوران جانا چاہتے ہیں لیکن آصف زرداری نہیں چاہتے کہ پیشی کے دوران کارکنان اکھٹے ہوں۔رضا ربانی نے کہا کہ پیپلزپارٹی ابتداسے نیب گردی کاشکارہے،پیٹریاٹ بھی نیب کے ذریعے بنائی گئی تھی،ہیومن رائٹ واچ نے جونیب کی رپورٹ دی ہے اس میں ہمارے خدشات کی عکاسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سندھ کا حصہ ہے اور رہے گا کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان میں الیکشن ملتوی کئے گئے، اب کورٹ کے حکم پر دوبارہ3 ماہ میں انتخابات ہوں گے۔اس موقع پرسردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں آصف زرداری نے عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقدمے کا دفاع اور آئندہ کیلئے استثنی مانگیں گے۔رضاربانی نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں پنجاب میں پارٹی آرگنائزیشن کی صورتحال پرتبادلہ خیال ہوا۔ کراچی کی صورتحال پراٹارنی جنرل کے بیان پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

زرداری

مزید :

صفحہ اول -