آئی پی پیز کے ساتھ نیا معاہدہ

آئی پی پیز کے ساتھ نیا معاہدہ

  

وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے آئی پی پیز کے ساتھ بجلی کی خرید کا نیا معاہدہ کیا ہے،جس کے نتیجے میں بجلی کی خریداری اب کم نرخوں پر ہو گی اور سرکلر ڈیٹ بھی کم ہو جائے گا۔ وزیراعظم کے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ طویل مذاکرات کے بعد ہم جس معاہدے پر پہنچے ہیں اس کی تفصیلات سے متعلقہ حکام جلد آگاہ کریں گے،معاہدے سے حکومت کو400 ارب روپے سالانہ کی بچت ہو گی اور عوام کو سستی بجلی دستیاب ہو گی۔اُن کا کہنا تھا کہ ہمارا اگلا ہدف ترسیلی نظام میں اصلاحات اور بجلی چوری روکنا ہے، نیا معاہدہ1997ء کے اس معاہدے کی جگہ لے گا جو بے نظیر بھٹو کے دور میں کیا گیا تھا، جس کی خاص بات یہ ہے کہ حکومت صرف اُسی بجلی کی قیمت ادا کرے گی جو وہ خریدے گی، جبکہ پرانے معاہدے میں حکومت کمپنیوں کو ان کی استعداد کے مطابق ادائیگی کی پابند تھی۔ بجلی خریدنے کے لئے ڈالر کی قیمت 120روپے مقرر کی گئی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا ہے سابقہ حکومتوں نے بجلی کمپنیوں کے ساتھ ایسے معاہدے کئے ہوئے تھے، جن کے ذریعے بہت مہنگی بجلی مل رہی تھی اور ہماری صنعتیں خطے کے دوسرے ممالک کی صنعتوں کا مقابلہ نہیں کر پا  رہی تھیں،عوام کو بھی مہنگی بجلی مل رہی تھی، گردشی قرضے بڑھتے جا رہے تھے، کیونکہ جس قیمت پر ہم بجلی لے رہے تھے اس سے کم پر صارفین کو فراہم کر رہے تھے،اس طریقے سے کوئی بھی کاروبار نہیں چل سکتا۔اُن کا کہنا تھا کہ لائن لاسز اور چوری کو کم کرنے کے لئے حکومت اصلاحات کا پیکیج لا رہی ہے۔

آئی پی پیز کے ساتھ اُس وقت کی حکومت نے جو معاہدے کئے تھے اُن پرنکتہ چینی بھی ہوئی تھی اور مسلسل ہو رہی تھی۔ عام خیال یہ تھا کہ مہنگی بجلی کا یہ سودا کرنے والوں نے اپنے مفاد میں غلط فیصلے کئے،اتنی مہنگی بجلی نہ صرف قومی خزانے پر ناروا بوجھ ہو گی، بلکہ صارفین بھی اس قیمت پر بجلی خریدنے کے متحمل نہیں ہو سکیں گے،لیکن نکتہ چینی کے علی الرغم یہ معاہدے ہو گئے، مہنگی بجلی بھی خریدی جانے لگی، پاور پروڈیوسرز اور دوسرے فائدہ اٹھانے والوں کی تجوریاں بھرنے لگیں۔جنرل پرویز مشرف نے جب اقتدار سنبھالا تو اس معاہدے پر نظرثانی کے لئے مذاکرات کئے گئے، اُس وقت کی حکومت نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ حکومت نے کچھ شرائط نرم کرائی ہیں، جن سے بچت بھی ہو گی اور بجلی بھی سستی ملے گی، تاہم جنرل پرویز مشرف کے تقریباً دس سالہ دور میں یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوا اور بجلی مہنگی ہی رہی۔ پیپلزپارٹی کے اگلے دورِ حکومت(2008ء تک2013ء) میں تو صورتِ حال بدتر سے  بدترین ہو گئی، بجلی ہی مہنگی نہیں ہوئی، لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھا اور اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ بھی ہوئی۔کہا جاتا ہے کہ2013ء کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کی شکست کی بہت سی وجوہ میں سے ایک وجہ طویل لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بھی تھا، غالباً اسی لئے مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے اقتدار سنبھالا تو اس نے بجلی کی پیداوار پر خصوصی توجہ دی اور جب اس نے اقتدار چھوڑا تو مُلک میں بجلی کی پیداوار ضرورت سے زائد تھی اور لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا تھا،مزید برآں اِس سارے دور میں بجلی کی قیمتوں میں بڑی حد تک استحکام رہا، لائف لائن صارفین کو تو سبسڈی اب تک دی جا رہی ہے،لیکن300یونٹ سے زائد استعمال کرنے والے ہر قسم کی سبسڈی سے محروم ہو چکے ہیں، بجلی کی قیمتیں بھی بڑھ چکی ہیں اور فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر صارفین کو الگ سے زیر بار کیا جا رہا ہے۔ ابھی چند روز پہلے مسلم لیگ(ن) کے رہنما احسن اقبال نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایک بل لہرایا،جس میں بجلی کی قیمت تو معمولی تھی،لیکن ایڈجسٹمنٹ کے نام پر کئی ہزار روپے ڈالے گئے تھے۔ اسی طرح صارفین سے این جی ایس بھی اب تک وصول کیا جا رہا ہے، حالانکہ یہ پراجیکٹ بھی مسلم لیگ(ن) کے آخری دور میں چل پڑا تھا اور سستی بجلی بھی پیدا کر رہا ہے،لیکن اس کا فائدہ عوام تک منتقل نہیں ہوا۔ اب بھی صارفین سے اس کے نام پر سرچارج وصول کرنا زیادتی ہے، جس کی جانب حکومت کوئی توجہ نہیں کر رہی۔

اس وقت بجلی اگرچہ ضرورت کے مطابق پیدا ہو رہی ہے، تاہم طرفہ تماشا یہ ہے کہ کئی کئی گھنٹے کی لوڈشیڈنگ اس وقت بھی جاری ہے،البتہ اس کا نام اب تبدیل کر کے لوڈ مینجمنٹ رکھ دیا گیا ہے اور یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ترسیلی نظام مسلسل بجلی سپلائی کا متحمل نہیں ہو سکتا، اِس لئے ہر چند گھنٹے بعد اس کی تاروں کو ”ٹھنڈا“ کیا جاتا ہے، ٹرپنگ کے نام پر بھی ہر دو تین گھنٹے بعد آدھ پون گھنٹہ بجلی بند ہوتی ہے، گویا کسی نہ کسی انداز میں لوڈشیڈنگ جاری ہے،حالانکہ لاک ڈاؤن میں صنعتیں اور تجارتی ادارے بند تھے، اب بھی سکول اور کالج نہیں کھلے اور تجارتی مراکز بھی رات کو جلد بند ہو جاتے ہیں،اس طرح ”فالتو بجلی“ کی موجودگی میں لوڈشیڈنگ سمجھ سے بالاتر  ہے۔

آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدوں سے حکومت کو جو400ارب روپے بچنے کا امکان ہے اس کا اگر تھوڑا سا حصہ بھی صارفین کو منتقل کیا جائے تو بجلی سستی ہو سکتی ہے، اسی طرح بجلی کے بلوں میں جو مختلف اقسام کے ٹیکس وصول کئے جاتے ہیں ان کا خاتمہ بھی کر دیا جائے تو بجلی کے نرخ مزید کم ہو سکتے ہیں،لیکن یہ تبھی ہو گا جب حکومت نیک نیتی کے ساتھ بجلی سستی کرنا چاہے گی،ابھی تو چند روز پہلے ہی نرخ بڑھائے گئے ہیں اور نرخوں کا ایک نیا فارمولا بھی لاگو کیا جا رہا ہے،جس کے تحت سردیوں میں بجلی مہنگی کی جائے گی، کیونکہ اُس وقت بجلی کا استعمال کم ہوتا ہے، اِس لئے اس کی سزا بھی صارفین ہی بھگتیں گے۔یہ بھی اپنی جگہ ایک انوکھا تجربہ ہو گا،یعنی کم بجلی استعمال کرنے والوں کو ایک طرح سے زیادہ نرخوں کی صورت میں ہرجانہ ادا کرنا پڑے گا۔ حکومت ایک طرف آئی پی پیز  سے ”کیپسٹی چارجز“ ختم کرا رہی ہے کہ یہ غیر منصفانہ ہیں، دوسری طرف صارفین سے ایسے نرخ وصول کرنا چاہتی ہے جنہیں کسی صورت منصفانہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ وزیراعظم نے خود کہا ہے کہ مہنگی بجلی کی وجہ سے ہماری صنعتیں دوسرے ممالک کی صنعتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اردگرد کے ممالک میں سستی بجلی میسر ہے۔ بھارتی پنجاب میں تو زرعی پیداوار میں جو اضافہ ہوا ہے وہ ممکن ہی سستی بجلی کی وجہ سے ہوا ہے، کیونکہ کسانوں کو ٹیوب ویلوں کے ذریعے وافر پانی میسر آیا تو انہوں نے اپنے ہاں زرعی انقلاب برپا کر دیا۔

جن پاور پروڈیوسرز نے نئی شرائط پر حکومت کے ساتھ معاہدہ کیا ہے انہوں نے بھی کوئی خسارے کا سودا نہیں کیا۔ وہ ربع صدی میں مہنگی بجلی بیچ بیچ کر کھربوں روپے کما چکے ہیں،اب اُن کی پیداواری لاگت ویسے بھی کم ہو چکی ہے، اِس لئے انہوں نے سوچا ہو گا کہ اب نئے معاہدے کر کے کچھ ”نیک نامی“ بھی کما لی جائے تو کیا مضائقہ ہے۔ جب یہ معاہدے ہوئے اُس وقت ڈالر کی قیمت موجودہ کے مقابلے میں ایک تہائی تھی،جس حکومت نے اُن سے مہنگی بجلی کے معاہدے کئے وہ بھی اب رخصت ہو چکی،اُس حکومت کے کئی عہدیدار اپنے کردہ اور ناکردہ گناہوں کی سزا بھی بھگت رہے ہیں،لیکن کسی حکومت نے اُن پر مہنگی بجلی خریدنے کے معاہدے کرنے کی فردِ جرم عائد نہیں کی۔ موجودہ حکومت بھی یہ تو کہتی ہے بجلی مہنگی خریدی گئی، لیکن ذمے داروں سے اِس ضمن میں کسی پوچھ تاچھ کی ضرورت محسوس نہیں کر رہی، شاید اِس لئے کہ حکمران تو سابق ہو گئے، بجلی بنانے اور بیچنے والے تو اپنے اپنے مقام پر موجود ہیں اور اُن میں سے کچھ موجودہ حکومت کا بھی حصہ ہیں،ایسے میں اُن کی جانب کون بُری نظر سے دیکھ سکتا تھا؟ اِس لئے غنیمت ہے کہ اُن کے ساتھ نئی قیمتوں کا معاہدہ ہو گیا، ماضی میں انہوں نے جو کمایاں کر لیں، ان کا حساب بھی صاف ہو گیا اور سارے پرانے گناہ نئے معاہدے نے دھو ڈالے۔

مزید :

رائے -اداریہ -