میری ترجیحات کی فہرست میں سب سے اوپرمیرا فن تھا ماں، باپ، بھائی اور بہنیں اُس کے بعدتھے

میری ترجیحات کی فہرست میں سب سے اوپرمیرا فن تھا ماں، باپ، بھائی اور بہنیں اُس ...
میری ترجیحات کی فہرست میں سب سے اوپرمیرا فن تھا ماں، باپ، بھائی اور بہنیں اُس کے بعدتھے

  

مترجم:علی عباس

قسط: 48

 واضح طور پر بیان کیا جائے تو ہم خاصی سخت جگہ پر پھنس چکے تھے۔ ہم نے موٹون اور فلی انٹرنیشنل میں جدید رجحانات کے حامل دنیا کے ذہین ترین لوگوں کے ساتھ کام کیا تھا اور ہم بیوقوف ہوتے، اگر اُن سے حاصل کی گئی تربیت کو خود سے جدا کرتے لیکن ہم تقلید نہیں کر سکتے تھے۔ خوش قسمتی سے گیت"Blame it in the Boogie" سے بہتر آغاز مل گیا جو بوبی کولمبی ہمارے لئے لیکر آیا تھا۔ یہ ایک قابل تعریف اور اونچے سُروں کا گیت تھا جو کہ بینڈ کی شناخت کے حوالے سے بہتر تھا جسے ہم مستحکم کرنا چاہتے تھے۔ مجھے اسے ایک ترتیب کے ساتھ کورَس میں گا کر مزہ آیا تھا: میں نے "Blame it on the Boogie" ایک سانس میں ہونٹوں کو ایک ساتھ جوڑے بغیر گایا تھا۔ ہمارے لئے کیسٹ کے اندرونی طرف لکھے ہوئے کریڈٹس کچھ لطف کا باعث ثابت ہوئے تھے:"Blame it on the Boogie"کو برطانیہ کے 3لوگوں نے ملکر لکھا تھا جن میں ایک کا نام مائیکل جیکسن تھا۔ یہ ایک حیران کُن اتفاق تھا اور ایسا ہی ہوا، میرے لئے ڈسکو گیت لکھنا فطری عمل تھا کیونکہ میں اپنے اُن تمام اہم گیتوں میں ڈانس بریک پیدا کرنے کا عادی تھا جن کے بارے میں مجھے گانے کا کہا گیا تھا۔

وہاں ہمارے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی اور جوش کی ملی جلی کیفیت تھی۔ ہم بہت ساری تخلیقی اور ذاتی تبدیلیوں سے دوچار تھے جن میں ہماری موسیقی، خاندانی صلاحیت، ہماری خواہشات اور مقاصد شامل تھے۔ ان سب نے مجھے سنجیدگی کے ساتھ سوچنے پر مجبور کردیا کہ میں اپنی عمر کے دوسرے لوگوں کے مقابل میں کیسی زندگی گزار رہا ہوں۔ میں نے اپنے کاندھوں پر ہمیشہ ذمہ داریوں کا بارِ گراں اُٹھایا لیکن اچانک مجھے محسوس ہوا کہ ہر کوئی مجھ سے کچھ نہ کچھ چاہتا ہے۔ وہاں کرنے کےلئے کچھ خاص نہیں تھا اور مجھے اپنے طور پر ذمہ داربننے کی ضرورت تھی۔ میں نے اپنے مستقبل کا جائزہ لیا اور یہ دیکھا کہ لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں اور مجھے کن لوگوں کو اہمیت دینی ہے۔ یہ میرے لئے ایک مشکل کام تھا لیکن مجھے اپنے اردگرد موجود کچھ لوگوںسے محتاط رہنا تھا۔ میری ترجیحات کی فہرست میں سب سے اوپرمیرا فن تھا اور میری ماں، باپ، بھائی اور بہنیں اُس کے بعد فہرست میں شامل تھے۔ کلیئرنس کارٹر کے پرانے گیت "Patches"نے مجھے یاد دلایا: جس میں سب سے بڑے بیٹے کو باپ کی وفات کے بعد کھیتوں کی نگرانی کرنے کےلئے کہا جاتا ہے اور اُس کی ماں اُسے بتاتی ہے کہ وہ اُس پر انحصار کر رہی ہے۔یہ بہتر گیت ہے لیکن ہم مزارعے نہیںتھے اور نہ ہی میں بڑا بیٹا تھا اور وہ کاندھے ناتواں تھے جن پر اس قدر بھاری ذمہ داریاں ڈالی گئی تھیں۔ مجھے کچھ خاص وجوہات کی بناءپر ہمیشہ اپنے خاندان اور اُن لوگوں کو انکار کرنا مشکل لگا جن سے میں محبت کرتا ہوں۔ مجھے کچھ کرنے یا کسی چیز کا خیال رکھنے کو کہا گیا اور میں رضامند ہوگیا۔ حتیٰ کہ اس پریشانی کے باوجود کہ وہ کام اُس سے زیادہ مشکل ہے جو میں کر سکتا ہوں۔

میں نے ذہنی دباﺅ محسوس کیا اور اکثر جذباتی ہوگیا۔ ذہنی تناﺅ خوفناک نتائج مرتب کرنے کا باعث بن سکتا ہے، آپ اپنے جذبات کو زیادہ عرصہ تک قید نہیں رکھ سکتے۔ وہاں بہت سارے لوگ ایسے تھے جو حیران ہوئے تھے کہ میری موسیقی سے وابستگی کیونکر قائم ہے جب مجھے ایک فلم میں کام کرکے اپنے ایک نئے شوق کا ادراک ہوا ہے۔ یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ میرا آڈیشن دینے کا فیصلہ ایک نئے بینڈ کی تشکیل کےلئے برے وقت پر سامنے آیا تھا۔ بیرونی لوگوں کو ایسا دکھائی دیتا تھا کہ جیسے ہم آغازکر رہے تھے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اس نے بہتر طریقے سے کام کیا۔

 میں نے ”یہ وہ کچھ ہے جو تم اپنے رویے میں نرم خوئی لاکر حاصل کرسکتے ہیں“ کو کلیہ بناتے ہوئے اُن لوگوںسے جان چھڑائی کیونکہ میں آگاہ تھا کہ میں آئیوری ٹاور میں نہیں رہ رہا اور یہ کہ میں عدم تحفظ اور خدشات کا شکار تھا جیسا کہ دوسرے نوجوان ہوتے ہیں۔ میں پریشان تھا کہ دنیا اور اس کی رعنائیاں مجھے اپنے میدان میں قد آور بننے کی کوشش کرنے سے روک سکتی ہےں۔

ایپک کی اولین البم میں گیمبل اور ہف کا ایک گیت’ ’ ڈریمر“ شامل تھا جس کا خیال یہی تھا اور جب میں نے اسے سناتو مجھے یہ محسوس ہوا کہ وہ یہ گیت مجھے ذہن میں رکھ کر لکھ سکتے تھے۔ میں ہمیشہ خواب و خیال کی دنیا میں رہا تھا۔ میں نے اپنے لئے مقاصد متعین کئے۔ میں چیزوں کی جانب دیکھتا اور تصور کیا کرتا کہ کیا ممکن ہے اور تب اُن سرحدوں کو عبور کرنے کی امید کرتا۔

میں 1979ءمیں 21 برس کا ہوگیا اور اپنے کیریئر کے متعلق تمام تر فیصلے خود کرنے لگا تھا۔ اُس وقت میرے باپ کا میرے ساتھ مینجمنٹ کا معاہدہ ختم ہوگیا اور اگرچہ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا لیکن معاہدے کی دوبارہ تجدید نہیں کی گئی تھی۔

اپنے باپ کو نکالنے کی کوشش کرنا آسان نہیں ہے۔

لیکن مجھے کچھ چیزوں کو اُن کے روایتی طریقہ کار کے مطابق انجام دینا پسند نہیںہے۔ کاروبار اور خاندان کا اختلاط لطیف صورتحال ہو سکتی ہے۔ یہ بہتر ہو سکتا ہے اور بُرا بھی، اس کا انحصار تعلقات پر ہے۔ حتیٰ کہ بہتر وقتوں میں یہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ )جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -