کشمیر پالیسی پرشیریں مزاری کا تہلکہ خیز بیان،سینیٹر رحمان ملک بھی میدان میں آگئے،بڑا قدم اٹھا لیا 

کشمیر پالیسی پرشیریں مزاری کا تہلکہ خیز بیان،سینیٹر رحمان ملک بھی میدان میں ...
کشمیر پالیسی پرشیریں مزاری کا تہلکہ خیز بیان،سینیٹر رحمان ملک بھی میدان میں آگئے،بڑا قدم اٹھا لیا 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کےرہنمااورسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائےداخلہ کےچیئرمین سینیٹر رحمان ملک نے وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کاوزیراعظم اوروزارت خارجہ کےمابین کشمیر پالیسی پراختلافات کی خبرپراظہارتشویش کرتےہوئےسینیٹ میں کالنگ اٹینشن جمع کرنےکافیصلہ کرتےہوئے کہا ہے کہ بیان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،وزیر اعظم عمران خان پارلیمنٹ میں آکر کشمیر پالیسی کے حوالے سے عوام کے شکوک و شبہات دور کریں

تفصیلات کے مطابق سینیٹر رحمان ملک نے ڈاکٹر شیریں مزاری کے کشمیر پالیسی پر دیئے جانے والے بیان کو قابل تشویش قرار دیتے ہوئے  کہا ہے کہ کشمیر پالیسی پر وزیراعظم ہاوس اور وزارت خارجہ کے مابین کشمیر پالسی پر اختلافات کے حوالے سے ڈاکٹر شیریں مزاری کا بیان قابل تشویش ہے،شیر مزاری حکومت کی سرکردہ وزیر ہیں جنکا بیان نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے،اب جب کشمیر نازک صورتحال سے گزر رہا ہے شیریں مزاری کے بیان سے قوم میں کشمیرپالیسی کے حوالے سے تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ قوم جاننا چاہتی ہے کہ وزیراعظم ہاوس اور وزارت خارجہ کے مابین کونسے اختلافات ہیں جنکی وجہ سےکشمیر پالیسی پر عمل درآمد نہ ہوسکا؟ وزیراعظم پارلیمنٹ ہاؤس میں آکر وضاحت دے تاکہ کشمیر پالیسی پر عوام کے شکوک وشبہات دور کئے جا سکے،اس حوالے سے سینیٹ میں کالنگ اٹینشن جمع کر رہا ہوں کہ کشمیر پالیسی پر حکومت وضاحت پیش کرے۔

سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ شروع دن سے حکومت کیطرف سے کشمیر پر سرد روئے کی بات کرتا آیا ہوں،مودی اور بھارتی مظالم کیخلاف درجنوں خطوط اور دستاویزات بین الالقوامی اداروں اور حکومت کو ارسال کر چکا ہوں،حکومت کو کئی بار مودی کیخلاف بطور جنگی مجرم مقدمہ درج کرنے کا مشورہ دے چکا ہوں۔

مزید :

قومی -