” نیب کے پاس عثمان بزدار کے خلاف کچھ بھی نہیں ہے اور ۔۔۔“ سینئر صحافی نے اپنے کالم میں حیران کن انکشاف کر دیا 

” نیب کے پاس عثمان بزدار کے خلاف کچھ بھی نہیں ہے اور ۔۔۔“ سینئر صحافی نے اپنے ...
” نیب کے پاس عثمان بزدار کے خلاف کچھ بھی نہیں ہے اور ۔۔۔“ سینئر صحافی نے اپنے کالم میں حیران کن انکشاف کر دیا 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف نیب میں شراب کے لائسنس کے اجراءکے معاملے پر تحقیقات جاری ہیں جس میں وہ نیب دفتر پیش بھی ہو چکے ہیں جہاں انہیں پوچھ گچھ کے بعد سوالنامہ بھی دیا گیا تاہم اب سینئر صحافی منصور آفاق نے بھی اس معاملے پر روشنی ڈالتے ہوئے کالم لکھا ہے جس میں انہوں نے نہایت ہی اہم انکشاف کر دیاہے ۔

مقامی اخبار ” جنگ نیوز “ میں شائع ہونے والے کالم میں منصور آفاق کا کہناتھا کہ عثمان بزدار کے خلاف نیب کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ نیب کے جس سرکاری گواہ نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے اسے چھ سے زائد مرتبہ طلب کیااورلائسنس جاری کرنے کے زبانی احکامات دئیے ، ا±س کے ساتھ وزیر اعلیٰ کی ون ٹو ون ایک میٹنگ بھی ثابت نہیں ہوسکی۔ہر موقع پر کچھ اور افسران بھی موجود تھے جو اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ نے ا±ن پر اِس سلسلے میں کوئی دباﺅ ڈالا۔

نیب کے افسران نے فائلیں چھان ڈالی ہیں مگر کہیں بھی وزیر اعلیٰ کے دستخطوں سے شراب کے لائسنس کے اجراکے کوئی احکامات موجودنہیں۔ان کے پرنسپل سیکرٹری اور چیف سیکرٹری پنجاب کی سمریاں موجود ہیں مگر ان میں واضح لکھا گیا ہے کہ قانون کے مطابق لائسنس جاری کیا جائے۔اگر لائسنس وزیر اعلیٰ کے دباﺅ پر جاری کیا گیا تھا تو پھر منسوخ کیوں کیا گیا۔سچ یہ ہے کہ اس کی منسوخی وزیر اعلیٰ کے دباﺅ پر ہوئی۔

جب پارٹی ہائی کورٹ میں گئی تو محکمے کے افسران نے لائسنس منسوخ کرنے کی کوئی وجہ بتانے کی بجائے خاموشی اختیار کرلی۔جس پر ہائی کورٹ کو لائسنس بحال کرنا پڑا۔اگر وہ لائسنس قانونی طور پر درست جاری نہیں کیا تھا تو پھر بھی یہ معاملہ نیب نہیں دیکھ سکتی تھی ، اِس کے خلاف محکمے کو سپریم کورٹ میںاپیل کرنے کی ضرورت تھی جو نہیں کی گئی۔

دراصل تخت لاہور سے بہت بڑے بڑے لوگوں کے کاروبار جڑے ہیں، سیاست کے اس تخت لاہورمیں اول تو کوئی عام آدمی داخل ہو نہیں سکتا۔ اگر کوئی اہل شخص میرٹ پر ہواورووٹ کی طاقت سے داخلہ لینے میں کامیاب ہو جائے تو survival کی جنگ کا آغاز ہوجاتا ہے۔ اس کے پاس دو ہی راستے ہوتے ہیں، یا وہ ان کلاس فیلوز سے احساس کمتری کا شکار ہوجائے اور اپنا بستر باندھ کر واپس روانہ ہوجائے یا ان سے مرعوب ہو کر ان کے رنگ میں رنگ جائے۔ عثمان بزدار کاقصور یہ ہے کہ انہوں نے ان میں سے کسی بھی راستے کا انتخاب نہیں کیا۔ڈٹ گئے۔مقابلہ کیا۔

انہوں نے خود کو بدلنے کی بجائے خود کو ا±س طبقے کی پہچان بنا لیاجو کبھی تخت لاہور کی سیاست میں داخلے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ اس عوام کی آواز بن کر تخت لاہور والوں کو للکارا جو ہمیشہ اس شاہی طبقے کے ہاتھوں پستے رہے۔ تخت ِ لاہور پرگرفت کا اندازہ صرف اس بات سے لگائیے کہ عثمان بزدار کو ابھی تک ”پنجاب کلب “ نے اپنا ممبر نہیں بنایا۔لاہور شہرکے پچانوے فیصد لوگ یہ نہیں جانتے ہونگے کہ پنجاب کلب ہے کیا چیز۔

سویہ طبقہ عثمان بزدار کو سیاست کی اس کلاس سے خارج کروانے کیلئے ہمہ وقت مصروف ہے۔تاہم یہ لوگ ابھی تک عثمان بزدار پر عمران خان کے اعتماد کو متزلزل نہیں کر سکے۔میرے نزدیک عثمان بزدار پر ہوٹل کیلئے شراب لائسنس کے اجرا کا الزام، عقل والوں کیلئے نشانی ہے۔ اس سے پہلے کہ قصور وار کا تعین کیا جائے۔ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جاری کیا جانے والا لائسنس کوئی نئی طرز کا لائسنس نہیں تھا، بیچ چوراہے پر شراب کی دکان کھولنے کا لائسنس نہیں تھا۔

پچھلے ادوار میں پنجاب کے 9ہوٹلوں کو لائسنس جاری کئے جاچکے ہیں۔ پاکستان میں شراب بنانے کی فیکٹریوں کے لائسنس بھی دئیے جا چکےہیںکیونکہ غیر مسلم افراد یا باہر سے پاکستان کے دورے کیلئے آنے والے غیر مسلم افراد کو حکومت کی اجازت کے بغیرشراب فروخت کرنا قانونی طور پر جرم ہے۔ لائسنس دراصل قانون کی پاسداری کا نام ہے۔

عمران خان کے وزیر اعظم بننے پر ملک میں دوسرے ممالک سے سرمایہ کاری کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا، لوگوں نے نئے کاروبار شروع کئے، ٹورازم میں پہلی مرتبہ پیش رفت ہوئی، یہ ہوٹل بھی بیرون ممالک سے آئے سرمایہ کاروں کا ایک پروجیکٹ ہے، جو ملک میں نوکریوں اور ایف ڈی آئی کا ذریعہ بنا۔ رہی بات کہ کس کا قصور تھا تو اتنا تو ہر شخص جانتا ہے کہ یہ لائسنس وزیر اعلیٰ کے دستخط سے جاری نہیں ہوتا۔

20 ویں گریڈ کا بیوروکریٹ ہی واحد اتھارٹی ہے جو لائسنس کا اجرا کرسکے۔ اور 2018میں جو نیب نے بیوروکریسی کے ساتھ سلوک روا رکھا، اس کے بعد کوئی بیوروکریٹ آنکھیں بند کر کے کسی کے کہنے پر تو کوئی کام کرنے والا نہیں۔ بے لگام فیصلوں سے ماضی کی حکومتیں بہت نقصان اٹھا چکی ہیں۔ تو کیا کوئی ڈی جی کسی حکمران کے کہنے میں آکر اپنا کیریئر تباہ کرنے کی غلطی کرسکتا ہے؟۔

پنجاب میں نیب کی کارکردگی پر بھی بہت سوالات اٹھ رہے ہیں۔پنجاب حکومت کے وزراءعلیم خان اور سبطین کو گرفتار کیا گیا مگر کچھ ثابت نہیں ہوا۔ انہوں نے کئی ماہ بے وجہ جیل میں گزارے۔اب وزیر اعلیٰ کی پیشیاں شروع کر دی گئی ہیں اور ثبوت کوئی نہیں ہے۔

نیب پنجاب پرمیر شکیل الرحمٰن کے حوالےسے بھی الزام آرہا ہے کہ ا±س کی وجہ سے پاکستان کی سب سے بڑی صحافتی شخصیت مسلسل جرم ِ بے گناہی کی سزا کاٹ رہی ہے۔ڈی جی نیب پنجاب انتہائی ایماندار ہیں۔ میرے خیال میں موجودہ صورتحال میں انہیں مستعفی ہو جانا چاہئے یا چیئرمین نیب کے غلط احکامات ماننے سے انکار کر دینا چاہئے۔

نیب کے موجودہ قوانین کے مطابق کسی بھی وزیر ، ایم این اے یا ایم پی اے کے خلاف چیئرمین نیب کے احکامات کے بغیر کوئی مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔

مزید :

قومی -