ہیپاٹائٹس کے خلاف مہم،اب انتظار نہیں کرسکتے کے عزم کے ساتھ 

   ہیپاٹائٹس کے خلاف مہم،اب انتظار نہیں کرسکتے کے عزم کے ساتھ 
   ہیپاٹائٹس کے خلاف مہم،اب انتظار نہیں کرسکتے کے عزم کے ساتھ 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 حاجی اسلم ایک دن گھر کی سیڑھیاں اترتے ہوئے چکر کی وجہ سے گرگیا،اندرون شہر کے پرانے گھروں کی خوبی ہے کہ آپ ایک مرتبہ سیڑھیوں سے گریں تو آپ کو اپنے آپ سنبھالتے ہوئے ایک منزل گزر جاتی ہے اور یہی حاجی اسلم کے ساتھ ہوا اس کی ٹانگوں کہنیوں اور ماتھے پر چوٹیں آئیں اور محلہ دار آصف اسے میو ہسپتال لے گیا جہاں پر ڈاکٹرز نے اس کی چوٹوں کا علاج کیا اور اور اس کی آنکھوں کی پیلاہٹ دیکھ کر اس کی پرچی پر ایل ایف ٹی یعنی جگر کا ٹیسٹ لکھ دیا اور اسے کہا کہ نرس سے کہہ کر اپنا خون کا سمپل نکلوا کر اسے پہلی منزل پر ایمرجنسی لیبارٹری میں جمع کروادیں اور بعد میں اس کی رپورٹ لے کر میرے پاس آئیں،ایمرجنسی میں تین گھنٹے بعد رپورٹ ملی جس پر ہیپاٹائٹس پازیٹو لکھا ہوا تھا جس کے بعد اس کے مزید ٹیسٹ کئے گئے اور بعد میں سامنے آیا کہ حاجی اسلم کو کالایرقان لاحق ہے اسے اوپی ڈی میں رجوع کرنے کا کہا گیا جس کے بعد ان کا علاج شروع ہوا مگر ان کی حالت بگڑتی گئی اور حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ وہ تین ماہ میں کمزوری کی وجہ سے چلنے پھرنے سے معذور ہوگیا اور پھر ایک دن اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر اس جہان فانی سے کوچ کرگیا،اسی طرح میرے ایک عزیز خاور پرویز بھی اسی موذی مرض کا شکار ہوئے اور وفات پاگئے کہنے کی بات ہے کہ ہیپا ٹائٹس چاہے کیسا نوح بھی ہو اگر ایک بار یہ انسانی جسم میں ایکٹو ہوجائے تو پورے خاندان کے لیے مسائل شروع کردیتا ہے۔ دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس کی بیماری کے خلاف آگاہی کا دن اس عز م کے ساتھ منایا جارہا ہے کہ اب انتظار نہیں کر سکتے۔ ہیپا ٹائٹس (یرقان، کالا یرقان)ایک مہلک بیماری ہے جو جگر کو متاثر کرلیتی ہے، اس مرض کی عموماً پہلے پہلے علامات ظاہر نہیں ہوتیں بعد ازاں جگر میں سوزش پیدا کرنے کے بعد چند ہی سالوں میں جگر کے سکڑنے کا باعث بنتا ہے اور اگر پھر بھی اس کا علاج نہ کیا جائے تو یہ کینسر کی شکل اختیار کرلیتا ہے اکثر لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ ہیپاٹائٹس کی بیماری کا شکار ہیں اور جب یہ بیماری ذور پکڑتی ہے تو اس کا علاج شروع کرواتے ہیں اس سے پہلے اس کی طرف توجہ نہیں دی جاتی اور اس کو انسانی قوت مدافعت پر چھوڑ دیا جاتا ہے کیونکہ اس کی علامات میں چکر آنا،قے اور دیگر عوامل ہوتے ہیں جن کو گھریلو نسخوں سے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اس طرح انسانی قوت مدافعت کچھ عرصے تک اسے کنٹرول میں رکھنے پر اپنا کردار ادا تو کرتی ہے مگر جب بیمار ی زور پکڑتی ہے تو اس کا علاج  ادویات ہی سے ممکن ہے جس کا حصول صرف سرکاری ہسپتال ہی سے ہوتا ہے،ماضی میں ایک سروے اور طبی ماہرین کی رائے کے مطابق پیپاٹائٹس کے جراثیم ایک عرصے تک انسانی جسم میں سوئے رہ سکتے ہیں اور یہ اسی وقت طبی مسائل پیدا کرتے ہیں جب یہ ایکٹو ہوجائیں جن کا علاج صرف ادویات اور انجکشن ہی سے ممکن ہے اور چونکہ ملکی آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت کی سطح سے بھی نیچے ہے ان کو اس حوالے سے ادویات کے حصول میں بڑی تگ و دو کرنا پڑتی ہے کچھ کامیاب ہوجاتے ہیں مگر اکثریت اپنے حق ہی سے محروم رہتی ہے۔قومی صحت کارڈ کے حصول کے بعد ادویات کا حصول ممکن تو ہوا ہے مگر ایسے مریضوں کی بڑی تعداد سامنے آرہی ہے جنہوں نے نہ تو اپنا قومی شناختی کارڈ بنا رکھا ہے اور اگر قومی شناختی کارڈ بن گیا ہے تو اس میں زیر کفالت لوگوں کا اندراج نہیں جس کی وجہ سے طبی مسئلے کا حصول طول پکڑ جاتا ہے اور مریض کی جان کو لالے پڑ جاتے ہیں۔
  ہیپاٹائٹس کی بیماری پورے ملک میں خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے جس کیلئے عوام کو احتیاط کے ساتھ ساتھ حکومت کو فوری توجہ اوراقدامات کی ضرورت ہے حکومت سرکاری ہسپتالوں میں وافر مقدار میں پی سی آر مشینوں کی فراہمی کو یقینی بنائے تو اس پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔


دنیا میں ہر 30سیکنڈ میں ایک شخص اس مرض کے باعث جان سے ہاتھ دھو رہا ہے اور ہر سال دنیا بھر میں تقریبا 257ملین افراد ہیپا ٹائٹس بی، 71ملین افراد ہیپا ٹائٹس سی، 14لاکھ افراد ہیپا ٹائٹس اے اور 20لاکھ افراد ہیپا ٹائٹس ای میں مبتلا ہوتے ہیں اس وقت تقریبا 350ملین افراد ہیپا ٹائٹس میں مبتلا ہیں جن میں سے تقریبا310ملین افراد کو کالا یرقان لاحق ہے۔ملک کے ایک صوبے بلوچستان کے بعض اضلاع بالخصوص جعفرآباد، نصیرآباد سمیت سندھ کے سکھر، لاڑکانہ و دیگر میں 15سے 20فیصد لوگ کالے یرقان کی بیماری میں مبتلا ہیں جو خطرے کی گھنٹی ہے۔ ہیپاٹائٹس بی اور سی انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ان سے بچا جائے  یہ دونوں مرض حجام سے شیو کروانے، غیر محفوظ طریقے سے خون لگوانے، جسم پر ٹیٹو بنوانے یا وارثتی طور پر ماں سے بھی منتقل ہو سکتے ہیں۔کالے یرقان کے لیے 2سے 3ماہ کا کورس مکمل کر لیا جائے تو اس بیماری سے بچا جا سکتا ہے۔ ہیپاٹائٹس اے اور ای گندہ پانی پینے یا بازار سے گندی اشیاء کھانے سے پھیلتا ہے۔ یہ مرض خود بخود ایک ہفتے بعد ختم ہو جاتا ہے۔اصل خطرہ کالے یرقان یعنی ہیپاٹائٹس بی اور سی سے ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ جگر کو ختم کر دیتا ہے۔اگر لوگ خون یا انجکشن لگواتے وقت احتیاط کر لیں، حجام سے شیو کرواتے وقت اپنے سامنے بلیڈ تبدیل کروائیں اور جسم پر ٹیٹو بنوانے سے گریز کریں تو ہیپاٹائٹس بی اور سی کی روک تھا م ممکن ہے۔ہیپا ٹائٹس اے اور ای (پیلا یرقان)کے مریضوں کی تعداد میں بھی پاکستان میں اضافہ ہورہا ہے جس کی اہم وجہ گندے پانی کا استعمال اور بوسیدہ اور سڑی ہوئی خوراک کا استعمال ہے جس سے اس مرض کے پھیلاؤکی شرح بڑھ جاتی ہے۔ ہیپا ٹائٹس سی حمل کے دوران خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اس لئے حاملہ خواتین حمل سے پہلے ہیپا ٹائٹس ای کی ویکسین ضرور لگوائیں ہیپا ٹائٹس کا مرض ایک شخص سے دوسرے شخص کو استعمال شدہ بلیڈ، سرنج، ہیپا ٹائٹس کے مرض میں مبتلا مریض کا خون دوسرے شخص کو لگانے، دندان ساز کے غیر سٹریلائزڈ آلات، آلات جراحی و دیگر ذ سے منتقل ہوتا ہے۔پاکستان کے اندر تقریباً 12 ملین لوگ ہیپاٹائٹس بی یا سی میں مبتلا ہیں۔ ہر سال تقریباً 150,000  نئے کیسز سامنے آتے ہیں۔ اس جان لیوا مرض میں مبتلا مریض بے خبر رہتے ہیں۔ کالے یرقان کی علامات میں آنکھوں کا پیلاہو جانا، تھکاوٹ محسوس ہونا، بھوک میں کمی،جلد پر خارش،متلی آنا، ہاتھوں اور پاؤں کا سن ہو جانا اور بخار ہیپاٹائٹس کی علامات ہیں جبکہ یہ مرض جگر میں سوزش کا باعث بھی بنتا ہے۔  ہیپاٹائٹس کی بڑھتی ہوئی بیماری کی روک تھام کیلئے سکریننگ بارے شعور اجاگر کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے جس کے بغیر علاج معالجے پر کروڑوں روپے کے اخراجات اور شرح اموات میں کمی لانا ممکن نہیں ہوگا جبکہ اس مرض سے بچاؤ کیلئے ہمیشہ ابلا ہوا پانی ٹھنڈا کر کے استعمال کیا جائے، کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا نہ بھولیں، کٹے ہوئے پھل سبزیا ں اور کھلے عام گندی جگہوں پرکھانے سے پرہیز کیاجائے۔

مزید :

رائے -کالم -