احمد شاہ ابدالی بھی ایک سلطنت ساز حملہ آور تھا, نیشاپور کی آبادی کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ کسی ”بادشاہ غازی“ کے شایان شان نہیں تھا

احمد شاہ ابدالی بھی ایک سلطنت ساز حملہ آور تھا, نیشاپور کی آبادی کے ساتھ جو ...
احمد شاہ ابدالی بھی ایک سلطنت ساز حملہ آور تھا, نیشاپور کی آبادی کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ کسی ”بادشاہ غازی“ کے شایان شان نہیں تھا

  

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط:14 

احمد شاہ ابدالی کے ہندوستان پر حملے:

احمد شاہ ابدالی کی جو تصویر کشی ہماری درسی کتب میں کی جاتی ہے وہ خاص طور پر خلاف حقیقت ہے۔ اس کے ہندوستان پر حملوں کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ وہ علمائے دین کی دعوت پر ہندوستان کے مسلمانوں کی امداد کے لیے آیا تھا جو سکھوں اور مرہٹوں سے تنگ تھے۔ حقائق اس دعویٰ کی قطعی تردید کرتے ہیں۔ 

احمد شاہ ابدالی بھی ایک سلطنت ساز حملہ آور تھا۔ اس سلطنت سازی کے عمل میں اصل جذبہ محرکہ مذہب نہیں تھا بلکہ ایک وسیع و عریض خودمختار حکومت قائم کرنا تھا۔ وہ خود سنی العقیدہ افغان ہونے کے باوجود نادر شاہ کے یساول یعنی ذاتی ملازم کے طور پر بھرتی ہوا ۔ پھر اس کا اتنا معتقد بن گیا کہ اسے درانی فوج کا سالار مقرر کر دیا گیا۔ وہ نادر شاہ کے ہمراہ قتل و غارت کی ان تمام مہمات میں شریک رہا جن کی تفصیلات پڑھنے سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ مگر اس دور کے وسط ایشیائی کلچر میں یہ کارروائیاں صاحب سیف لوگوں کے لیے روزمرہ کا معمول تھیں۔ 

نادر شاہ کے قتل کے بعد احمد شاہ ابدالی نے پہلے ایران پر فوج کشی کی جہاں نہ سکھ آباد تھے نہ مرہٹے بلکہ سو فیصد آبادی کا مذہب اسلام تھا۔ یہاں حملہ کرنے کے لیے اسے کسی عالم دین نے ترغیب بھی نہیں دی تھی۔ بات اصل میں یہ تھی کہ نادر شاہ کے بعد ایرانی سلطنت کے حصے بخرے ہو رہے تھے اور اس زمانے کے عام ترک، ایرانی، افغان حکمرانوں کی طرح احمد شاہ ابدالی بھی لوٹ مار کی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا خواہش مند تھا۔ اس نے محض ہرات پر قبضہ کر لینے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ایران کے اندر دور تک جا کر حملے کیے۔ طون، طباس، اور نیشا پور کے شہروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ بقول ڈاکٹر گنڈا سنگھ ”تلوار اور آگ کے عمل کے بعد دونوں شہروں کو لوٹ کر برباد کر دیا گیا اور افغان مال غنیمت سے لد ے پھند ے شاہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔“ 

نیشاپور پر پہلے حملے میں احمد شاہ ابدالی کو شکست ہوئی۔ 1751ءمیں اس شکست کا انتقام لینے کے لیے اس مظلوم شہر پر اس نے پوری تیاری کے بعد دوسرا حملہ کیا۔ اس دفعہ نیشاپور کے لوگ شکست کھا گئے۔ نیشاپور کی آبادی کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ کسی ”بادشاہ غازی“ کے شایان شان نہیں تھا۔ بلکہ وسط ایشیائی حکمرانوں کی روایتی چیرہ دستی کا ایک نمونہ تھا۔ گنڈا سنگھ کے بقول :

”شاہ نے جان کی امان باشندگان شہر کو اس شرط پر دی کہ تمام باشند ے خالی ہاتھ جامع مسجد میں چلے جائیں لیکن اگر کسی کے ہاتھ میں سوئی بھی دیکھی گئی تو غازی اسے جان سے مار دیں گے۔ اپنی بیکسی پر روتے اور چلاتے ہوئے باشندوں نے فاتح کے حکم پر عمل کیا۔ شہر پر حملہ کر کے اسے لوٹا اور جلایا گیا، گھروں کی تلاشی لی گئی، جامع مسجد کے سوا جہاں لوگ جمع تھے تمام مکانات مسمار کر دئیے گئے، خزانوں کی تلاش میں کئی مقامات کی گہری کھدائی کی گئی۔ اس طرح نیشاپور کا خوبصورت شہر کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا۔ جس کے ملبہ اور گڑھوں میں پانی بہہ رہا تھا۔ غریب لوگ نوک شمشیر پر رکھ لیے گئے اور ان کے بیوی بچوں کو غلام بنا کر لے جایا گیا۔“ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -