چکدرہ چترال سی پیک روٹ کی بحالی کیلئے اپوزیشن جماعتوں کا احتجاجی تحریک کا اعلان 

چکدرہ چترال سی پیک روٹ کی بحالی کیلئے اپوزیشن جماعتوں کا احتجاجی تحریک کا ...

  

تیمرگرہ (بیورورپورٹ)  چکدرہ چترال سی پیک روٹ کی بحالی کیلئے اپوزیشن جماعتوں نے ضلعی ہیڈکوارٹر تیمرگرہ میں احتجاجی جلسہ کا انعقاد کرتے ہوئے احتجاجی تحریک بڑھانے کا اعلان کرنے سمیت چکدرہ سوات شاہراہ کو بند کرنے اور پارلیمنٹ ہاؤس اسلام اباد میں احتجاجی دھرنا دینے کی دھمکی دے دی،اس سلسلے جماعت اسلامی کے زیر اہتمام چکدرہ چترال سی پیک منصوبے ڈراپ ہونے کے خلاف ضلع دیر لوئر میں یوم سیاہ منایا گیا،ضلعی ہیڈ کوارٹر تیمرگرہ میں دکانوں پر سیاہ جھنڈے لہرانے سمیت جماعت اسلامی،پی پی پی،جے یوائی،اے این پی،قومی وطن پارٹی،پی ایم ایل ن کے مشران اور کارکنوں،تاجرز اور وکلاء نے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاجی جلسہ میں شرکت کی،احتجاجی جلسہ سے جماعت اسلامی کے ضلعی امیراعزاز الملک افکاری،سابق ممبر قومی اسمبلی و دیر قومی جرگہ کے چیرمین صاحبزادہ محمد یعقوب خان،پی پی پی کے ضلعی صدر وسابق صوبائی وزیر محمود زیب،سابق صوبائی وزیر بخت بیدار خان،جے یوائی کے ضلعی امیر سراج الدین،اور قاضی عیاض الدین،اے ین پی کے ضلعی جنرل سیکرٹری ملک محمد زیب خان،انجمن تاجران کے صدر حاجی انوارالدین،پی ایم ایل ن کے سابق وزیر ملک جہان زیب،قومی وطن پارٹی کے باشادہ حسین،ڈسٹرکٹ بار کے سابق صدر جہان بہادر ایڈوکیٹ اور ملک شیر بہادر خان نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ گذشتہ حکومت نے چکدرہ چترال سی پیک روٹ منظور کیاتھا بلکہ ابتدائی طور پر ان کی فنڈز بھی مختص کیے تھے،تاہم موجودہ حکومت نے اس اہم منصوبے کو ڈراپ کرکے پانچ اضلاع اپر چترال،لوئر چترال،باجوڑ،اپر دیر اور لوئر دیر کے 50لاکھ ابادی کے عوام کے حقوق پرسودا بازی کی،مقررین نے کہاکہ صوبائی حکومت نے موٹر وے کا جو اعلان کیا ہے اس میں شکوک و شہبات پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کی انکھوں میں دھول جھونکے اور ورغلانے کرنے کے مترادف ہے،اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے کہاکہ چکدرہ چترال سی پیک روٹ کی بحالی پانچ اضلاع کے عوام کے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اگر ہم نے یہ مسئلہ حل نہ کیا اور اپنے حقوق پر سواد بازی ہونے د ی تو ائندہ کے نسلیں اور قومیں ہمیں معاف نہیں کریں گے،انھوں نے اعلان کیا کہ چکدرہ چترال سی پیک روٹ کی بحالی کیلئے چین سے نہیں بیٹھے گے اور اس تحریک کو مذید بڑھانے سمیت اگر ضرورت پڑی تو چکدرہ سوات شاہراہ کو مکمل بند کرنے سمیت پارلیمنٹ ہاؤس کا گھیراؤ بھی کریں گے،انھوں نے کہاکہ پانچ اضلاع کے عوام کے حقوق کے حصول کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور ارباب اختیار سے اپنا حق چھین لیکر لیں گے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -