کتنے مانوس صیاد سے ہو گئے

کتنے مانوس صیاد سے ہو گئے
کتنے مانوس صیاد سے ہو گئے

  

 میرے چھوٹے پھوپھی زاد بھائی جو کرنیلی کے عہدے سے حال ہی میں ریٹائر ہوئے بچپن میں گڈُو کہلاتے تھے۔ ایک روز گھر کی گھنٹی بجی تو دروازہ اُنہیں کھولنا پڑ گیا۔ واپس آ کر کہنے لگے: ”باہر ابو جی سے ملنے نذیر قریشی آیا ہے“۔ ماں نے سمجھایا کہ گڈُو، بڑوں کا نام یوں نہیں لیا کرتے بلکہ کہتے ہیں چاچا جی نذیر قریشی۔ فرماں بردار بچے نے یہ نصیحت پلے باندھ لی۔ کچھ ہی دن گزرے ہوں گے کہ اردو کی چوتھی کتاب پڑھتے ہوئے کہیں پاکستان کا ذکر آ گیا۔ مَیں نے پوچھا ”پاکستان کِس نے بنایا تھا؟“ جواب ملا: ”چاچا جی قائدِ اعظم نے“۔ میری ہنسی نکل گئی۔ گڈُو صاحب میرے ہنسنے پہ حیران تھے۔ مَیں نے وجہ جاننا چاہی تو ایک معصوم مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگے: ”بھائی جان، امی نے خود ہی تو کہا تھا کہ بڑوں کا نام یوں ہی نہیں لیتے۔ انہیں چاچا جی کہتے ہیں“۔

 یہ واقعہ اِس لیے یاد آیا کہ طویل کورونا چھٹیوں کے دوران میری یومیہ سرگرمیوں میں پرائمری اسکول کے دو اسٹوڈنٹس کو انگریزی پڑھانے کی رضا کارانہ مصروفیت بھی شامل ہو چکی ہے۔ ملحقہ کوارٹر میں مقیم دیرینہ خدمت گار حفیظ خان کے بچوں کو گھر پہ سائنس اور میتھ پڑھانے کی ابتدائی ذمہ داری بیگم صاحبہ نے سنبھالی تھی۔ پانچویں اور تیسری جماعت میں زیرِ تعلیم صائم اور مریم انہیں پہلے ہی دن سے بہت ذہین لگے۔ البتہ سائنس اور ریاضی کے بنیادی تصورات دماغ میں بٹھا لینے کے باوجود سوالوں کی عبارت کو سمجھنا دونوں بچوں کو دشوار لگتا۔ چنانچہ جمع تفریق درست ہوتے ہوئے بھی جواب مجموعی طور پہ ٹھیک نہ نکلتا۔ پچاس سال کے وقفے سے سوچا کہ انگریزی سکھانے کے لیے کیوں نہ مَیں بھی ہر روز آدھ گھنٹہ اِن پہ پرانا گرامر ٹرانسلیشن والا طریقہ آزما کے دیکھوں۔ یہ دلچسپ تجربہ ثابت ہو رہا ہے۔

 دلچسپ اِس لیے کہ ایک معمولی سے نجی اسکول کے طالب علم ہوتے ہوئے بھی دونوں کا ذخیرہ ء الفاظ میرے اپنے دَور کے بچوں سے کم نہیں۔ کیپیٹل اور سمال کا فرق، کوما فُل سٹاپ، حروف کا سائز اور شکلیں، سب بڑی حد تک درست۔ اِس کے علاوہ لکھنے کی رفتار خاصی۔ عمر میں دو سال کے فرق کے سبب کسی کامپلیکس سے بچانے کی خاطر چونکہ دونوں کے لیے میرے اسباق جدا جدا ہیں، سو لسانی پراگریس پہ بھی توجہ الگ الگ رکھی جا رہی ہے۔ صائم اِس قابل ہو گیا ہے کہ تھرڈ پرسن سنگو لر یا واحد غائب کی اصطلاحا ت استعمال کیے بغیر محض مثالوں کی مدد سے اُس کے آگے یہ کہانی ڈال دی جائے۔ پھر جب بنیادی بات اُس کی سمجھ میں آنے لگے تو اِن صیغوں کے لیے ذرا مشکل ٹرم بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ یعنی تھوڑی تھوڑی پریکٹس، تھوڑی تھوڑی تھیوری مگر ذہنی طور پہ زدو کوب کیے بغیر۔ 

 تیسری کلاس والی مریم کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ اُس نے اشارہ ء قریب اور اشارہء بعید کا فرق تو آسانی سے سمجھ لیا۔ یہ بھی کہ اردو میں کسی اسم سے پہلے ’ایک‘ کا لفظ آئے یا نہ آئے مگر انگریزی میں ’بُک‘، ’واچ‘ یا ’مینگو‘ سے پہلے عموماً ’اے‘ لگانا ہی پڑے گا۔ یہ تو صحیح ہو گیا۔ اب اگر مجھے تھوڑی سی علمیت جھاڑنے کی اجازت دیں تو عرض کروں کہ لسانی تدریس میں ایک خطرہ ’مدر ٹَنگ انٹر فئیرنس‘ کا بھی ہوا کرتا ہے۔ یعنی نئی زبان سیکھنے کے عمل میں ماں بولی کے پیرایوں کا رکاوٹ بن جانا۔ جیسے مَیں نے بچپن میں سورج مشرق سے نکلنے کا ترجمہ ’فروم دی ایسٹ‘ کیا تو میرے کزن نے اِسے ’اِن دی ایسٹ‘ سے بدل کر مجھے حیران کر دیا تھا۔ مریم کو انگریزی پڑھاتے ہوئے یہ عجیب انکشاف ہوا کہ انگریزی پڑھنے میں اردو مزاحم نہیں بلکہ اردو سے وابستہ تصورات کو سمجھنے میں انگریزی رکاوٹ ڈال رہی ہے۔ 

 اگر اِسے گپ نہ سمجھیں تو مریم کو یہ بات مجھے شعوری طور پہ سمجھانا پڑی کہ انگریزی بولتے ہوئے ’آ بُک‘، ’آ واچ‘ درست تلفظ سہی، لیکن اگر کسی وقت ’آ‘ کو ’اے‘ اور ’دا‘ کو ’دی‘ کہہ دیں تو بھی کام چل سکتا ہے۔ رولا تو عین یومِ آزادی پہ ’اے‘ اور ’این‘ کا اختلاف سمجھاتے ہوئے پڑا۔ میرا مقصد تھا کہ گرامر ٹرانسلیشن والے طریقِ کار کے مطابق کسی کتاب کی طرف اشارہ کروں گا کہ یہ کیا ہے۔ جواب ملے گا کہ کتاب ہے۔ اب اِس کی انگلش بتاتے ہوئے کہوں گا: ”شاباش۔ دِس اِز آ بُک“۔۔۔ پھر پھلوں کے نام لوں گا ’این ایپل‘، ’این اورنج‘، ’آ مینگو‘۔ پہلا سوال کیا اور سُننا پڑا کہ ”بُک“۔ ”بیٹا، اردو میں کتاب کہتے ہیں“۔ ”اچھا“۔ اب ٹوکری کی طرف اشارہ کیا۔ جواب ملا ”باسکیٹ“۔ سیب ہاتھ میں لیا، آواز آئی ”ایپل“۔ پردہءٗ غیب سے کوئی کہہ رہا تھا ”ملک جی، اسکیم فیل ہو گئی“۔ 

 تا دمِ تحریر جاری کورونا آئسولیشن کے پیشِ نظر آپ کے مایوس مریض کی آخری علاج گاہ اُس کا گھر ہے اور حتمی معالج گھر کی مالکن۔ چنانچہ ارشاد ہوا کہ روایتی اندازِ تدریس کو ذرا سا تبدیل کر کے دیکھیں۔ ”آپ تو پہلے پہل یونیورسٹی کی آن لائن کلاسوں کا سُن کر بھی پریشان ہو گئے تھے، لیکن دو تین لیکچرز کے بعد روانی سے کام چل پڑا“۔ اِس پہ خیال آیا کہ یہی کچھ چھ سال پہلے اُس وقت بھی ہوا تھا جب پہلی مرتبہ مالکن کی آٹو میٹک کار چلا کر گھر لانی پڑی۔ مَیں نے کار ڈیلر سے کہا کہ ایک جملے میں یہ نئی کار ڈرائیو کرنے کی ترکیب بتا دیں۔ کہنے لگے ”بس یہ فرض کر لیجئے کہ آپ کا بایاں پاؤں ہے ہی نہیں“۔ سبحان اللہ، کیا پیاری حکمتِ عملی تھی۔ دائیں ٹانگ سے آغازِ سفر اور گاڑی روکنا چاہیں تو وہی دائیں ٹانگ اسپیڈ پیڈل کی بجائے بریک پیڈل پر۔ یہ تو وہی اصول ہوا کہ اپنے سے بڑا ہر آدمی چاچا جی ہے۔ 

کمپیوٹر پہ زُوم پروگرام کے ذریعے پڑھانا شروع کیا تو محسوس ہوا کہ سیلفی کھینچنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ ایک تو کسی بھی پاپولر ٹاک شو کے برعکس محض سنگل کیمرا شُوٹ۔ پھر لانگ شاٹ، میڈیم اینگل، اوور دا شولڈر، کسی موومنٹ کی گنجائش ہی نہیں تھی۔ اب اسٹوڈنٹس پہ اپنی عوامی شخصیت کا عکس ڈالوں تو کیسے؟ اپنے اِس امیج کو برقرار رکھنا ایک چیلنج بن گیا کہ ہمارے شاہد صاحب تو بڑے شغلی استاد ہیں۔ اندرونی حالات خراب سے خراب تر ہو رہے تھے کہ تخلیقی ذہن کو پھر ایک ’ون لائینر‘ سوجھ گیا۔ ”آپ لیپ ٹاپ پہ نہیں، کلاس روم کے اندر موجود ہیں“۔ ہم نے کہا ہو جائے۔ اور سب یوں ہونے لگا جیسے مایہ ناز صدا کار ضیا محی الدین بی بی سی اردو پہ مکمل حرکات و سکنات کے ساتھ ریڈیو ڈرامہ کیا کرتے تھے۔ اسکرپٹ کی رواں ادائیگی، الفاظ کی بر محل معنویت، آواز کا زیر و بم۔۔۔ سلام علیکم۔ 

 یوں لیکچر شروع ہوئے اور ہوتے رہے بلکہ ایک ایک کر کے ہر تحریری اسائنمنٹ، پھر مڈ ٹرم ٹیسٹ اور اللہ کی مہربانی سے فائنل امتحان۔ متن، سوالات کے مجموعی ڈھانچے اور اسلوب کی امکانی تصحیح کرکے سارا مواد واپس ای میل کر دیا جاتا۔ جس کسی نے کم نمبروں کی شکایت کی اُس کی اغلاط کی نشاندہی زیادہ تفصیل سے کر دی، ساتھ یہ وضاحت بھی کہ اگلی مرتبہ کن باتوں کا خیال رکھیں تو امتحانی کارکردگی بہتر ہو جائے گی۔ اِس دوران جنوبی وزیرستان میں مقیم ایک طالب علم کورونا کے مریضوں کی بطور رضا کار تیمارداری کرتے ہوئے بیمار پڑا اور پھر شفایاب ہوا۔ ایک کی اہلیہ کراچی کے ہوائی حادثے میں جان کی بازی ہار گئیں۔ ایک اور طالبہ تھیں جن کے والد آبائی گاؤں میں انتقال کر گئے۔ اِن متاثرہ امیدواروں کے لیے تحریری کام جمع کرانے کی میعاد چند روز بڑھا دی تھی۔ ایک کو چھوڑ کر سب نے کام مکمل کیا۔

 رہا یہ سوال کہ اِس سارے عمل میں خود ٹیچر کو کتنی دقت ہوئی تو خدا جانتا ہے کہ یونیورسٹی کی سطح پہ کوئی دقت نہیں ہوئی۔ البتہ، جیسا کہ پہلے ذکر ہوا تھا، تین مواقع پہ کسی کی لاپروائی یا شعوری کوشش سے کمپیوٹر پہ بچے کے رونے کی آواز، عارف لوہار کی لوک گائیکی اور ایک سُریلے سرائیکی ذاکر کی ایمان افروز تقریر سُننی پڑی۔ ویسے صوتی مداخلت بند کرنے کی خاطر زُوم میٹنگ کے ہوسٹ کے طور پہ استاد کے پاس پیمرا کی طرح آزادیء اظہار سلب کرنے والا ’میوٹ آل‘ کا بٹن بھی ہوتا ہے۔ تو پھر حاصلِ غزل کیا ہوا؟ بس یہی کہ ہر عمر رسیدہ آدمی کو چاچا جی کہتے کہتے اب آن لائن لیکچر دینے کی عادت بھی پختہ ہو گئی ہے۔ یعنی بقول غالب ”ہزار کوس سے بزبانِ قلم باتیں کیا کرو (اور) ہجر میں وصال کے مزے لیا کرو“۔ لیکن کیا کروں کہ ہمارے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو ہجر میں وصال کے مزے پسند نہیں آئے اور وہ 15 ستمبر سے یونیورسٹیاں دوبارہ کھول رہے ہیں۔ چلئے غالب نہ سہی، راز الہ آبادی ہی سہی جن کا کہنا ہے: 

کتنے مانوس صیاد سے ہو گئے 

اب رہائی ملے گی تو مر جائیں گے 

مزید :

رائے -کالم -