شہید صحافیوں کوستارہ شجاعت دنیا خوش آئند ہے، شمیم شاہد 

شہید صحافیوں کوستارہ شجاعت دنیا خوش آئند ہے، شمیم شاہد 

  

پشاور (سٹی رپورٹر)پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ورکرز کے سینئر نائب صدر شمیم شاہد نے شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے شہداء حیات اللہ داوڑ اور ملک ممتاز  درپہ خیل کو بعد از مرگ ستارہ شجاعت دینے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اس اقدام سے کم ازکم دونوں شہید ھونے والے صحافیوں کے لواحقین، دوستوں اور رشتے داروں کو اطمینان ھو جائیگا کہ دونوں پاکستان کے محب وطن شہری تھے۔شمیم شاہد نے ایک اخباری بیان میں کہا کہ ملک ممتاز خان درپہ خیل اور حیات اللہ داوڑ جیسے صحافیوں نے شمالی وزیرستان میں دھشتگردوں کے جمع ھونے اور  انکے زریعے پر تشدد کاروائیاں بالخصوص پر امن قبائلی رہنماوں کے گھات لگا کر قتل کرنے کے وارداتوں کو جب دنیا کے سامنے لانا شروع کردیا تو دونوں کو شہید کر دیا گیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ حیات اللہ داوڑ کو پہلے ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت میرعلی سے اغواء کر دیا اور ساڑھے بھی مہینوں کے بعد انکی گولیوں سے چھلنی لاش خوشحالی طوری خیل سے سولہ جون 2006 کو ملی تھی۔ شمیم شاہد نے یاد دلایا کہ حیات اللہ کے شہادت کے اس وقت کے حکومتی عہدیداروں بالخصوص سابق وزیر مملکت برائے اطلاعات انیسہ زیب طاہر خیلی اور فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سابق سربراہ شوکت سلطان نے نہ صرف حیات اللہ شہید کو غیر ملکی ایجنٹ قرار دیا تھا بلکہ انکے بارے میں نہایت نازیبا الفاظ استعمال کئے تھے۔ انہوں نے سابق وزیر مملکت برائے اطلاعات انیسہ زیب طاہر خیلی اور دیگر سابق سرکاری عہدیداروں سے حیات اللہ شہید کے بارے میں ادا کی جانے والے نازیبا الفاظ پر معافی مانگے۔ شمیم شاہد نے وفاقی حکومت کا حیات اللہ شہید اور ملک ممتاز  درپہ خیل شہید کو ستارہ شجاعت دینے پر شکریہ ادا کیا۔ تاھم شمیم شاھد نے حکومت سے حیات اللہ کے اغواء اور قتل کے بارے میں پشاور ھائی کورٹ کے عدالتی کمیشن کے تحقیقاتی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کی اپیل کی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -