پنڈت جواہر لعل نہرو کی ڈاکٹرائن اور نواب بہادر یار جنگ 

پنڈت جواہر لعل نہرو کی ڈاکٹرائن اور نواب بہادر یار جنگ 
پنڈت جواہر لعل نہرو کی ڈاکٹرائن اور نواب بہادر یار جنگ 

  

 تحریر : پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی

قسط: 17 

1936ءمیں نہرو نے دوطاقتوں کے منشور کا خاکہ پیش کیا اور مسلمانوں کو علیٰحدہ ہی کر دیا۔ اس کی تھیوری یہ تھی کہ جھگڑا امپیریل ازم اور نیشنلزم کا ہے۔ تیسری قوت، مڈل کلاس لوگ کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ کانگریس سارے ہندوستان کی نیشنلسٹ جماعت ہے اورسب کی قسمت ہے۔نہرو جی کے ڈاکٹرائن کو آل انڈیا مسلم لیگ کے صدرقائداعظم محمد علی جناحؒ نے للکاراکہ آپ غلط کہتے ہیں۔ایک تیسری قوت ہے وہ ہیں مسلمان۔ہندو کانگریس کا خیال تھا کہ ہندوستان پر حکومت کرنے کا حق صرف اور صرف کانگریس کا ہے اور آل انڈیامسلم لیگ نے انکار کیا کہ مسلمانوں کو اپنا حق چاہئے۔ مسلمان جُدا قوم ہیں اور قوم کو خطۂ  زمین کی ضرورت ہے۔

چنانچہ قرار داد لاہور23مارچ1940ءکو وجود میںآئی۔ اس قرار داد نے گذشتہ مسلم لیگ کی قرار دادوں27 اگست ،17-18ستمبر ،22اکتوبر1939ءاور 3فروری1940ءکی توثیق کی کہ1935ءکے ایکٹ حکومت برطانیہ کی سکیم فیڈرل ازم کے بارے میں رائے دی کہ کسی صورت میں اس ملک کےلئے ناقابل عمل ہیں اور مسلمانان ہند کو کسی صورت میں قبول نہیں ۔ لہٰذا اس سکیم کو مسلمانوں کی منشاءکے مطابق ڈھالا جائے۔ جس میں مسلمانوں کو آئینی تحفظ میسر آئے۔ 

نواب بہادر یار جنگ ایک شعلہ بیاں مقرر

 نواب بہادر یار جنگ رب ذوالجلال کی عنایت کے ساتھ حیدر آباد دکن کے ایک نواب کے گھر3جون1905ءکو پیدا ہوئے۔ اس وقت حیدر آباددکن کی ریاست تمدن اورتعلیم کے لحاظ سے عروج پر تھی۔ اس وقت کے خاندانی رسم و رواج کے مطابق نوابوں کے بچوں کو گھر پر ہی تعلیم دی جاتی۔ اس نوخیز بچے کی تخلیقی لہروں میں ایک خاص قسم کی ثقافت تھی۔ وہ نوخیزی کی عمر میں ہی طنز و مزاح کے حامل تھے۔ شاعری کا مزاج بھی تھا۔ ان کی تربیت سچے، سُچے اخلاقی امنگوں سے کی گئی۔ بچپن سے ہی وہ بولتے تو خوشبو بکھیرتے اور بات کرتے تو ہر ایک کو آسانی سے سمجھ آجاتی تھی۔وہ باتیں کرتے مگر سوچ کے پیرایوں میں ہوتیں اور وہ خوابوں کی دنیامیں کبھی نہیں کھو پائے مگر وہ دنیا کے پانی کی سرسراہٹ کو بھی جاننے کی خاصیت رکھتے تھے تاہم ضبط کی زندگی ان کا وطیرہ تھی ،وہ اپنوں کےلئے وہ سردھڑ کی بازی لگاتے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے نواب بہادر یار جنگ کی وفات پر فرمایا....”وہ قلب و ذہن سے مسلمان تھا۔“

 جوں جوں جوان ہوئے غلامی کے اندھیرے صاف کرنے لگے۔ جہاں انہیں غلامی کا اصلی اندھیرا نظر آیا وہاں وہ پہنچ جاتے اور لوگوں کے دلوں میں اپنے خیالات کی بدولت اُتر جاتے۔ وہی لوگ جو مایوسی کو اپنائے ہوئے ہوتے انہیں ہر طرف چاند جیسے اُبھرنے اور نکلنے کی روشنی بکھرنے کی لذت محسوس ہوتی۔ شخصی تربیت نے ان کی تخلیق گفتار ایسے رنگ میں کی کہ وہ کھلی آنکھوں سے برملا اظہار کرتے۔نہ تو ان کو کوئی روک سکتا تھا اور نہ وہ رُک سکتے تھے۔ ان کی نظر دور تک تھی اور دور کی چیزیں نزدیک سے دیکھ سکتے تھے۔ وہ دھوپ و سایہ کی پرواہ نہ کرتے تھے۔جہاں کہیں ضرورت محسوس ہوئی وہ محبت کی نشانی بنتے ہوئے وہاں پہنچ جاتے اور رب بصیر کی بصیرت سے اپنے جوہر خطاب اس طرح دکھاتے کہ ہر دل میں اُتر جاتے۔ تقریر تو وہ کسی انجمن ، محفل میں کرتے مگر سڑکوں پر گزرنے والے بھی رُک جاتے۔ ان کی تقریر سنتے اور کہتے کہ یہ بندہ تو سچ بولتا ہے۔ دیوانگی کی باتیں نہیں کرتا۔ لوگ ایسے کھڑے ہوتے جیسے بے زبان ہیں۔ ان کی تقریر کوئی افسانوں پر مبنی نہ ہوتی۔ وہ اقبال کے شعروں سے اپنی تقریر میں چاشنی پیدا کرتے ۔ وہ ایک طلسماتی قسم کی حقیقت بیان کرتے جس سے لوگ متاثر ہوتے۔ان کی عمر جب جوانی میں پہنچی تو عزوشرف ان کو میسّر آنے لگا ۔ چھوٹی عمر میں انہوں نے انجمن تبلیغ اسلام کی بنیاد رکھی تاکہ لوگوں کو احکام الہٰی کی پیروی کرنے کے آداب سکھائے جائیں اور نبی آخرالزماںکی سنت سے محبت کرنے کی تلقین کی جائے۔

 جب وہ اس راہ پر چل پڑے تو انہوں نے امانت و دیانت کو فروغ دینے کا ذریعہ اختیار کیا اور لوگوں کو عدل و انصاف سکھانے پر لگ گئے۔اس وقت جہاں کہیں مسلمانوںمیں نفاق و بدنظمی محسوس کی وہاں پر پہنچ گئے۔اتحاد و اتفاق سے رہنے کی تلقین کی اور اعتدال کو شعار بنانے کی ہدایت کی۔ ان کی خواہش تھی کہ مسلمان کامل مسلمان بن جائیں اور وہ راہ اختیار کریں جس سے اللہ اور رسول کریم خوش ہو جائیں۔وہ فحش کلامی، ناپ تول میں کمی کو بہت بُرا سمجھتے تھے اور مسلمانوں کے قتل و غارت سے ان کو بہت تکلیف ہوتی۔ لہٰذا انہوں نے اس امر کو محسوس کرتے ہوئے مجلس اتحاد المسلمین میں 1928ءمیں شمولیت اختیار کی۔ جوائنٹ سیکرٹری ہوئے۔ اکتوبر1937ءمیں وہ صدر مجلس اتحاد المسلمین ہوئے پھر دیکھا کہ مسلمانوں کی شیرازہ بندی ایک جماعت کے ذریعے ہوگی اوراس وقت آل انڈیا مسلم لیگ کے علمبردار محمد علی جناحؒ تھے۔ 1939ءمیں آپ وہاں شامل ہوگئے اور مسلم لیگ کے ہو کر رہ گئے ۔ کچھ عرصہ وہ خاکسار تحریک سے منسلک رہے اور یوں مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ وہ دوقومی نظریہ کے نہ صرف حامی ہوئے بلکہ فدائی بھی ہوئے۔ 1939ءسے1944ءیعنی 27جون1944ءکو اپنی مدت تک مسلم لیگ کے ساتھ وابستہ رہے۔ وہ فرنگی سامراج اورکانگریسی مسلمانوں کے خلاف کلمہ حق بلند کرتے رہے۔نہایت کٹھن مراحل میں نظریہ پاکستان کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ ( جاری ہے ) 

کتاب ”مسلم لیگ اورتحریکِ پاکستان“ سے اقتباس (نوٹ : یہ کتاب بک ہوم نے شائع کی ہے، ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔ )

مزید :

بلاگ -