مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے کی اجازت نہ ہونے کا تاثر غلط:وائٹ ہاؤس

مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے کی اجازت نہ ہونے کا تاثر غلط:وائٹ ہاؤس

  

 واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) یہ تاثر غلط ہے کہ مسجد اقصیٰ حملے کی زد میں ہے اور وہاں مسلمانوں کو نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔ یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان امریکہ کی کوششوں سے معاہدہ طے ہونے اور سفارتی تعلقات قائم کرنے پر اتفاق رائے کے بعد وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری ہونے والی ایک ”فیکٹ شیٹ“ میں مسجد اقصیٰ کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ محض انتہا پسندوں کا پراپیگنڈہ ہے اور اسکا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ”فیکٹ شیٹ“ میں بتایا گیا ہے کہ یو اے ای اور اسرائیل کا نیا معاہدہ صدر ٹرمپ کی اس ”وژن“ کے عین مطابق ہے جو انہوں نے مشرق وسطی میں قیام امن کے بارے میں پیش کی ہے۔ صدر ٹرمپ کی اس وژن میں دو قومی نظریئے کی حمایت کی گئی ہے جس کے تحت اسرائیل اور فلسطین دونوں آزاد اور خود مختار حیثیت میں ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کریں گے۔  اسرائیل اصولی طور پر اس سے متفق ہوگیا ہے۔ فلسطینی لیڈروں کی خواش اس وژن میں شامل ہے لیکن انہیں اس کی تفصیلات پر اس وقت تحفظات ہیں اور امریکہ کے تحت ہونے والے امن مذاکرات کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ وائٹ ہاؤس ذرائع نے واضح کیا ہے کہ یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ صرف ان ممالک تک محدود نہیں ہے۔ اس کے مشرق وسطیٰ اور پوری اسلامی دنیا پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ اس معاہدے میں امریکہ کے دباؤ کے تحت اسرائیل نے اعلان کردیا ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقے پر اپنی موجودہ حاکمیت کے دعوے سے دستبردار ہو رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اصولی طورپر یہ تسلیم کر چکا ہے کہ تمام مقبوضہ علاقہ فلسطین کو واپس ملے گا اور جہاں قائم ہونے والی فلسطینی ریاست کی جائز آزاد اور خود مختار حیثیت کو اس نے منظور کرلیا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ فلسطین بھی اسرائیل کی ریاست کو تسلیم کرلے۔ وائٹ ہاؤس ذرائع نے کہا ہے کہ یو اے ای اور اسرائیل نے مفاہمت کے جس جذبے کا اظہار کیا ہے اس کا دائرہ مشرق وسطی اور دیگر اسلامی ملکوں تک پھیلنے جارہا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ اسلامی ملکوں کو اصل اختلاف یہ تھا کہ وہ فلسطین کے مقبوضہ علاقے اسے واپس کرکے اس کی آزاد اور خود مختار حیثیت کو تسلیم نہیں کرتا۔ اور اب اگر اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرتے ہوئے اس کی آزاد حیثیت کو منظو کرلیتا ہے تو سارا اختلاف ختم ہو جاتا ہے۔ اس مثبت پیش رفت کے باعت توقع کی جارہی ہے کہ آئندہ ایک سال کے دوران پاکستان سمیت دیگر اسلامی ممالک یو اے ای کی تقلید کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ اسی نوعیت کے معاہدے کرلیں گے۔ کیونکہ ایک سال کے اندر فلسطین کی آزاد ریاست کا اصولی خاکہ طے ہو جائے گا۔ ویسے بھی یو اے ای کا پاکستان، خلیجی ممالک اور مشرق وسطی کی دوسری ریاستوں پر گہرا اثر ہے جو اس کی درخواست پر اس کی تقلید کرنے کو تیار ہو جائیں گے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ اس وقت آگیا ہے کہ مشرق وسطی اور دیگر اسلامی ممالک امن، سلامتی اور اپنے عوام کو ترقی کے نئے مواقع سے روشناس کرنے کیلئے نیا انداز اختیار کیا جائے۔ یو اے ای اور اسرائیل کے معاہدے نے پورے مشرق وسطیٰ میں امن اور خوشحالی کے قیام کی نئی امید پیدا کر دی ہے۔

وائٹ ہاؤس

مزید :

صفحہ اول -