”آداب ادب“ امریکہ میں لاہور اور سید اکمل علیمی

”آداب ادب“ امریکہ میں لاہور اور سید اکمل علیمی
”آداب ادب“ امریکہ میں لاہور اور سید اکمل علیمی

  

استحکام، عدم استحکام، معیشت بحال، معیشت تباہ، احتساب، انتقام، سیاست،لاتعلقی، بے روزگاری، گرانی، خرابی ئ  صحت اور کورونا بہت ہو چکا، قومی مفاہمت کی بات بھی بار بار کر لی۔ آج ذرا ”تنہا“ چھوڑ دینے کو دِل چاہتا ہے،کیوں نہ بعض ہلکی پھلکی باتیں کر لی جائیں، اور کچھ پرائی ملاقاتیں اور بڑوں کی مہربانی یاد کر لی جائے، کہ آج کے دور میں تو ادب و آداب کا بھی دھیان نہیں رکھا جاتا، ہم پاکستان کی دوسری نسل کے لوگ بھی معدوم ہوتے جا رہے ہیں، اور اس مملکتِ خداداد کی تیسری نسل پروان چڑھ کر چوتھی نسل کو تیار کر رہی ہے۔ توقعات بہت ہیں، دکھ یہ ہے کہ چوتھی نسل کے آ جانے تک بھی ہم اپنی صحیح منزل کے لئے درست راستے کا تعین نہیں کر پائے، بلکہ اخلاقیات کا جو معیار ہم سے پہلی نسل (قربانیاں دے کر ملک حاصل کرنے والی) اور ہمارے دور تک تھا، وہ بھی ہوا میں اڑا دیا گیا ہے۔ ادب میں بھی روایات تھیں، بلکہ زیادہ بہتر اور موثر آداب تھے۔ ہم جب1963ء میں روزنامہ ”امروز“ سے منسلک ہوئے تو ایک سے ایک تجربہ کار شخصیت سے واسطہ ہوا، ظہیر بابر ایڈیٹر تھے۔ حمید اختر اور حمید جہلمی تھے، عبداللہ ملک، حمید ہاشمی اور سید اکمل علیمی تھے، اور یہ سید اکمل علیمی(اللہ ان کو صحت ِ کامل عطا فرمائے) ہمارے دوست اور استاد ہیں، وہ ان دِنوں ورجینیا (امریکہ) میں علیل ہیں،ان کو پارکنسن کا عارضہ لاحق ہے، باقی حضرات اللہ کے حضور حاضر ہو چکے ظہیر بابر نے یہ فرض اپنے ماموں احمد ندیم قاسمی کی ادارت سے علیحدگی کے بعد سنبھالا،وہ اداریے کے علاوہ ہفتے میں دو کالم ”رفتار عالم اور رفتار وطن“ کے عنوان سے لکھتے تھے، حالات پر ان کی بہت گہری نظر تھی اور ان کے تجزیئے قابل ِ غور ہوتے۔ حمید اختر نوٹ اور ظہیر بابر کے اداریئے میں نیابت کرتے، جبکہ حمید جہلمی پس منظر کے علاوہ امروز فردا بھی لکھتے تھے۔عبداللہ ملک چیف ایڈیٹر اور سید اکمل علیمی ان کے نائب تھے اور ہفتہ وار کالم ”یہ لاہور ہے“ کے عنوان سے لکھتے۔جو اب ہم ان کی خصوصی اجازت حاصل کر کے اسی عنوان سے لکھ رہے ہیں،کہ جب روزنامہ ”پاکستان“ میں محترم مجیب الرحمن شامی نے ہمیں کالم لکھنے کی ترغیب اور اجازت دی تو ہم نے باقاعدہ اکمل صاحب سے اجازت حاصل کر کے یہ عنوان مستعار لیا، کہ وہ امریکہ منتقل ہو چکے اور وہاں سے ”مکتوب واشنگٹن“ کے عنوان سے کالم لکھ کر بھیجتے تھے، جن دِنوں ہم نے روزنامہ ”امروز“ سے اپنے اس کیریئر کا آغاز کیا تو وہ ایسا دور تھا، جب کالم نویس تصویر تو کجا اپنا نام بھی نہیں لکھتے تھے، اس کی مثال امروز کا فکا ہی کالم ”حرف و حکائت“ اور روزنامہ ”نوائے وقت“ سر راہے“ ہے۔ امروز میں یہ پہلے درویس ایڈیٹر چراغ حسن حسرت سندھ باد حجازی کے قلمی نام سے لکھتے اور پھر یہ فریضہ احمد ندیم قاسمی نے سنبھالا، کچھ عرصہ سید اکمل علیمی اور منو بھائی نے بھی لکھا، اس وقت تک نام لکھنے کا رواج ہو گیا تھا، تاہم ”سر راہے“ اب تک نام کے بغیر ہے، حالانکہ ایک طویل مدت تک محترم وقار انبالوی لکھا کرتے تھے، ہمارے ایک اور بزرگ احمد بشیر بھی بڑے لکھاری تھے، ان کی ایک اضافی خوبی یہ تھی کہ وہ اپنی تحریروں میں  ہندی الفاظ اس خوبصورتی سے شامل کرتے تھے جیسے موتی پرو دیئے جائیں، یہ سب عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ ایسا دور تھا، جب زبان و بیان کا دھیان رکھا جاتا تو ایک دوسرے کا احترام بھی ہوتا تھا، اس دور کے آغاز شورش کاشمیری جیسے اہل لکھاری بھی دھوم مچائے ہوئے تھے، اس سارے احوال کو تحریر کرنے کا خاص مقصد ہے، وہ یہ کہ اس دور میں ادب میں چوری ہوئی،لیکن خال خال تھی اور ادیب حضرات اپنی ہفتہ وار میٹنگوں میں پکڑ لیتے اور متعلقہ حضرات کو شرمندہ ہونا پڑتا تھا، لیکن آج کا دور ایسا آ گیا کہ دن دیہاڑے نہ صرف عنوان چوری ہوتے ہیں،بلکہ مضامین کو کالم کا نام دے کر پیرے بھی چرا لئے جاتے ہیں اور اس پر کسی دُکھ کا بھی اظہار نہیں ہوتا، خود ہمارے اپنے اخبار میں ایسا ہو جاتا اور ہم شرمندہ شرمندہ سے ہیں۔یہ چلن عام ہے کہ ایک دوسرے کا ”ادبی متاع“ چرا کر بھی شرمندگی نہ ہو، حالانکہ آج کے نوجوانوں میں بھی عمدہ اور تحقیقی تحریریں لکھنے والوں کی تعداد کچھ کم نہیں، ہماری تو خواہش اور استدعا ہے کہ”آداب ادب“ کو ملحوظ خاطر ضرور رکھا جائے۔

یہ تو دِل کے پھپھولے جلانے والا سلسلہ ہے اور تھا،اب کچھ بات کر لی جائے، لاہور کی، تو قارئین! ایک تو یہ لاہور ہے، جہاں ہم پیدا ہوئے اور رہ بھی رہے ہیں، لیکن ایک لاہور امریکہ میں بھی ہے، جو ورجینیا کی فیئر فیکس کاؤنٹی سے قریباً دو ڈھائی سو میل کے فاصلے پر ایک خوبصورت گاؤں ہے۔ یہ گاؤں ایک صاف، شفاف جھیل کے کنارے، سبزہ سے ڈھکے خوبصورت کاٹیجوں پر مشتمل ہے، جب ہم1988ء میں سید اکمل علیمی کی معیت میں یہاں گئے تو حیران رہ گئے، گاؤں کے نام کے ہجے (انگریزی) مکمل طور پر وہی ہیں، جو ہمارے شہر لاہور کے ہیں،ان دِنوں وہاں ایک ٹک شاپ بھی تھی، اب تو یہ گاؤں اور بھی ترقی کر چکا ہے۔ سید اکمل علیمی بہت ہی مہمان نواز شخصیت ہیں، وہ وائس آف امریکہ میں تھے اور یہ امریکی لاہور انہی کی دریافت ہے، جب بھی کوئی پاکستان سے جاتا اور ان کی مہمان نوازی سے مستفید ہوتا تو وہ اسے اس لاہور اور کے ایف سی کی سیر ضرور کراتے، چنانچہ جب ہم گئے اور انہی کے ہاں قیام بھی کیا تو روزانہ دو ڈھائی سو میل کی رائیڈ ہوتی تھی، ایک دن ہم نے ”لاہور“ میں گذارا تو ایک روز وہ ہمیں ”کنٹکی“ کاؤنٹی بھی لے کر گئے، جہاں کے ایف سی کی مرکزی برانچ ہے۔ یہ مخفف ہے، پورا نام ”کنٹکی فرائیڈ چکن“ بنتا ہے۔ اکمل صاحب نے یہاں سے چکن لیا، ہمیں دعوت دی،لیکن ہم نے بصد ادب معذرت کر لی کہ دینی پس منظر(بچپن میں تعلیم کا آغاز مسجد میں سپارہ پڑھنے سے ہوا تھا) کی وجہ سے محض اس لئے نہ کھایا کہ ذبیحہ نہیں ہوا ہو گا،آج ہمارے پورے ملک میں کے ایف سی کی برانچیں ہیں، یہ بھی ہمیں اکمل صاحب ہی نے بتایا تھا کہ جو بھی مہمان آئیں وہ ان کو یہ چکن کھلاتے ہیں اور وہ کھا بھی لیتے ہیں۔

قارئین! یاد کرنے کو تو بہت کچھ ہے، آج تو یہ گذارش ہے کہ ہمارے دوست، بڑے بھائی اور استاد محترم سید اکمل علیمی کی صحت یابی کے لئے دُعا کریں، ہمیں ان سے بات کئے عرصہ گذر گیا کہ ان کی بولنے سمیت جسمانی حرکات ”سلو“(Slow) ہو گئی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -